خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرشادی کی دعوت
اردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

شادی کی دعوت

سید محمد زاہد کا اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019 0 تبصرے 639 مناظر
640

شادی کی دعوت

شادیوں میں کھانے (ون ڈش) اوررات دس بجے تک وقت کی پابندی سے کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ۔ قدیم یونان، قرون اولیٰ، عباسی، مغل ادوار اور پنجاب سے مثالیں۔ تاریخی طور پر کیا یہ پابندیاں مناسب ہیں، اور اس قانون سے عوام الناس پہ کیا اثرات ہورہے ہیں

آج کل پاکستان میں شادیوں کا سیزن چل رہا ہے۔ خاندانوں کی زندگی میں شادی سب سے اہم موقع ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شادی صرف دو افراد کے نکاح کا نام نہیں بلکہ دو خاندانون کے لٰے مسرت کا وہ وقت ہے جس کا انہوں نے شاٰٰید سالوں انتظار کیا ہو۔ شادی کی تیاری میں سال ہا سال لگتے ہیں۔ رشتہ دار اور دوست احباب مہینوں اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ رشتہ ڈھونڈنے سے لے کر دلہن کے پیا کے گھر پہنچنے تک بے شمار رسومات ادا کی جاتی ہیں اور ان میں سینکڑوں لوگ حصہ لیتے ہیں شادی کی بڑی تقریبات مہندی بارات اور ولیمہ ہوتی ہیں۔ یہ تقریبات شہروں میں زیادہ تر رات کے وقت ہوتی ہیں۔ رات کی شادی کاروا ج بہت پرانا ہے۔

زمانہ قدیم کے یونانی سردیوں کی رات میں شادی کرنا پسند کرتے تھے۔ جنوری کا مہینہ ان کا پسندیدہ تھا۔ یہ ہیرا دیوی اور زیوس کی شادی کی وجہ سے متبرک گنا جاتا تھا۔ یونانی پورے چاند کی راتوں کو شادی کرنا زیادہ اچھا سمجھتے تھے۔ ان کی شادیاں دیر تک چلتی تھیں۔ رات کی شادی میں سب سے بڑا مسٰلہ وقت کا زیادہ ہو جانا ہوتا ہے ہمارے ہاں باراتیں اکثر لیٹ ہوجاتی ہیں۔ ہماری حکومت نے وقت رات دس بجے تک مقرر کر رکھا ہے۔

بارات اکثر آٹھ بجے کے بعد آتی ہے، ابھی نکاح یا کھانا جاری ہوتا ہے کہ حکومتی نمایندے یا شادی ہال والے باہر کا رستہ دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ رخصتی، خاندانوں کے لیے جذباتی موقع ہوتا ہے اس وقت لوگ لڑکی والوں کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کے اقدامات کرتے ہیں۔ شہزادہ سلیم جب راجہ بھگوان داس کی بیٹی کو بیاہنے گیے تو عظیم مغل شہنشاہ اکبر اور دلہا خود ڈولی ا ٹھا کر لایے۔ ہماری شادیوں میں اکثر دیر ہوجانے کی وجہ سے یہ رسم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ شادی کا مطلب صرف نکاح یا رخصتی نہیں ہمارے لیے یہ سالوں بعد ملی خوشی منانے کا موقع اور ماں باپ کے سال ہا سال سے دیکھے خوابوں کی تعبیر کا وقت ہوتا ہے۔ یہ حکومتی حکم نہ صرف ہماری خوشیوں کے رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے بلکہ ماں باپ کے خوابوں کوبھی چکنا چور کر رہا ہے۔

یونانیوں کی شادی کی تقریبات تین دن چلتی تھی۔ وارث شاہ نے لکھا ہے کہ ہیر کی بارات کئی دن ٹھہری تھی۔ باراتیوں کی خوشی کے لیے ان دنوں میں مختلف قسم کے پروگرام ہوتے تھے جو دونوں خاندانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد گار ہوتے۔ قدیم یونان میں بھی دلہے والے دلہن کے لیے بہت سے تحائف لاتے تھے اور گانے ڈانس اور کھیلوں میں مقابلہ کر کے لڑکی والوں کا دل جیتتے تھے۔ ان کے کھانے بہت بڑے بڑے ہوتے تھے جس میں گوشت دودھ سبزیاں شراب مچھلی سب شامل ہوتا تھا۔

مسلمانوں کے ابتدائی دور میں ولیمہ کی بڑی دعوتوں کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت عبدالرحمان بن عوف کے ولیمہ میں مختلف قسم کے کھانے پیش کیے گیے۔ خلیفہ مامون الرشید کی بوران (یا خدیجہ) بنت الحسن گورنر ایران سے شادی، عباسی دور کی اہم شادی گنی جاتی ہے اس میں مامون الرشید نے ابن خلدون کے مطابق اس کو ایک ہزار قیمتی پتھر روبی تحفہ میں دیے۔ اس شادی پر دلہن کے باپ کے ایک سو چالیس خچر پورا سال دن میں تین بار لکڑی جنگل سے لے کر آتے رہے یہ تمام لکڑی صرف ایک دن بارات کاکھانا پکانے کے کام آئی۔

وارث شاہ نے پنجاب کی باراتوں کے کھانے سینکڑوں کی تعداد میں لکھے ہیں۔ جس میں طرح طرح کی مٹھائیاں گوشت دودھ دالیں چاول پھل شامل تھے۔ شادی کی دعوت کے ان کھانوں کی ایک خصوصی اہمیت ہے اور ان کے متعلق بھی صدیوں سے لکھا جا رہا ہے۔

آٹھ سو سال قبل مسیح کا لکھاری ہیسویڈ ایک اچھے کھانا کا بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ اس میں دہی، بکریوں کا دودھ، ایسی بچھیا کا گوشت جو کہ جنگلات میں پلی ہو اور اس نے کبھی بچہ نہ جنا ہو، اور مجھے صاف چمکدار شراب بھی دو۔ اور ایسا بکرا جو ماں نے پہلی بار جنا ہو۔

قدیم یونانی مصنف پلوٹارک اپنی تحریر ٹیبل ٹاک میں سوال پوچھتا ہے کہ لوگ دوسری دعوتوں کی نسبت شادیوں میں زیادہ مہمان کیوں بلاتے ہیں؟ وہ لکھتا ہے کہ اس کے بیٹے کی شادی میں ایک مہمان کیرونیا نے یہ سوال اٹھایا۔ وہ کہتا ہے۔ حالانکہ یہ سچ ہے کہ شاہانہ خرچوں کے خلاف مہم چلانے والے قانون ساز مہمانوں کی تعداد پر پابندی لگانے کی بات کرتے ہیں۔ دوسرا مہمان سینیسؤ جواب دیتا ہے کہ فلاسفر ہیکاٹیس کا خیال ہے کہ یہ لوگ جم غفیر اس لیے اکٹھا کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ یہ گواہی دیں کہ میزبان خود بہت اچھے انسان ہیں اور دلہا دلہن اچھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

وہ مزید لکھتا ہے۔ جب ہم دیوتاؤں کے حضور قربانی دیں، مہمانوں کو رخصت کرنے کی دعوت کریں یا پھر باہر سے آنے والے مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہیں ممکن ہے ہمارے بہت سے ہمسایوں اور رشتہ داروں کو خبر بھی نہ ہو۔ لیکن شادی کی دعوت میں روشنیوں، شور، دھوم دھماکے اوراعلیٰ ضیافت سے کویی بھی بے خبر نہیں رہتا۔ اور ہم دور دراز کے رشتہ داروں واقف کاروں اور تعلق داروں کو ضرور بلاتے ہیں۔

تمام سننے والے اس کے جواب کو پسند کرتے ہیں اور تھیون آخری کلمات ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی اضافہ کر لوکہ یہ ضیافتیں صرف دوستانہ تفریح نہیں بلکہ اہم خاندانی مواقع ہیں جب نئے لوگ خاندان میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں دو گھروں کا نیا اتحاد بن رہا ہوتا ہے۔ ہر سسر یہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ دوسرے کے دوستوں اور رشتہ داروں کو احترام دے اور ان کی اچھی طرح خدمت کرے۔

پوری دنیا میں ہمیشہ سے شادی کے یہ کھانے خاندانوں کے لیے باعث عزت جانے جاتے ہیں۔ پنجابی کی کہاوت ہے کہ سب سے عزت دار وہ ہے جس کا دسترخوان بڑا ہے۔
ہیروڈس لوگوں کی پہچان کرنے میں ان کی دعوتوں اور کھانوں کو بھی زیر نظر رکھتا تھا۔

یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ شادی کی سب سے اہم رسم مہمانوں کا کھانا ہے۔ اور صدیوں سے تمام اقوام میں اس کا روا ج رہا ہے۔ ہمیشہ سے اس کو بڑھا چڑھا کر سجاوٹ سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ شادی کی دعوت میں ہمیشہ سے کھانے کے کورس چلتے رہے ہیں اور یہ کئی کئی گھنٹوں تک جاری رہتے تھے۔ سو شادی کی دعوت کسی بھی خاندان کے لیے تمام تقریبات میں سب سے اہم ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں کچھ عرصہ سے اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ کرایسیپس کو بقول بہترین کھانا وہ ہے جو آزادی سے کھایا جائے۔ ان پابندیوں کی آڑ میں حکومتی اہلکار میزبانوں کو مقدمہ، جرمانہ، گرفتاری اور سزا سے ڈرا کر ان کے ارمانوں کا خون کر رہے ہیں۔

تمام قسم کی تفریحات اس ملک میں ختم یا ناجائز۔ سینما، کھیل کے میدان۔ میلہ جات بسنت گھوڑ دوڑ کشتی کبڈی جانوروں کے مقابلے، سب ختم، ایک شادی کی رونق بچی تھی اس پربھی طرح طرح کی مشکلات کا سامنا۔ شادی ایکٹ نے عوام الناس کی خوشیوں میں مجبوری، پابندی اور بے عزتی شامل کر دی ہے۔ وہ شادی کا موقع جس میں تمام رشتہ دار محلے دار برادری دوست احباب کھلے دل سے خوشیاں مناتے تھے اب بھاگ بھاگ کر پاگل ہو جاتے ہیں کہ اگر ذرا سی بھی بارات لیٹ ہوگیی یا کھانے میں کمی بیشی ہو گیی تو عزت کی بجائے رشتہ داروں اور مہمانوں کے سامنے رسوا ہونا پڑے گا۔
اور واضح رہے کہ ون ڈش کی پابندی صرف عوام کے لیے ہے، بڑے بڑے لوگ اس قانون کا جو حال کر رہے ہیں وہ ان کی کسی بھی شادی میں دیکھا جا سکتا ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں ایک مرتبہ
  • پروین شاکر: خوشبو کی شاعری
  • یہاں کچھ پھول رکھے ہیں
  • تلقارمس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محبت کی ایک نظم
پچھلی پوسٹ
میں ریگ زار تھا چمک اٹھا درِ حضورِﷺ سے

متعلقہ پوسٹس

پانی کا درخت

اکتوبر 25, 2019

ہم کس مرحلے میں ہیں؟

فروری 5, 2021

کیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟

اگست 19, 2020

پاکستان سپر لیگ (6) میدان میں یا سڑکوں پر؟

فروری 13, 2021

گناہ بے لذت اور معصوم کا خون

مارچ 29, 2024

معصوم تمنا

جون 29, 2020

محسن

جنوری 9, 2021

دفتر سے محبت تک

جنوری 8, 2025

بلوچستان کا امن اور علیحدگی پسند تحریکیں

اگست 28, 2025

جلاوطن

جون 3, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنت

جون 9, 2020

وٹا سٹا

دسمبر 3, 2019

نئے دور کی چالبازیاں

جنوری 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں