خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےایک طوائف کا خط
اردو افسانےاردو تحاریرکرشن چندر

ایک طوائف کا خط

پنڈت نہرو اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نام

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019 0 تبصرے 439 مناظر
440

پنڈت نہرو اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ایک طوائف کا خط

مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے آپ کو کسی طوائف کا خط نہ ملا ہو گا۔ یہ بھی امید کرتی ہوں کہ آج تک آپ نے میری اور اس قماش کی دوسری عورتوں کی صورت بھی نہ دیکھی ہو گی۔ یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ کو میرا یہ خط لکھنا کس قدر معیوب ہے اور وہ بھی ایسا کھلا خط مگر کیا کروں حالات کچھ ایسے ہیں اور ان دونوں لڑکیوں کا تقاضا اتنا شدید ہے کہ میں یہ خط لکھے بغیر نہیں رہ سکتی۔ یہ خط میں نہیں لکھ رہی ہوں، یہ خط مجھ سے بیلا اور بتول لکھوا رہی ہیں، میں صدق دل سے معافی چاہتی ہوں، اگر میرے خط میں کوئی فقرہ ناگوار گزرے اسے میری مجبوری پر محمول کیجئے گا۔ بیلا اور بتول مجھ سے یہ خط کیوں لکھوا رہی ہیں؟ یہ دونوں لڑکیاں کون ہیں اور ان کا تقاضا اتنا شدید کیوں ہے؟یہ سب کچھ بتانے سے پہلے میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں، گھبرایئے نہیں۔ میں آپ کو اپنی گھناؤنی زندگی کی تاریخ سے آگاہ نہیں کرنا چاہتی۔ میں یہ بھی نہیں بتاؤں گی کہ میں کب اور کن حالات میں طوائف بنی۔ میں کسی شریفانہ جذبے کا سہارا لے کر آپ سے کسی جھوٹے رحم کی درخواست کرنے نہیں آئی ہوں۔ میں آپ کے درد مند دل کو پہچان کر اپنی صفائی میں جھوٹا افسانہ محبت نہیں گھڑناچاہتی۔ اس خط کے لکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو طوائفیت کے اسرار و رموز سے آگاہ کروں مجھے اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہناہے۔ میں صرف اپنے متعلق چند ایسی باتیں بتانا چاہتی ہوں جن کا آگے چل کر بیلا اور بتول کی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔
آپ لوگ کئی بار بمبئی آئے ہوں گے جناح صاحب نے بمبئی کو تو بہت دیکھا ہوگا مگر آپ نے ہمارا بازار کاہے کو دیکھا ہو گا۔ جس بازار میں میں رہتی ہوں وہ فارس روڈ کہلاتا ہے۔ فارس روڈ، گرانٹ روڈ اور مدن پورہ کے بیچ میں واقع ہے۔ گرانٹ روڈ کے اس پار لمنگٹم روڈ اور اوپر ہاؤس اور چوپاٹی میرین ڈرائیور اور ٖفورٹ کے علاقے ہیں جہاں بمبئی کے شرفارہتے ہیں۔ مدن پورہ میں اس طرف غریبوں کی بستی ہے۔ فارس روڈ ان دونوں کے بیچ میں ہے تاکہ امیر اور غریب اس سے یکساں مستفید ہو سکیں۔ گو فارس روڈ پھر بھی مدن پورہ کے زیادہ قریب ہے کیونکہ ناداری میں اور طوائفیت میں ہمیشہ بہت کم فاصلہ رہتاہے۔ یہ بازار بہت خوبصورت نہیں ہے، اس کے مکین بھی خوبصورت نہیں ہیں اس کے بیچوں بیچ ٹرام کی گڑگڑاہٹ شب وروز جاری رہتی ہے۔ جہاں بھر کے آوارہ کتے اور لونڈے اور شہدے اور بے کار اور جرائم پیشہ مخلوق اس کی گلیوں کا طواف کرتی نظر آتی ہے۔ لنگڑے، لولے، اوباش، مدقوق تماش بین، آتشک و سوزاک کے مارے ہوئے کانے، گنجے، کوکین باز اور جیب کترے اس بازار میں سینہ تان کر چلتے ہیں۔ غلیظ ہوٹل، سیلے ہوئے فٹ پاتھ، کچر ے کہ ڈھیروں پر بھنبھناتی ہوئی لاکھوں مکھیاں، لکڑیوں اور کوئلوں کے افسردہ گودام، پیشہ ور دلال اور باسی ہار بیچنے والے کوک شاتر اور ننگی تصویروں کے دوکان دار چینی حجام اور اسلامی حجام اور لنگوٹے کس کر گالیاں بکنے والے پہلوان، ہماری سماجی زندگی کا سارا کوڑاکرکٹ آپ کو فارس روڈ پر ملتا ہے۔ ظاہر ہے آپ یہاں کیوں آئیں گے۔ کوئی شریف آدمی ادھر کا رخ نہیں کرتا، شریف آدمی جتنے ہیں وہ گرانٹ روڈ کے اس پار رہتے ہیں اور جو بہت ہی شریف ہیں۔ وہ ملبار ہل پر قیام کرتے ہیں۔ میں ایک بار جناح صاحب کی کوٹھی کے سامنے سے گزری تھی اور وہاں میں نے جک کر سلام بھی کیا تھا بتول بھی میرے ساتھ تھی۔ بتول کو آپ سے (جناح صاحب) جس قدر عقیدت ہے اس کو میں کبھی ٹھیک طرح سے بیان نہ کر سکوں گی۔ خدا اور رسول کے بعد دنیا میں اگر وہ کسی کو چاہتی ہے تو وہ صرف آپ ہیں۔ اس نے آپ کو تصویر لاکٹ میں لگا کر اپنے سینے سے لگا رکھا ہے۔ کسی بری نیت سے نہیں۔ بتول کی عمر ابھی 11 سال ہے، چھوٹی سی لڑکی ہی تو ہے وہ۔ گو فارس روڈ والے ابھی سے اس کے متعلق برے برے ارادے کر رہے ہیں مگر خیر وہ پھر کبھی آپ کو بتاؤں گی۔
تو یہ ہے فارس روڈ جہاں میں رہتی ہوں، فارس روڈ کے مغربی سرے پر جہاں چینی حجام کی دوکان ہے اس کے قریب ایک اندھیری گلی کے موڑ پر میری دوکان ہے۔ لوگ تو اسے دوکان نہیں کہتے مگر خیر آپ دانا آدمی ہیں آپ سے کیا چھپاؤں گی۔ یہی کہوں گی وہاں پر میری دوکان ہے اور وہاں پر میں اس طرح بیوپار کرتی ہو ں جس طرح بنیا، سبزی والا، پھل والا، ہوٹل والا، موٹر والا، سینیماوالا، کپڑے والا یا کوئی او ر دوکاندار بیوپار کرتا ہے اور ہر بیوپار میں گاہک کو خوش کرنے کے علاوہ اپنے فائدہ کا بھی سوچتا ہے۔ میرا بیوپار بھی اسی طرح کا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ میں بلیک مارکیٹ نہیں کرتی اور مجھ میں اور دوسرے بیوپاریوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ دوکان اچھی جگہ پر واقع نہیں ہے۔ یہاں رات تو کجا دن کو بھی لوگ ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ اس اندھیری گلی میں لوگ اپنی جیبیں خالی کر کے جاتے ہیں۔ شراب پی کر جاتے ہیں جہاں بھر کی گالیاں بکتے ہیں۔ یہاں بات بات پر چھرا زنی ہوتی ہے۔ دو ایک خون دوسرے تیسرے روز ہوتے رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر وقت جان ضیق میں رہتی ہے اور پھر میں کوئی اچھی طوائف نہیں ہوں کہ پون جا کے رہوں یاورلی پر سمندر کے کنارے ایک کوٹھی لے سکوں۔ میں ایک بہت ہی معمولی درجے کی طوائف ہوں اور اگر میں نے سارا ہندوستان دیکھا ہے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے اور ہر طرح کے لوگوں کی صحبت میں بیٹھی ہوں لیکن اب دس سال سے اسی شہر بمبئی میں، اسی فارس روڈ پر، اسی دوکان میں بیٹھی ہوں اور اب تو مجھے اس دوکان کی پگڑی بھی چھ ہزار روپے تک ملتی ہے۔ حالانکہ یہ جگہ کوئی اتنی اچھی نہیں۔ فضا متعفن ہے کیچڑ چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے، گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں اور خارش زدہ کتے گھبرائے ہوئے گاہکوں کی طرف کاٹ کھانے کو لپکتے ہیں پھر بھی اس جگہ کی پگڑی مجھے چھ ہزار روپے تک ملتی ہے۔
اس جگہ میری دوکان ایک منزلہ مکان میں ہے۔ اس کے دو کمرے ہیں سامنے کا کمرہ میری بیٹھک ہے۔ یہاں میں گاتی ہوں، ناچتی ہوں گاہکوں کو کو رجھاتی ہوں پیچھے کا کمرہ باورچی خانے، غسل خانے اور سونے کے کمرے کا کام دیتا ہے۔ یہاں ایک طرف نل ہے ایک طرف ہنڈیا ہے اور ایک طرف ایک بڑا سا پلنگ ہے اور اس کے نیچے ایک اور چھوٹا سا پلنگ ہے۔ اس کے نیچے میرے کپڑوں کے صندوق ہیں۔ باہر والے کمرے میں بجلی کی روشنی ہے لیکن اندر والے کمرے میں بالکل اندھیرا ہے۔ مالک مکان نے برسوں سے قلعی نہیں کرائی نہ وہ کرائے گا۔ اتنی فرصت کسے ہے میں تو رات بھر ناچتی ہوں گاتی ہوں اور دن کو وہی گاؤ تکیے پر سر ٹیک کر سو جاتی ہوں، بیلا اور بتول کو پیچھے کا کمرہ دے رکھا ہے۔ اکثر گاہک جب ادھر منہ دھونے کے لیے جاتے ہیں تو بیلا اور بتول پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگ جاتی ہیں جو کچھ ان کی نگاہیں کہتی ہیں میرا یہ خط بھی وہی کہتا ہے۔ اگر وہ میرے پاس اس وقت نہ ہوتیں تو یہ گنہگار بندی آپ کی خدمت میں یہ گستاخی نہ کرتی۔ جانتی ہوں دنیا مجھ پر تھو تھو کرے گی، جانتی ہوں شاید آپ تک میرا یہ خط بھی نہ پہنچے گا۔ پھر بھی مجبور ہوں یہ خط لکھ کے رہوں گی کیونکہ بیلا اور بتول کی مرضی یہی ہے۔ شاید آپ قیاس کر رہے ہوں کے بیلا اور بتول میری لڑکیاں ہیں۔ نہیں یہ غلط ہے میری کوئی لڑکی نہیں ہے ان دونوں لڑکیوں کو میں نے بازار سے خریدا ہے۔ جن دنوں ہندومسلم فساد زوروں پر تھا، گرانٹ روڈ، فارس روڈ اور مدن پورہ پر انسانی خون پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا۔ ان دنوں میں نے بیلا کو ایک مسلمان دلال سے تین سو روپے کے عوض خریدا تھا۔ یہ مسلمان دلال اس لڑکی کر دہلی سے لایا تھاجہاں بیلا کے ماں باپ رہتے تھے۔ بیلا کے ماں باپ راولپنڈی میں راجہ بازار کے عقب میں پونچھ ہاؤس کے سامنے کی گلی میں رہتے تھے۔ متوسط طبقے کا گھرانہ تھا، شرافت اور سادگی گھٹی میں پڑی تھی۔ بیلا اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور جب راولپنڈی میں مسلمانوں نے ہندوؤں کو تہ تیغ کرنا شروع کیا اس وقت بیلا چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ یہ بارہ جولائی کا واقعہ ہے بیلا اپنے سکول سے پڑھ کر گھر آرہی تھی کہ اس نے اپنے گھر کے سامنے اور دوسرے ہندوؤں کے گھروں کے سامنے ایک جم غفیر دیکھا۔ یہ لوگ مسلح تھے اور گھروں کو آگ لگا رہے تھے۔ لوگوں کو، ان کے بچوں کو، ان کی عورتوں کو گھروں سے باہر نکال کرانہیں قتل کر رہے تھے۔ ساتھ ساتھ اللہ اکبر کا نعرہ بھی بلند کرتے جاتے تھے۔ بیلا نے اپنی آنکھوں سے اپنے باپ کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا۔ پھر اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو دم توڑتے ہوئے دیکھا۔ وحشی مسلمانوں نے اس کے پستان کاٹ کر پھینک دیئے تھے۔ وہ پستان جن سے ایک ماں، کوئی ماں، ہندو ماں یا مسلمان ماں، عیساعی ماں یا یہودی ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور انسانوں کی زندگی میں، کائنات کی وسعت میں تخلیق کا ایک نیا باب کھولتی ہے وہ دودھ بھرے پستان اللہ اکبر کے نعروں کیساتھ کاٹ ڈالے گئے۔ کس نے تخلیق کے ساتھ اتنا ظلم کیا تھا۔ کسی ظالم اندھیرے نے ان کی روحوں میں یہ سیاہی بھر دی تھی۔ میں نے قرآن پڑھا ہے اور میں جانتی ہوں کہ راولپنڈی میں بیلا کے ماں باپ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسلام نہیں تھاوہ انسانیت نہ تھی، وہ دشمنی بھی نہ تھی، وہ انتقال بھی نہ تھا، وہ ایک ایسی سعادت، بے رحمی بزدلی اور شیطانیت تھی جو تاریخ کے سینے سے پھوٹتی ہے اور نور کی آخری کرن کو بھی داغدار کر جاتی ہے۔
بیلا اب میرے پاس ہے، مجھ سے پہلے وہ داڑھی والے مسلمان دلال کے پاس تھی۔ بیلا کی عمر بارہ سال سے زیادہ نہیں تھی جب وہ چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ اپنے گھر میں ہوتی تو آج پانچویں جماعت میں داخل ہو رہی ہوتی۔ پھر بڑی ہوتی تو اس کے ماں باپ اس کا بیاہ کسی شریف گھرانے کے غریب سے لڑکے سے کر دیتے، وہ اپنا چھوٹا سا گھر بساتی، اپنے خاوند سے، اپنے ننھے ننھے بچوں سے، اپنی گھریلو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خشیوں سے، لیکن اس نازک کلی کو بے وقت خزاں آ گئی۔ اب بیلا بارہ برس کی نہیں معلوم ہوتی۔ اس کی عمر تھوڑی ہے لیکن اس کی زندگی بہت بوڑھی ہے۔ اس کی آنکھوں میں جو ڈر ہے، انسانیت کی جو تلخی ہے یا اس کا جو لہو ہے، موت کی جو پیاس ہے قائداعظم صاحب شاید اگر آپ اس کو دیکھ سکیں تو شاید اس کا اندازہ کر سکیں۔ ان بے آسرا آنکھوں کی گہرائیوں میں اتر سکیں۔ آپ تو شریف آدمی ہیں۔ آپ نے شریف گھرانے کی معصوم لڑکیوں کو دیکھا ہو گا، ہندو لڑکیوں کو، مسلمان لڑکیوں کو، شاید آپ سمجھ جاتے کے معصومیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ ساری انسانیت کی امانت ہے، ساری دنیا کی میراث ہے جو اسے مٹاتاہے اسے دنیا کے کسی مذہب کا کوئی خدامعاف نہیں کر سکتا۔ بتول اور بیلا دونوں سگی بہنوں کی طرح میرے ہاں رہتی ہیں۔ بتول اور بیلا سگی بہنیں نہیں ہیں۔ بتول مسلمان لڑکی ہے، بیلا نے ہندو گھر میں جنم لیا۔ آج دونوں فارس روڈ پر ایک رنڈی کے گھر میں بیٹھی ہیں۔ اگر بیلا راولپنڈی سے آئی ہے تو بتول جالندھر کے ایک گاؤں کھیم کرن کے ایک پٹھان کی بیٹی ہے۔ بتول کے باپ کی سات بیٹیاں تھیں، تین شادی شدہ اور چار کنواریاں، بتول کا باپ کھیم کرن میں ایک معمولی کاشتکار تھا۔ غریب پٹھان لیکن غیور پٹھان جو دیوں سے کھیم کرن میں آ کے بس گیاتھا۔ جاٹوں کے اس گاؤں میں یہی تین چار گھر پٹھانوں کے تھے۔ یہ لوگ جس امن و آتشی سے رہتے تھے شاید اس کا اندازہ پنڈت جی آپ کواس امر سے ہوگاکہ مسلمان ہونے پر بھی ان لوگوں کو اپنے گاؤں میں مسجد بنانے کی اجازت نہ تھی۔ یہ لوگ گھر میں چپ چاپ اپنی نماز ادا کرتے، صدیوں سے جب سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے عنان حکومت سنبھالی تھی کسی مومن نے اس گاؤں میں اذان نہ دی تھی۔ ان کا دل عرفان سے روشن تھا لیکن دنیاوی مجبوریاں اس قدر شدید تھیں اور پھر رواداری کا خیال اس قدر غالب تھا کہ لب وا کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ بتول اپنے باپ کی چہیتی لڑکی تھی۔ ساتوں میں سب سے چھوٹی تھی، سب سے پیاری، سب سے حسین، بتول اس قدر حسین ہے کہ ہاتھ لگانے سے میلی ہوتی ہے، پنڈت جی آپ خود کشمیری النسل ہیں فن کا ر ہو کر یہ بھی جانتے ہیں کہ خوبصورتی کسے کہتے ہیں۔ یہ خوبصورتی آج میری گندگی کے ڈھیر میں گڈ مڈ ہو کر اس طرح پڑی ہے کہ اس کا پرکھ کرنے والا کوئی شریف آدمی اب مشکل سے ہی ملے گا، اس گندگی میں گلے سڑے مارداڑی، گھن، مونچھوں والے ٹھکیدار، ناپاک نگاہوں والے چور بازاری ہی نظر آتے ہیں۔ بتول بالکل ہی ان پڑھ ہے۔ اس نے صرف جناح صاحب کا نام سنا تھا۔ پاکستان کو ایک اچھا تماشہ سمجھ کر اس نے نعرے لگائے تھے۔ جیسے تین چار برس کے ننھے بچے گھر میں انقلاب زندہ بادکرتے پھرتے ہیں۔ گیارہ بر س کی ہی تو ہے وہ ان پڑھ بتول۔ وہ چند دن ہی ہوئے میرے پاس آئی ہے۔ ایک ہندو دلال اسے میرے پاس لایا تھا۔ میں نے اسے پانچ سو روپے میں خرید لیا۔ اس سے پہلے وہ کہاں تھی یہ میں نہیں کہہ سکتی۔ ہاں لیڈی ڈاکٹر نے مجھ سے بہت کچھ کہا ہے کہ اگر آپ اسے سن لیں تو شاید پاگل ہو جائیں۔ بتول بھی اب نیم پاگل ہے اس کے باپ کو جاٹوں نے اس بے دردی سے مارا ہے کہ ہندو تہذیب کے پچھلے چھ ہزار برس کے چھلکے اتر گئے ہیں اور انسانی بربریت اپنے وحشی ننگے روپ میں سب کے سامنے آگئی ہے۔ پہلے تو جاٹوں نے اس کی آنکھیں نکال لیں۔ پھر اس کے منہ میں پیشاب کیا، پھر اس کے خلق کو چیر کر اس کی آنتیں تک نکال ڈالیں۔ پھر اس کی شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ منہ کالا کیا۔ اسی وقت ان کے باپ کی لاش کے سامنے ریخانہ، گل درخشاں، مرجانہ، سوہن اور بیگم ایک ایک کر کے وحشی انسان نے اپنے مندر کی مورتیوں کو ناپاک کیا۔ جس نے انھیں زندگی عطا کی، جس نے انھیں لوریاں سنائی تھیں، جس نے ان کے سامنے شرم و عجز سے اور پاکیزگی سے سر جھکا دیا تھا۔ ان تمام بہنوں، ماؤں اور بہوؤں کے ساتھ زنا کیا۔ ہندو دھرم نے اپنی عزت کھو دی تھی اپنی رواداری تباہ کر دی تھی، اپنی عظمت مٹا دی تھی۔ آج راگ وید کا ہر منتر خاموش تھا۔ آج گرنتھ صاحب کا ہر دوہا شرمندہ تھا۔ آج گیتا کا ہر اشلوک زخمی تھا۔ کون ہے جو میرے سامنے اجنتا کی مصوری کا نام لے سکتا ہے، اشوک کے کتبے سنا سکتا ہے، ایلورا کے صنم زادوں کے گن گاسکتا ہے۔ بتول کے بے بس بھنچے ہوئے ہونٹوں، اس کی بانہوں پر وحشی درندوں کے دانتوں کے نشان اور اس کی بھری ہوئی ٹانگوں کی ناہمواری میں تمہاری اجنتا کی موت ہے۔ تمہارے ایلورا کا جنازہ ہے۔ تمہاری تہذیب کا کفن ہے۔ آؤ آؤ میں تمہیں اس خوبصورتی کو دکھاؤں جو کبھی بتول تھی۔ اس متعفن لاش کو دکھاؤں جو آج بتول ہے۔ جذبے کی رو میں بہہ کر میں بہت کچھ کہہ گئی۔ شاید یہ سب مجھے نہ کہناچاہیے تھا۔ شاید اس میں آپ کی سبکی ہے۔ شاید اس سے زیادہ ناگوار باتیں آپ سے اب تک کسی نے نہ کی ہوں گی نہ سنائی ہوں گی۔ شاید آپ یہ سب کچھ نہیں کر سکتے۔ شاید تھوڑا بھی نہیں کر سکتے۔ پھر بھی ہمارے ملک میں آزادی آگئی ہے۔ ہندوستان میں اور پاکستان میں اور شاید ایک طوائف کو بھی اپنے رہنماؤں سے پوچھنے کایہ حق ضرور ہے کہ اب بیلا اور بتول کا کیا ہوگا۔
بیلا اور بتول دولڑکیاں ہیں، دو قومیں ہیں، دو تہذیبیں ہیں۔ دو مندر اور مسجد ہیں۔ بیلا اور بتول آج کل فارس روڈ پر ایک رنڈی کے ہاں رہتی ہیں جو چینی حجام کی بغل میں اپنی دوکان کا دھندہ چلاتی ہے۔ بیلا اور بتول کو یہ دھندہ پسند نہیں۔ میں نے انہیں خریدا ہے۔ میں چاہوں تو ان سے یہ کا م لے سکتی ہوں۔ لیکن میں سوچتی ہوں میں یہ کام نہیں کروں گی جو راولپنڈی اور جالندھر نے ان سے کیا ہے۔ میں نے انہیں اب تک فارس روڈ کی دنیاسے الگ تھلگ رکھاہے۔ پھر بھی جب میرے گاہک پچھلے کمرے میں جا کراپنا منہ ہاتھ دھونے لگتے ہیں، اس وقت بیلا اور بتول کی نگاہیں مجھ سے کہنے لگتی ہیں۔ مجھے ان نگاہوں کی تاب نہیں۔ میں ٹھیک طرح سے ان کا سندیسہ بھی آپ تک نہیں پہنچا سکتی ہوں۔ آپ کیوں نہ خود ان نگاہوں کا پیغام پڑھ لیں۔ پنڈت جی میں چاہتی ہوں کہ آپ بتول کو اپنی بیٹی بنالیں۔ جناح صاحب میں چاہتی ہوں کہ آپ بیلا کو اپنی دختر نیک اختر سمجھیں۔ ذرا ایک دفعہ انہیں اس فارس روڈ کے چنگل سے چھڑا کے اپنے گھرمیں رکھیں اور ان لاکھوں روحوں کا نوحہ سنئے، یہ نوحہ جو نواکھالی سے راولپنڈی تلک اور بھرت پور سے بمبئی تک گونج رہا ہے۔ کیا صرف گورنمنٹ ہاؤس میں اس کی آواز سنائی نہیں دیتی، یہ آواز سنیں گے آپ؟

آپ کی مخلص: فارس روڈ کی ایک طوائف

کرشن چندر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جب قربانیوں کا صلہ اجنبیت بن جائے
  • آئینۂ جمال
  • محترمہ دعا کی جدوجہد اور قربانی
  • منزل بے نشاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سرخ ٹوپی
پچھلی پوسٹ
بابا نور

متعلقہ پوسٹس

جامن کا پیڑ

مارچ 22, 2020

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

رب تعالیٰ سے عافیت مانگیں

جولائی 23, 2025

اپنی ذات کے ویران راستے

جنوری 18, 2026

ایک عجیب وحشت

جنوری 5, 2022

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

پٹھانے خان

مارچ 14, 2025

چمک، شہرت اور تلخ حقیقت

فروری 22, 2026

سر سید احمد خان کی خدمات

ستمبر 3, 2025

بابا کی گڑیا

جنوری 29, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وبا اور پہلی محبت

مارچ 29, 2020

مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ

دسمبر 22, 2024

مچھر

دسمبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں