خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابالنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2021
از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2021 0 تبصرے 90 مناظر
91

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

چہرے نہیں نظام کو بدلویہ تو معلوم نہیں کہ یہ نعرہ کس نے اخذ کیا، لیکن یہ وہ نعرہ ہے جو عرصہ دراز سے پاکستان کی فضاؤں میں گونج رہاہے اور تاحال فضاؤں میں معلق ہے اسے رکھنے کے لئے زمین نہیں مل رہی اور دفنا سکتے ہیں کیونکہ یہ چیختا ہی رہے گا۔ جب کہ سرزمین پاکستان سے بہتر اس نعرے کو پناہ دینے کیلئے کوئی اور زمین شائد کرہ عرض پر موجود نہیں۔ کبھی مذکورہ نعرے کی بازگشت بہت اونچی سنائی دیتی ہے اور کبھی یہ حالات و واقعات کے بوجھ تلے دب کر سرگوشیوں میں سنائی دیا جاتا ہے۔ کہیں کہیں دیواروں پر بھی ملے جلے نعروں میں لکھا دیکھائی دیتا ہے اور دیکھائی بھی انہیں دیتا ہے جنھوں نے اس نعرے کو اس جگہ پر پہلے پڑھ رکھا ہوتا ہے۔ نعروں کی پیدائش بھی نظریوں سے ہوتی ہے اور پاکستان کو تبدیلی کے نظرئیے کا سامنا ہمیشہ سے رہا ہے شائد اسی لئے جب عوام کی حالت جواب دے جاتی ہے تو کسی ایسے نعرے کا وجود جنم لیتا ہے۔ جن لوگوں نے نظام کو بدلنے کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہ حالات کے موافق ہونے کے انتظار کے بغیر وقت کی رتھ پر براجمان چلے جارہے ہیں۔ یہ وہ نعرہ ہے جو عالمی سطح پر لگایا جانا چاہئے۔

تنقید برائے اصلاح بہت ضروری ہوتی ہے جو آنکھیں کھولنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ جیساکہ ڈھکے چھپے لفظوں میں لنگر خانوں کی بہتات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔اس سے کچھ مماثلت رکھتے ہوئے منصوبے پچھلی حکومتوں نے ماہانہ رقوم تقسیم کرنے کے سلسلے شروع کئے تھے جن میں سے کچھ جاری بھی ہیں یہاں یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ رقم تقسیم کرنے والے پروگراموں میں بے ضابتگیوں اور بدنظمیوں کے وسیع و عریض شگاف موجود ہیں جن پر پھر کبھی بات کرینگے۔ حکومت وقت نے ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا ہے اور بطورمثال اپنے سامنے رکھا ہے یہ لنگرخانے اور احساس پروگرام (جو بہت وسیع ہے) اسکے بنیادی جز ہیں۔ جسکا مقصد کم از کم ان لوگوں کو جنہیں فوری طور پر نوکریاں فراہم نہیں کی جاسکتیں دو وقت کی روٹی تو مہیہ کردی جائے۔ انسان کائناتی مسلۂ پیٹ کا بھرنا ہی تو ہے جس کیلئے سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے اگر اسکی بنیادی ضرورت کو پورا کر دیا جائے توگمان غالب کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی غلط کام کی طرف نہیں جائے گااور تخریب کی بجائے تخلیق میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ ریاست مدینہ کے تصور کو بھی ہر ممکن مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے، افسوس تو اسوقت ہوتا ہے جب اسلام کا لبادہ اوڑھے لوگ اپنے سیاسی حواریوں کو خوش کرنے کیلئے ایسے بیانات داغ دیتے ہیں جو عام لوگوں کیلئے نقصان کا باعث ہوتے ہیں۔

کیا ہم اس بات کی تائد کرسکتے ہیں کہ ماضی میں حکومتوں نے ایسے فیصلے کئے جو سراسر ذاتی مفادات پر مبنی تھے اور جنکی وجہ سے مستقبل کو برباد کردیا گیا۔ کیا آپ نے اپنے دور میں کبھی سنا ہے کہ پاکستان ریلوے نے منافع بنانا شروع کردیا، پاکستان کی بین الاقوامی ہوائی سروس نے ماضی کی اعلی ترین میعار کی روایات کو واپس اپنا خاصہ بنا لیا، پاکستان اسٹیل مل ایک بار پھر منافع بخش ادارہ بن گیا (اسٹیل مل سے یاد آجاتا ہے کہ صاحب اقتدار کی اسٹیل مل منافع بخش جبکہ پاکستان اسٹیل مل بد ترین خسارے میں) اس ساری صورتحال کے ذمہ دار یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم سے انتقام لیا جا رہاہے۔ ماضی میں کبھی سچ نہیں بولا گیا بلکہ نورا کشتی طرز کی سیاسی باریاں چلتی رہیں عوام کبھی کسی کا جھنڈا اٹھاتے رہے اور کبھی کسی کی خاطر گولیاں اپنے سینے پر کھاتے رہے۔ سب کو دیکھائی دے رہا ہے کہ مزے کرنے والے آج بھی مزے ہی کر رہے ہیں۔ ہم اختلاف کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور تنقید کرنا اپنا پیدائشی فرض سمجھ بیٹھے ہیں۔ لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ عمران خان کی حکومت میں انہیں ضروریات زندگی مفت ملنا شروع ہوجائینگی قطعی ایسا سوچنا حقیقت پسندی پر مبنی نہیں ہے۔آج جونام نہاد سیاسی جتھا (پاکستان جمہوری اتحاد)لوگوں کو اس بات پر اکسا رہا ہے کہ حکومت نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے تو خدارا عام آدمی ان سے اتنا پوچھ لے کہ آپ کے دورے اقتدار نہیں ادوار اقتدار میں کون کون سے علاقوں میں دودھ کی نہریں بہہتی رہیں اور کہاں کہاں من و سلوی تقسیم کیا جاتا رہا۔

بدعنوانی کا کینسر نما عارضہ مہنگی ترین ادویات علاج معالجے سے ٹھیک ہوسکتا ہے اسکے ساتھ پڑوسی ملک کا حمائت یافتہ ٹولہ جو ہماری صفوں میں بطور گھس بیٹھئے موجو د ہیں، دنیا جہان سے نظریاتی اختلافات کا برملا اظہار، اسرائیل کوفلسطین کی آزادی تک تسلیم نا کرنے کا فیصلہ اور کشمیر کی جدوجہد آزادی کی سفارتکاری یہ چند وہ عوامل ہیں جو غربت کو مٹانے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حکومت وقت کے سامنے کھڑے ہیں۔ پاکستان نظریاتی محاذوں پر اپنی فتح کا جھنڈا لہرا چکا ہے،اقوام عالم میں اپنے وجود کا احساس بھرپور اجاگر کرچکا ہے،بستر مرگ پر دوبارہ عمل تنفس بحال کرانے میں کامیاب ہوچکا ہے، دنیا آپ کی سننے پر مجبور ہوگئی ہے، دنیاکے سامنے پاکستان اپنی طاقت کا لوہا منوا چکا ہے عملی طاقت کا مظاہرہ ساری دنیا نے ستائیس فروری کو دیکھا ہے۔

حکومت وقت کی اولین ترجیح عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانا ہے اور اسکے لئے ہر ممکن اور ہر دم کوشاں ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ ذرائع پیدا کئے جائیں جس کا منہ بولتا ثبوت سیاحت کے شعبے پر بھرپور توجہ کا دیا جانا ہے اور اسکا منہ بولتا ثبوت آئے دن وزیر اعظم بذات خود اور دیگر حکومتی اراکین پاکستان میں موجود ایسی تاریخی جگہوں کا دورہ کرتے دیکھائی دیتے جن کو وقت نے مٹی اور دھول میں چھپا دیا تھا۔ اسکے علاوہ تعمیرات کے شعبے کی بھرپور حوصلہ آفزائی کی جارہی ہے کیونکہ اس سے بھی عام آدمی کا روزگار جڑا ہوا ہے۔

اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حالات سازگار نہیں ہیں دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوچکا ہے لیکن دوباتیں حالات کو سمجھنے کیلئے اور ان سے نمٹنے کیلئے بہت ضروری ہیں ایک تو یہ کہ تعلیم، شعور کیساتھ حاصل کریں (کسی کی طے شدہ سوچ کو مسلط ہونے سے روکا جائے)اور دوسرا یہ کہ کوئی بھی فیصلہ بغیر حقائق اورتجربات کے نا سنایا جائے یا کیا جائے۔ قوم کو تدبیر اور تدبر پر عمل کرنا ہوگا۔ کون ہمارے دھیان کو بھٹکانے کی کوشش کر رہا اور کون ہمارے دھیان پر اکسا رہا ہے۔ قوموں کی ترقی میں فیصلوں کی بڑی اہمیت ہے اور ان فیصلوں پر قوموں کا ردعمل قوم کے وقار کی ضمانت ہے، ان سب باتوں کیلئے ضروری ہے کہ دھیان رکھیں اپنی صفوں میں اپنی حدوں میں۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ کچھ وقت اپنے آپ کو دینا چاہئے جس سے انکی مراد یہ ہوتی ہے کہ سکون کا سانس لیجئے پھر دیکھئے کہ کون کیا کررہا ہے بھاگ دوڑ میں لگانے والے کون ہیں اور جو آج بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ بھاگ دوڑ لگی ہی رہے۔ لنگرخانے اسوقت تک چلنے دیجئے جب تک وہ وقت نہیں آجاتا جب ان لنگر خانوں کو اسلئے بند کرنا پڑ جائے گا کہ یہاں کھانا کھانے والے اپنے اپنے کارخانوں میں مصروف عمل ہوجائینگے اور اپنا کھانا پینا اپنے بال بچوں کیساتھ کرینگے۔ ریاست مدینہ کا قیام عمل میں آجائے گا۔ پھر نظام بدل جائے گا پھر چہروں سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔

یہاں فیض احمد فیض صاحب کی نظم سماعتوں میں گونجنے لگتی ہے جس کا عنوان ہے ہم دیکھیں گے۔انشااللہ

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہ کارِ خیر ہے،اسکو نہ کارِ بد سمجھو
  • کچے مکانات، کچے وعدے
  • جمعِ قرآن پر اعتراضات کا جائزہ
  • بابا کی گڑیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مارچ میں مارچ
پچھلی پوسٹ
خواتین کا عالمی دن

متعلقہ پوسٹس

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی

جنوری 3, 2020

اہل منصب ، دکھاوا اور انجام

جون 10, 2024

ہم ایک دن نکل آئے تھے

مئی 28, 2024

عدم برداشت

ستمبر 4, 2025

روشن ستارہ

جون 28, 2020

دنیا! ہالی وڈ کا اسٹوڈیو بن گئی ہے

اپریل 18, 2020

ہماری ضِد ہے

نومبر 21, 2025

یہی نہیں کہ فقط شاعری دھڑکنے لگی

مارچ 3, 2022

اقبالؒ اپنے خواب کی تعبیر دیکھ لے

اپریل 21, 2020

شلجم

جنوری 12, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہمالیہ کی چوٹی

فروری 8, 2025

آنکھ میں مقدارِ خوش بینی زیادہ...

جون 3, 2020

سفر سفر میں چلیں گے ،ترا...

نومبر 30, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں