خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرشادی کی دعوت
اردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

شادی کی دعوت

سید محمد زاہد کا اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019 0 تبصرے 618 مناظر
619

شادی کی دعوت

شادیوں میں کھانے (ون ڈش) اوررات دس بجے تک وقت کی پابندی سے کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ۔ قدیم یونان، قرون اولیٰ، عباسی، مغل ادوار اور پنجاب سے مثالیں۔ تاریخی طور پر کیا یہ پابندیاں مناسب ہیں، اور اس قانون سے عوام الناس پہ کیا اثرات ہورہے ہیں

آج کل پاکستان میں شادیوں کا سیزن چل رہا ہے۔ خاندانوں کی زندگی میں شادی سب سے اہم موقع ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شادی صرف دو افراد کے نکاح کا نام نہیں بلکہ دو خاندانون کے لٰے مسرت کا وہ وقت ہے جس کا انہوں نے شاٰٰید سالوں انتظار کیا ہو۔ شادی کی تیاری میں سال ہا سال لگتے ہیں۔ رشتہ دار اور دوست احباب مہینوں اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ رشتہ ڈھونڈنے سے لے کر دلہن کے پیا کے گھر پہنچنے تک بے شمار رسومات ادا کی جاتی ہیں اور ان میں سینکڑوں لوگ حصہ لیتے ہیں شادی کی بڑی تقریبات مہندی بارات اور ولیمہ ہوتی ہیں۔ یہ تقریبات شہروں میں زیادہ تر رات کے وقت ہوتی ہیں۔ رات کی شادی کاروا ج بہت پرانا ہے۔

زمانہ قدیم کے یونانی سردیوں کی رات میں شادی کرنا پسند کرتے تھے۔ جنوری کا مہینہ ان کا پسندیدہ تھا۔ یہ ہیرا دیوی اور زیوس کی شادی کی وجہ سے متبرک گنا جاتا تھا۔ یونانی پورے چاند کی راتوں کو شادی کرنا زیادہ اچھا سمجھتے تھے۔ ان کی شادیاں دیر تک چلتی تھیں۔ رات کی شادی میں سب سے بڑا مسٰلہ وقت کا زیادہ ہو جانا ہوتا ہے ہمارے ہاں باراتیں اکثر لیٹ ہوجاتی ہیں۔ ہماری حکومت نے وقت رات دس بجے تک مقرر کر رکھا ہے۔

بارات اکثر آٹھ بجے کے بعد آتی ہے، ابھی نکاح یا کھانا جاری ہوتا ہے کہ حکومتی نمایندے یا شادی ہال والے باہر کا رستہ دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ رخصتی، خاندانوں کے لیے جذباتی موقع ہوتا ہے اس وقت لوگ لڑکی والوں کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کے اقدامات کرتے ہیں۔ شہزادہ سلیم جب راجہ بھگوان داس کی بیٹی کو بیاہنے گیے تو عظیم مغل شہنشاہ اکبر اور دلہا خود ڈولی ا ٹھا کر لایے۔ ہماری شادیوں میں اکثر دیر ہوجانے کی وجہ سے یہ رسم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ شادی کا مطلب صرف نکاح یا رخصتی نہیں ہمارے لیے یہ سالوں بعد ملی خوشی منانے کا موقع اور ماں باپ کے سال ہا سال سے دیکھے خوابوں کی تعبیر کا وقت ہوتا ہے۔ یہ حکومتی حکم نہ صرف ہماری خوشیوں کے رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے بلکہ ماں باپ کے خوابوں کوبھی چکنا چور کر رہا ہے۔

یونانیوں کی شادی کی تقریبات تین دن چلتی تھی۔ وارث شاہ نے لکھا ہے کہ ہیر کی بارات کئی دن ٹھہری تھی۔ باراتیوں کی خوشی کے لیے ان دنوں میں مختلف قسم کے پروگرام ہوتے تھے جو دونوں خاندانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد گار ہوتے۔ قدیم یونان میں بھی دلہے والے دلہن کے لیے بہت سے تحائف لاتے تھے اور گانے ڈانس اور کھیلوں میں مقابلہ کر کے لڑکی والوں کا دل جیتتے تھے۔ ان کے کھانے بہت بڑے بڑے ہوتے تھے جس میں گوشت دودھ سبزیاں شراب مچھلی سب شامل ہوتا تھا۔

مسلمانوں کے ابتدائی دور میں ولیمہ کی بڑی دعوتوں کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت عبدالرحمان بن عوف کے ولیمہ میں مختلف قسم کے کھانے پیش کیے گیے۔ خلیفہ مامون الرشید کی بوران (یا خدیجہ) بنت الحسن گورنر ایران سے شادی، عباسی دور کی اہم شادی گنی جاتی ہے اس میں مامون الرشید نے ابن خلدون کے مطابق اس کو ایک ہزار قیمتی پتھر روبی تحفہ میں دیے۔ اس شادی پر دلہن کے باپ کے ایک سو چالیس خچر پورا سال دن میں تین بار لکڑی جنگل سے لے کر آتے رہے یہ تمام لکڑی صرف ایک دن بارات کاکھانا پکانے کے کام آئی۔

وارث شاہ نے پنجاب کی باراتوں کے کھانے سینکڑوں کی تعداد میں لکھے ہیں۔ جس میں طرح طرح کی مٹھائیاں گوشت دودھ دالیں چاول پھل شامل تھے۔ شادی کی دعوت کے ان کھانوں کی ایک خصوصی اہمیت ہے اور ان کے متعلق بھی صدیوں سے لکھا جا رہا ہے۔

آٹھ سو سال قبل مسیح کا لکھاری ہیسویڈ ایک اچھے کھانا کا بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ اس میں دہی، بکریوں کا دودھ، ایسی بچھیا کا گوشت جو کہ جنگلات میں پلی ہو اور اس نے کبھی بچہ نہ جنا ہو، اور مجھے صاف چمکدار شراب بھی دو۔ اور ایسا بکرا جو ماں نے پہلی بار جنا ہو۔

قدیم یونانی مصنف پلوٹارک اپنی تحریر ٹیبل ٹاک میں سوال پوچھتا ہے کہ لوگ دوسری دعوتوں کی نسبت شادیوں میں زیادہ مہمان کیوں بلاتے ہیں؟ وہ لکھتا ہے کہ اس کے بیٹے کی شادی میں ایک مہمان کیرونیا نے یہ سوال اٹھایا۔ وہ کہتا ہے۔ حالانکہ یہ سچ ہے کہ شاہانہ خرچوں کے خلاف مہم چلانے والے قانون ساز مہمانوں کی تعداد پر پابندی لگانے کی بات کرتے ہیں۔ دوسرا مہمان سینیسؤ جواب دیتا ہے کہ فلاسفر ہیکاٹیس کا خیال ہے کہ یہ لوگ جم غفیر اس لیے اکٹھا کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ یہ گواہی دیں کہ میزبان خود بہت اچھے انسان ہیں اور دلہا دلہن اچھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

وہ مزید لکھتا ہے۔ جب ہم دیوتاؤں کے حضور قربانی دیں، مہمانوں کو رخصت کرنے کی دعوت کریں یا پھر باہر سے آنے والے مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہیں ممکن ہے ہمارے بہت سے ہمسایوں اور رشتہ داروں کو خبر بھی نہ ہو۔ لیکن شادی کی دعوت میں روشنیوں، شور، دھوم دھماکے اوراعلیٰ ضیافت سے کویی بھی بے خبر نہیں رہتا۔ اور ہم دور دراز کے رشتہ داروں واقف کاروں اور تعلق داروں کو ضرور بلاتے ہیں۔

تمام سننے والے اس کے جواب کو پسند کرتے ہیں اور تھیون آخری کلمات ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی اضافہ کر لوکہ یہ ضیافتیں صرف دوستانہ تفریح نہیں بلکہ اہم خاندانی مواقع ہیں جب نئے لوگ خاندان میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں دو گھروں کا نیا اتحاد بن رہا ہوتا ہے۔ ہر سسر یہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ دوسرے کے دوستوں اور رشتہ داروں کو احترام دے اور ان کی اچھی طرح خدمت کرے۔

پوری دنیا میں ہمیشہ سے شادی کے یہ کھانے خاندانوں کے لیے باعث عزت جانے جاتے ہیں۔ پنجابی کی کہاوت ہے کہ سب سے عزت دار وہ ہے جس کا دسترخوان بڑا ہے۔
ہیروڈس لوگوں کی پہچان کرنے میں ان کی دعوتوں اور کھانوں کو بھی زیر نظر رکھتا تھا۔

یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ شادی کی سب سے اہم رسم مہمانوں کا کھانا ہے۔ اور صدیوں سے تمام اقوام میں اس کا روا ج رہا ہے۔ ہمیشہ سے اس کو بڑھا چڑھا کر سجاوٹ سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ شادی کی دعوت میں ہمیشہ سے کھانے کے کورس چلتے رہے ہیں اور یہ کئی کئی گھنٹوں تک جاری رہتے تھے۔ سو شادی کی دعوت کسی بھی خاندان کے لیے تمام تقریبات میں سب سے اہم ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں کچھ عرصہ سے اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ کرایسیپس کو بقول بہترین کھانا وہ ہے جو آزادی سے کھایا جائے۔ ان پابندیوں کی آڑ میں حکومتی اہلکار میزبانوں کو مقدمہ، جرمانہ، گرفتاری اور سزا سے ڈرا کر ان کے ارمانوں کا خون کر رہے ہیں۔

تمام قسم کی تفریحات اس ملک میں ختم یا ناجائز۔ سینما، کھیل کے میدان۔ میلہ جات بسنت گھوڑ دوڑ کشتی کبڈی جانوروں کے مقابلے، سب ختم، ایک شادی کی رونق بچی تھی اس پربھی طرح طرح کی مشکلات کا سامنا۔ شادی ایکٹ نے عوام الناس کی خوشیوں میں مجبوری، پابندی اور بے عزتی شامل کر دی ہے۔ وہ شادی کا موقع جس میں تمام رشتہ دار محلے دار برادری دوست احباب کھلے دل سے خوشیاں مناتے تھے اب بھاگ بھاگ کر پاگل ہو جاتے ہیں کہ اگر ذرا سی بھی بارات لیٹ ہوگیی یا کھانے میں کمی بیشی ہو گیی تو عزت کی بجائے رشتہ داروں اور مہمانوں کے سامنے رسوا ہونا پڑے گا۔
اور واضح رہے کہ ون ڈش کی پابندی صرف عوام کے لیے ہے، بڑے بڑے لوگ اس قانون کا جو حال کر رہے ہیں وہ ان کی کسی بھی شادی میں دیکھا جا سکتا ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پرسکون ترتیب
  • سڑک کے کنارے
  • مالٹے کی خوشبو اور پانی کا قطرہ
  • 14فروری: عالمی یوم ِ محبت!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محبت کی ایک نظم
پچھلی پوسٹ
میں ریگ زار تھا چمک اٹھا درِ حضورِﷺ سے

متعلقہ پوسٹس

ہرے رنگ کی گڑیا

جون 14, 2020

عالم بخش اور کالا ریچھ

نومبر 23, 2019

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

ستمبر 6, 2024

ایک طوائف کا خط

اکتوبر 29, 2019

حسرت اُن غنچوں پہ

فروری 8, 2020

ہَوا کے پَر کَترنا اب ضروری ہو گیا ہے

جنوری 6, 2020

تاریخ کے وارث – چوتھی قسط

جنوری 17, 2025

کاش ہم استاد بن جائیں

اکتوبر 9, 2020

فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان

ستمبر 17, 2020

وعدہ پورا ہوا

مئی 24, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے...

اگست 30, 2025

وبا، آسمانی احکامات اور دنیاوی پابندیاں

مارچ 22, 2020

تانگے والے کا بھائی

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں