خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابالنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2021
از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2021 0 تبصرے 67 مناظر
68

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

چہرے نہیں نظام کو بدلویہ تو معلوم نہیں کہ یہ نعرہ کس نے اخذ کیا، لیکن یہ وہ نعرہ ہے جو عرصہ دراز سے پاکستان کی فضاؤں میں گونج رہاہے اور تاحال فضاؤں میں معلق ہے اسے رکھنے کے لئے زمین نہیں مل رہی اور دفنا سکتے ہیں کیونکہ یہ چیختا ہی رہے گا۔ جب کہ سرزمین پاکستان سے بہتر اس نعرے کو پناہ دینے کیلئے کوئی اور زمین شائد کرہ عرض پر موجود نہیں۔ کبھی مذکورہ نعرے کی بازگشت بہت اونچی سنائی دیتی ہے اور کبھی یہ حالات و واقعات کے بوجھ تلے دب کر سرگوشیوں میں سنائی دیا جاتا ہے۔ کہیں کہیں دیواروں پر بھی ملے جلے نعروں میں لکھا دیکھائی دیتا ہے اور دیکھائی بھی انہیں دیتا ہے جنھوں نے اس نعرے کو اس جگہ پر پہلے پڑھ رکھا ہوتا ہے۔ نعروں کی پیدائش بھی نظریوں سے ہوتی ہے اور پاکستان کو تبدیلی کے نظرئیے کا سامنا ہمیشہ سے رہا ہے شائد اسی لئے جب عوام کی حالت جواب دے جاتی ہے تو کسی ایسے نعرے کا وجود جنم لیتا ہے۔ جن لوگوں نے نظام کو بدلنے کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہ حالات کے موافق ہونے کے انتظار کے بغیر وقت کی رتھ پر براجمان چلے جارہے ہیں۔ یہ وہ نعرہ ہے جو عالمی سطح پر لگایا جانا چاہئے۔

تنقید برائے اصلاح بہت ضروری ہوتی ہے جو آنکھیں کھولنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ جیساکہ ڈھکے چھپے لفظوں میں لنگر خانوں کی بہتات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔اس سے کچھ مماثلت رکھتے ہوئے منصوبے پچھلی حکومتوں نے ماہانہ رقوم تقسیم کرنے کے سلسلے شروع کئے تھے جن میں سے کچھ جاری بھی ہیں یہاں یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ رقم تقسیم کرنے والے پروگراموں میں بے ضابتگیوں اور بدنظمیوں کے وسیع و عریض شگاف موجود ہیں جن پر پھر کبھی بات کرینگے۔ حکومت وقت نے ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا ہے اور بطورمثال اپنے سامنے رکھا ہے یہ لنگرخانے اور احساس پروگرام (جو بہت وسیع ہے) اسکے بنیادی جز ہیں۔ جسکا مقصد کم از کم ان لوگوں کو جنہیں فوری طور پر نوکریاں فراہم نہیں کی جاسکتیں دو وقت کی روٹی تو مہیہ کردی جائے۔ انسان کائناتی مسلۂ پیٹ کا بھرنا ہی تو ہے جس کیلئے سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے اگر اسکی بنیادی ضرورت کو پورا کر دیا جائے توگمان غالب کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی غلط کام کی طرف نہیں جائے گااور تخریب کی بجائے تخلیق میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ ریاست مدینہ کے تصور کو بھی ہر ممکن مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے، افسوس تو اسوقت ہوتا ہے جب اسلام کا لبادہ اوڑھے لوگ اپنے سیاسی حواریوں کو خوش کرنے کیلئے ایسے بیانات داغ دیتے ہیں جو عام لوگوں کیلئے نقصان کا باعث ہوتے ہیں۔

کیا ہم اس بات کی تائد کرسکتے ہیں کہ ماضی میں حکومتوں نے ایسے فیصلے کئے جو سراسر ذاتی مفادات پر مبنی تھے اور جنکی وجہ سے مستقبل کو برباد کردیا گیا۔ کیا آپ نے اپنے دور میں کبھی سنا ہے کہ پاکستان ریلوے نے منافع بنانا شروع کردیا، پاکستان کی بین الاقوامی ہوائی سروس نے ماضی کی اعلی ترین میعار کی روایات کو واپس اپنا خاصہ بنا لیا، پاکستان اسٹیل مل ایک بار پھر منافع بخش ادارہ بن گیا (اسٹیل مل سے یاد آجاتا ہے کہ صاحب اقتدار کی اسٹیل مل منافع بخش جبکہ پاکستان اسٹیل مل بد ترین خسارے میں) اس ساری صورتحال کے ذمہ دار یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم سے انتقام لیا جا رہاہے۔ ماضی میں کبھی سچ نہیں بولا گیا بلکہ نورا کشتی طرز کی سیاسی باریاں چلتی رہیں عوام کبھی کسی کا جھنڈا اٹھاتے رہے اور کبھی کسی کی خاطر گولیاں اپنے سینے پر کھاتے رہے۔ سب کو دیکھائی دے رہا ہے کہ مزے کرنے والے آج بھی مزے ہی کر رہے ہیں۔ ہم اختلاف کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور تنقید کرنا اپنا پیدائشی فرض سمجھ بیٹھے ہیں۔ لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ عمران خان کی حکومت میں انہیں ضروریات زندگی مفت ملنا شروع ہوجائینگی قطعی ایسا سوچنا حقیقت پسندی پر مبنی نہیں ہے۔آج جونام نہاد سیاسی جتھا (پاکستان جمہوری اتحاد)لوگوں کو اس بات پر اکسا رہا ہے کہ حکومت نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے تو خدارا عام آدمی ان سے اتنا پوچھ لے کہ آپ کے دورے اقتدار نہیں ادوار اقتدار میں کون کون سے علاقوں میں دودھ کی نہریں بہہتی رہیں اور کہاں کہاں من و سلوی تقسیم کیا جاتا رہا۔

بدعنوانی کا کینسر نما عارضہ مہنگی ترین ادویات علاج معالجے سے ٹھیک ہوسکتا ہے اسکے ساتھ پڑوسی ملک کا حمائت یافتہ ٹولہ جو ہماری صفوں میں بطور گھس بیٹھئے موجو د ہیں، دنیا جہان سے نظریاتی اختلافات کا برملا اظہار، اسرائیل کوفلسطین کی آزادی تک تسلیم نا کرنے کا فیصلہ اور کشمیر کی جدوجہد آزادی کی سفارتکاری یہ چند وہ عوامل ہیں جو غربت کو مٹانے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حکومت وقت کے سامنے کھڑے ہیں۔ پاکستان نظریاتی محاذوں پر اپنی فتح کا جھنڈا لہرا چکا ہے،اقوام عالم میں اپنے وجود کا احساس بھرپور اجاگر کرچکا ہے،بستر مرگ پر دوبارہ عمل تنفس بحال کرانے میں کامیاب ہوچکا ہے، دنیا آپ کی سننے پر مجبور ہوگئی ہے، دنیاکے سامنے پاکستان اپنی طاقت کا لوہا منوا چکا ہے عملی طاقت کا مظاہرہ ساری دنیا نے ستائیس فروری کو دیکھا ہے۔

حکومت وقت کی اولین ترجیح عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانا ہے اور اسکے لئے ہر ممکن اور ہر دم کوشاں ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ ذرائع پیدا کئے جائیں جس کا منہ بولتا ثبوت سیاحت کے شعبے پر بھرپور توجہ کا دیا جانا ہے اور اسکا منہ بولتا ثبوت آئے دن وزیر اعظم بذات خود اور دیگر حکومتی اراکین پاکستان میں موجود ایسی تاریخی جگہوں کا دورہ کرتے دیکھائی دیتے جن کو وقت نے مٹی اور دھول میں چھپا دیا تھا۔ اسکے علاوہ تعمیرات کے شعبے کی بھرپور حوصلہ آفزائی کی جارہی ہے کیونکہ اس سے بھی عام آدمی کا روزگار جڑا ہوا ہے۔

اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حالات سازگار نہیں ہیں دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوچکا ہے لیکن دوباتیں حالات کو سمجھنے کیلئے اور ان سے نمٹنے کیلئے بہت ضروری ہیں ایک تو یہ کہ تعلیم، شعور کیساتھ حاصل کریں (کسی کی طے شدہ سوچ کو مسلط ہونے سے روکا جائے)اور دوسرا یہ کہ کوئی بھی فیصلہ بغیر حقائق اورتجربات کے نا سنایا جائے یا کیا جائے۔ قوم کو تدبیر اور تدبر پر عمل کرنا ہوگا۔ کون ہمارے دھیان کو بھٹکانے کی کوشش کر رہا اور کون ہمارے دھیان پر اکسا رہا ہے۔ قوموں کی ترقی میں فیصلوں کی بڑی اہمیت ہے اور ان فیصلوں پر قوموں کا ردعمل قوم کے وقار کی ضمانت ہے، ان سب باتوں کیلئے ضروری ہے کہ دھیان رکھیں اپنی صفوں میں اپنی حدوں میں۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ کچھ وقت اپنے آپ کو دینا چاہئے جس سے انکی مراد یہ ہوتی ہے کہ سکون کا سانس لیجئے پھر دیکھئے کہ کون کیا کررہا ہے بھاگ دوڑ میں لگانے والے کون ہیں اور جو آج بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ بھاگ دوڑ لگی ہی رہے۔ لنگرخانے اسوقت تک چلنے دیجئے جب تک وہ وقت نہیں آجاتا جب ان لنگر خانوں کو اسلئے بند کرنا پڑ جائے گا کہ یہاں کھانا کھانے والے اپنے اپنے کارخانوں میں مصروف عمل ہوجائینگے اور اپنا کھانا پینا اپنے بال بچوں کیساتھ کرینگے۔ ریاست مدینہ کا قیام عمل میں آجائے گا۔ پھر نظام بدل جائے گا پھر چہروں سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔

یہاں فیض احمد فیض صاحب کی نظم سماعتوں میں گونجنے لگتی ہے جس کا عنوان ہے ہم دیکھیں گے۔انشااللہ

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہرنام کور
  • روشنی میں بھٹکتا جگنو
  • ” قلم کتاب “ دنیا کی ایک تاریخ ساز کتاب
  • از جہانِ گم گشتہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مارچ میں مارچ
پچھلی پوسٹ
خواتین کا عالمی دن

متعلقہ پوسٹس

حامد کا بچہ

جنوری 12, 2020

پھر ترا ذکرِ چلے

نومبر 7, 2021

منگنی کی خوشیاں

اپریل 4, 2026

میں اپنے آپ کو پہچاننے سے قاصر ہوں

نومبر 8, 2025

ڈرپوک

جنوری 15, 2020

وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے

مئی 15, 2020

بارِ خاک

دسمبر 10, 2024

غزہ کی پکار

اپریل 7, 2025

حافظ نعیم صاحب کو سلام

جنوری 30, 2026

گرے بلیک لسٹ کی دلدل اور پاکستان

مارچ 18, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حاشیہ

دسمبر 18, 2019

نیند کرتے ہیں مر نہیں جاتے

جون 13, 2020

بے بسی کا نوحہ

مارچ 27, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں