خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکچھ رہ جانے والی باتیں
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

کچھ رہ جانے والی باتیں

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن جنوری 23, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 23, 2020 0 تبصرے 337 مناظر
338

کچھ رہ جانے والی باتیں

وقت کی تنگی نہیں تھی کہ میں جو کہنا چاہتی تھی کہہ نہ پائی یا ٹھیک سے کہہ نہ پائی مگر حالات ضرور تنگ ہو گئے تھے۔ یہ قصہ ہے میری کتاب” گمشدہ سائے “کی تقریب ِ رونمائی کا۔ رونمائی ڈاکٹر خالد سہیل کر رہے تھے اور کتاب جس کا گھونگٹ اٹھا یا جا رہا تھا وہ میری تھی، دو باغیوں کا معاملہ ہو تو بات رسم و رواج سے آگے نکل جاتی ہے۔ اس ادبی محفل کا مزاج بھی بس کچھ ایسا ہی تھا۔مگر اس ساری گہما گہمی میں بھی ایک ضابطہ ضرور تھا۔ انتہائی سردی اور برف باری کے باوجود برنمتھروپ کمیونٹی سنٹر کا ہال لوگوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ کوئی موسیقی کاانتظام کیا ہو جس سے ادب سے کم دلچسپی یا بالکل بھی دلچسپی نہ رکھنے والوں کو متوجہ کیا جا سکے، یا ایک رواج کے مطابق لوگ اکھٹے کرنے کو مشاعرہ رکھ دیا ہو کہ اور کوئی آئے نہ آئے شاعر تو اپنی غرض کو آئیں گے ہی۔یا کھانا رکھ دیا جائے کہ اور کچھ نہیں لوگ لنچ کا انتظام ہوجانے پر ہی اکھٹے ہو جائیں گے جیسے کہ ہمارا ایک گینگ شہر میں ہونے والے فنکشنز کو یوں بیان کرتا ہے کہ ہفتے کے ڈنر کا انتظام ہو گیا اب دیکھو سنڈے کے لنچ کا کیا کرنا ہے (سٹوڈنٹ لائف کے بعد ایسا گروپ مل جانا قدرت کی طرف سے ایک بونس کے سوا کچھ نہیں)۔تو یہ سب لوگ، جو کرسیاں نہ ملنے پر پیچھے دیواروں سے ٹیک لگائے کھڑے تھے اور پروگرام وہ بھی کتاب کی رونمائی کا پو رے انہماک سے سن رہے تھے، صرف گمشدہ سائے( کتاب) کی تلاش میں آئے تھے اور میرے لئے آئے تھے یہ سوچ کر ابھی میں جذباتی ہو نے ہی والی تھی کہ میرے پیروں کے نیچے سے زمین تو نہیں مگر کیمرے کی تاریں کھینچ لی گئیں، میں جو عبداللہ (میرے بیٹے) کی تقریر پر کان دھرے بیٹھی تھی کہ کہیں ماما کے خلاف نہ کچھ بول دے آجکل کے بچوں کا کیا بھروسہ موقعے کی تاک میں ہو تے ہیں، مثال کے طور پرجب کسی سے فون پر بات کر رہے ہوں تو یہ پیسے مانگنے یا کوئی ایسی اجازت مانگنے سر پر آکھڑے ہو تے ہیں کہ غور سے سننے کا موقع ہو تو انہیں اس بات کی کبھی اجازت نہ ملے، بے دھیانی میں ہاں نکلوا کر دم لیتے ہیں تو ایسے بچوں پر دم بھر کا اعتبار نہیں اسی وجہ سے میری پو ری توجہ اس کی تقریر پر تھی جب میرے پاؤں کے نیچے سے تاریں کھسکنے کا سانحہ ہوا۔میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اپنے ٹورنٹو کے مشہو ر و معروف کیمرہ مین اور جب موڈ اور موقع ہو تو اینکر پرسن بھی بن جاتے ہیں، (پاکستان کے صحافی جاوید چوہدری جب آئے تھے تو تب میں نے ان کے یہ گوہر دیکھے تھے اور اس کے بعدجاوید چوہدری کے بارے میں میری رائے بس یہاں تک محدود ہو کے رہ گئی تھی کہ اس کے لئے ہمارے صابر گایا ہی کافی ہیں) یہ اکھاڑ پچھاڑ کر رہے تھے۔ صابر گایا بالوں میں پو نی باندھے بہت محبت سے بات کرتے ہیں مگر صرف اس وقت تک جب تک کو ئی ان کو چھیڑ نہ دے۔تو یہاں بھی شائد یہ معاملہ ہو چکا تھا۔ گایا صاحب چینل 360کے لئے خصوصی طور پر ریکارڈنگ کرنے آئے تھے، اور ہم سب سے پہلے آکر وہ ویڈیو کیمرہ ایک جگہ پر نصب کر چکے تھے (ہر پروفیشنل کیمرہ مین کا یہی انداز ہو تا ہے)۔گایا صاحب کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ فیس بک پر پروگرام لائیو کر دیتے ہیں توجو اس تقریب میں نہیں موجود ہو تے وہ بھی محظوظ ہو جاتے ہیں۔۔ خیر ڈاکٹر خالد سہیل،شاہد اختر،سید حیدر حسین، محمد رضوان، میری بیٹی علینہ کی تقریریں اور نسرین سید صاحبہ کی میرے پر پڑھی گئی خوبصورت نظم۔۔یہ سب آن ائیر جا چکا تھا۔۔ افتاد ٹوٹی تو عبداللہ کی تقریر کے دوران جو صرف دو منٹ کی تھی اور ابھی گایا صاحب کا تاریں اور مائیک اکھاڑنے کا عمل جاری و ساری تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ عبداللہ معصوم یہ سب ہو تے دیکھ کر گھبرا نہ جائے، مجھے اس کی فکر ہو رہی تھی کہ میری باری بھی آگئی۔ میں ابھی ان حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جس کی بنا پر گایا صاحب لال پیلے ہو کر ہمارے ہاتھ پاؤں نیلے کر رہے تھے۔۔سب غصے سے نکال کر جب انہوں نے غصے سے جس صاحب کی طرف جا تے جاتے دیکھا تو وہ اپنے پرویز صلاح الدین تھے۔۔ یعنی کہ انہیں بڑھکانے کا سہرا ان کے سر تھا اور پھر بعد میں وہاں بیٹھے گواہوں کے بیانات کے مطابق یہ معلوم ہوا کہ گایا صاحب، پرویز صاحب کو بار بار ان کے لگائے گئے کیمرے کے آگے آنے سے منع کر رہے تھے کہ اگر انہیں تصویریں لینی ہیں تو سائیڈ سے لیں یا کم از کم میرے کیمرے کے آگے نہ آئیں۔مگر پرویز صاحب کو انہی کے کیمرے کے آگے آنا تھا، پہلی دفعہ شائد غیر ارادی طور پر مگر جب منع کیا گیا تو پھر ارادے اور بھی مضبوط ہو ئے اوپھر شائد شرارتی طور پر وہی کیا جو دل میں سمایا اور پھر گایا صاحب نے بھی وہی کیا جو ان کا دل کیا۔ مگر ہم جو سٹیج پر بڑے سج دھج کے معزز بن کے بیٹھے تھے، ہمارے دل کی دھڑکن تو تیز ہو گئی کیونکہ ماشاللہ ٹورنٹو کی تقریبات میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اناؤں کی ایسی بڑی بڑی لڑائیاں ہو تے دیکھی ہیں کہ لڑتے لڑتے ہو گئی گم۔۔ ایک کی چونچ اور ایک کی دم۔۔۔ کرسیاں بھی چل جاتی ہیں اور سر بھی پھٹ جاتے ہیں۔اس کے تصور سے ہی مجھ پر تقریبا تقریبا لرزاں طاری ہو گیا۔۔ اس تصور کو میں نے جھٹلایا اور پرویز صاحب کی سمجھداری کو یاد کرنے کی ناکام کوشش کی۔۔۔
خیر یہ سب قصہ بتانے کا مقصد نہ کوئی عدالت لگانا ہے نہ کوئی فیصلہ سنانا ہے بلکہ اپنا غم سنانا ہے کہ ایسی کامیاب تقریب اتنی خوبصورت تقریریں کہ سامعین جن کاتعلق ادب سے تھا وہ بھی اور جن کا بے ادبی سے وہ بھی سب اپنی اپنی کرسیوں پر یوں دلجمعی سے سن رہے تھے کہ اس سے زیادہ روحانی نظارہ نہ کبھی دیکھا نہ سنا ۔اور میں ان سامعین کو اور متاثر کر سکتی تھی اور ماحول میں روحانیت کا اضافہ ہو سکتا تھا اگر اوپر والا واقعہ عین میری تقریر سے پہلے رونما نہ ہوا ہو تا، ایک آدھ تقریر پہلے بھی ہو چکا ہوتا تو شائد مجھے سنبھلنے کا موقع مل جاتا اور میرا منہ اتنا خشک نہ ہو تا جتنا ہوا اور میں اتنی باتیں نہ بھولتیں جتنی میں بھولی۔۔ خیر جو باتیں بہت اہم تھیں اور کر نے کو رہ گئی تھیں، اسے قلم بند کرنے کا سوچا ہے کہ بول نہ سکے تو کیا ہے کہ لکھنے سے کون روک سکتا ہے۔
اپنے دوردراز انگلینڈ میں بیٹھے ریڈیالوجسٹ دوست ڈاکٹر ساجد کے بارے میں کچھ کہنے کو مس ہو گیا ایک تو یہ کہنا تھا کہ” ایک ڈاکٹر اوپر سے بٹ اور پھر بھی میرے ادبی اور قلمی دوست، پھر اندھیرے میں سارا دن ایکسریز کی رپورٹس پڑھنے کے بعد بھی ایسا روشن چہرہ اور اعلی دماغ میرے لئے ایک سورس آف انسپائریشن ہے۔ان کی دوستی کسی غرض یا مفاد سے نہیں بندھی اگر کوئی غرض ہو گی تو اتنی ہی کہ ایک جیسے دماغ کے لوگ کہیں بھیڑ میں کھو نہ جائیں۔۔۔۔ ”
میرے دل کی اتھل پتھل میں ایک اور شخصیت پر بات نامکمل رہ گئی اور وہ ہیں رشید مغل صاحب، ان کی کتابوں کی شیلف کا ذکر تو کر دیا مگر یہ کہنا رہ گیا کہ وہ مجھے نہ صرف کتابوں کا تحفہ دیتے رہتے ہیں بلکہ نوٹ بکس کے ڈھیر، بال پن، پنسلیں اور ہر وہ چیز مجھ ناچیز کو دیتے رہتے ہیں جن میں وہ مشورے بھی شامل ہیں، جو میرے لکھنے کے عمل کو نہ صرف جاری رکھ سکیں بلکہ تیز بھی کر دیں۔ایک تھا شاعر افسانہ جس کا ذکر تقریبا ہر ایک نے اپنی تقریر میں کیا، وہ انہی کی شے پر میں نے لکھا تھا۔ میں جب انہیں کوئی بھی بات یا گپ شپ سناتی ہوں تو کہتے ہیں بس بول نہ، لکھ دے،یہ سب لکھ دے۔۔اور یہ کہ تم کہانیوں کی کان پر بیٹھی ہو بس نکال نکال کر لوگوں کو سناتی رہو۔یہ بہت اہم ذکر تھا جو ہونے سے رہ گیا۔۔ کیونکہ دو ہاتھیوں (انا ہاتھی ہی ہو تی ہے) کی لڑائی میں میرا ننھا منا سا دل مسلا گیا تھااور میں اسے بمشکل سنبھالے ہو ئے تھی کہ جذبات کو چھپانے کا پرانا تجربہ تو ہے کہ آنسوؤں کے درمیان ہنسی ہنسنا کوئی ہم سے سیکھے۔غصے کے ساتھ قہقہ لگانے میں بھی مہارت تھی مگر اب عمر بڑھ رہی ہے تو یہ صلاحیتیں کم ہو رہی ہیں۔۔ ضبط کرتے کرتے یہ حال ہے کہ بس اب مرضی کے خلاف کچھ بھی ہو رہا تو لگتا ہے بہت ظلم ہو رہا ہے۔۔۔اور حلق خشک ہو نے لگتا ہے۔
اس ہلکی پھلکی جھنکار کے باوجود کہنے والوں نے کہا کہ کتاب کی ایسی شاندار تقریب ہم نے اس شہر میں کبھی نہیں دیکھی۔ دو ردراز سے آئے دوستوں کی محبت کا ذکر کر بھی دیا مگر عدیل صدیقی اور درخشاں صدیقی اور سیلم خان اور سعدیہ خان کا ذکر رہ گیا۔
نسرین سید میری ہر کتاب کی تقریب میں محبت کے ساتھ نہ صرف بڑھ چڑھ کر کام کرتی ہیں بلکہ تحفہ بھی لاتی ہیں اور سب سے خوبصورت تحفہ اپنی نظم کی صورت بھی پیش کرتی ہیں۔۔ ایسے پیار کرنے والے لوگ۔۔ہماری پیاری شاعرہ دوست صفیہ مریم جو کچھ عرصہ پہلے ہی طویل بیماری کے بعد ہم سے بچھڑ گئی تھیں انہیں یاد کرنا تھا کہ ان کے شوہر اعجاز رانا بہت دور سے صفیہ کی کمی پو را کر نے تشریف لائے تھے، یہ اور بات ہے کہ انہیں دیکھ کر صفیہ کی یاد اور بھی بری طرح آئی اور میں نے سوچا کاش ایک پل ہی کو سہی وہ آسکتی۔انسان مر جاتے ہیں مگر یہ سب محبتیں زندہ رہتی ہیں تو نفرتوں کو کیوں پالنا اورمسکراہٹیں دلوں میں نرمی پیدا کرتی ہیں تو آنکھوں میں گھوریوں کو کیوں ڈالنا۔
یہ تقریب صرف کتاب کی رونمائی کی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ محبتوں، دوستیوں اور اللہ کی رحمتوں کی رونمائی بھی تھی۔ مظہر شفیق کا خصوصی بہت خصوصی شکریہ ادا کرنا تھا کہ وہ ہر دل عزیز شخصیت ہیں اورسارے شہر کی جان ہیں اور ان کی وجہ سے میرے بھی دوستوں میں اضافہ اور دشمنوں میں کمی ہو رہی ہے۔۔ مجھے اس دنیا کے ڈھب سے جینا سکھانے میں ان کا اہم کردار ہے کہ جس کا ثبوت وہی دوستوں سے بھرا ہال اور خلوص بھرے دل تھے۔
ڈاکٹر خالد سہیل نے جس محبت اور خلوص کے ساتھ اس تقریب کا اہتمام کیا وہ بھی قابل ذکر ہے۔ پرویز صلاح الدین اور رفیق سلطان صاحب ان کے دائیں بائیں بازو ہیں۔ہمارے بھی دوست ہیں۔۔ ان کا بھی بہت شکریہ کہنا تھا۔۔۔
فیصل محمود نے درواز ے پر کھڑے کھڑے نہ صرف پو ری تقریب سنی بلکہ آنے جانے والوں پر بھی کڑی نظر رکھی۔۔یہ تو مذاق کی بات ہے مگر رات کو جب میں سونے کے لئے بیڈ پر لیٹ رہی تھی تو تھکاوٹ سے برا حال تھا حالانکہ میں تو ذیادہ تر کرسی پر ہی چڑھی بیٹھی رہی تھی، مجھے ان سب لوگوں کا خیال آیا جنہیں کر سی نہ ملنے کی وجہ سے کھڑا ہونا پڑا اور فیصل کا سب سے زیادہ کہ وہ تو شائد ایک پل بھی نہیں بیٹھے تھے۔ یہ سوچتے ہی میں انہیں دنیا کا عظیم شوہر سمجھنے ہی والی تھی کہ ان کے تیز خراٹوں نے مجھے فورا اپنا خیال بدلنے پر مجبور کر دیا۔۔۔
ہنستے رہیں۔۔ خوش رہیں یہ نہیں کہ ہر طرف خوشی ہی خوشی ہے بلکہ اس لئے کہ آپ میں غمی میں بھی خوشی دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خونی تھوک
  • اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا
  • یہ پریشانی مبارک ہو!
  • جذبوں کا شاعر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر
پچھلی پوسٹ
راتیں سمیٹ لوں گا سحر چھوڑ جاوْں گا

متعلقہ پوسٹس

قومی یکجہتی اور اردو زبان

اگست 22, 2025

چنبیلی

دسمبر 23, 2021

مندر والی گلی

جون 14, 2020

پانی میں ستی

مارچ 15, 2023

روشنی کے اندر زندگی

نومبر 24, 2024

کوئی فرق نہیں پڑتا

فروری 16, 2019

غلطی بانجھ نہیں ہوتی

دسمبر 20, 2019

چراغ تلے خاموشی

دسمبر 22, 2024

پرواز کے بعد

جنوری 3, 2020

سفید خون

مئی 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تخم بالنگا یا تخم ملنگا

دسمبر 20, 2021

خَیْرُ النَّاسِِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس

اگست 5, 2025

اہرام کا میر محاسب

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں