خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابالوگ خوابیدہ ہی سہی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

لوگ خوابیدہ ہی سہی

از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2022 0 تبصرے 43 مناظر
44

ایک طرف تو دنیا کے بدلاءو کا ڈھنڈورا دونوں ہاتھوں سے نہیں بلکہ اربو ں کھربوں ہاتھوں سے پیٹا جا رہا ہے اور یہ بات باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا میں کسی بھی قسم کی شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ لوگ بلاتفریق ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہتے ہیں کسی قسم کی کوئی مذہبی منافرت نہیں ہے کہیں رنگ و نسل کا مسلۃ نہیں ہے ۔ دنیا کا یہ تیزی سے بدلتا ہوا رنگ ہ میں صرف سماجی ابلاغ پر دیکھائی دیتا ہے یہاں تک کہ بڑی بڑی نظریاتی جنگیں بھی سماجی ابلاغ پر لڑی جارہی ہیں ۔ کم از کم اس ذراءع معلومات و مواصلات سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ آج دنیا میں کہیں بھی کچھ غیر معمولی ہوتا ہے تو لمحہ بھر میں بغیر توقف دنیا کے کونے کونے میں من و عن پہنچ جاتا ہے ۔ تقریباً دودہائیوں سے اسلام اور اسکے ماننے والے مسلمانوں پر شدت پسند ہونے کا خودساختہ الزام لگایا جاتا رہا ہے ، گوکہ اس سے اسلام کو مزید تقویت ملی ہے اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے اسلام کا بغور جائزہ لیا ہے اور لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ اس عمل سے ایک طرف تو بین المذاہب ہم آہنگی کوکسی حد تک فروغ ملا تو دوسری طرف وہ لوگ یا انکا مذاہب بے نقاب ہوگیا ، جو حقیقی معنوں میں شدت پسندی کا برملا اظہار کرتے عملی طور پر دیکھائی دے رہے ہیں ۔

افغانستان کے بدترین موجودہ داخلی حالات کا ذمہ دار بھی یہی جھوٹا نظریہ رہا ہے کہ اسلام کی شدت پسندی افغانستان کی پسماندگی کی ذمہ دار ہے ۔ دنیا نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کے آج سچائی کس طرح سے چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ دنیا کی بد امنی اور اور بدترین بدنظمی کا حقیقی ذمہ دار کون ہے ۔ افسوس اس امر کا ہے کہ حق بات کہنے کی جراتِ گفتار ناپید ہوچکی ہے اور مفاد پرستی کا دور دورہ ہے ، انفرادیت سے شروع ہونے والی یہ مفاد پرستی اجتماعی سطح پر بھی واضح ہونا شروع ہوچکی ہے ۔ کشمیر کے مسلئے کو لے لیجئے روزانہ کی بنیاد پر ایسی ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں جنہیں دیکھ کر روح تک کانپ جاتی ہے لیکن نرم گرم بستروں کی آسائش بہت جلد ہی کانپتی روح کو سنبھال لیتی ہے اس سے ملتی جلتی صورتحال فلسطین کی بھی ہے وہا ں کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، لیکن کیا کوئی عملی قد م اٹھانے کی جرات کرنے کیلئے تیا رہے نہیں وہ نہتے لڑ رہے ہیں ۔ ہماری ماءوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال ہورہی ہیں لیکن ہم حسب ِ معمول سماجی ابلاغ پر سینہ کوبی بھی کر رہے ہیں اور سامنے والوں کو برا بھلا بھی کہہ رہے ہیں ۔

سن ۸۱۰۲ میں فلسطین میں رزان النجار نامی نرس کے فراءض انجام دینے والی لڑکی کو شہید کیا گیا ،جسے سماجی ابلاغ پر بھرپور پذیرائی ملی اور خوب اسرائیلی فوجیوں کو لعن طعن کیا گیالیکن اسکا کوئی قاتل ناتو نامزد ہوا اور نہیں کسی کو کوئی سزا ملی اور سب سے بڑھ کر ناہی اسکے لواحقین کو کوئی تسلی دی گئی ، اسطرح سے رزان النجار امت کی شہادت ،امت کی بیداری میں ایک حقیر کنکر سا ارتعاش پیدا کرکے تاریخ میں کسی روشن ستارے کی طرح پیوست ہوگئی ۔ جہاندیدہ کہلائے جانے والے لوگوں نے رزان کی موت پر کسی محمد ابن ِ قاسم کی امد کی امیدوں کے چراغ بھی جلائے لیکن افسوس، ہاتھوں میں پکڑے ہوئے آسیب سے باہر نکلنا محال ہوگیا ہوچکا ہے ۔

کشمیر میں بھارتی درندگی روز بروز مستحکم ہوتی چلی جارہی ہے ، جسکی سب سے بڑی مثال تقریباً دوسال قبل پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا کر ظلم اور بربریت کے پہاڑ نسل کشی کی صورت میں توڑے جا رہے ہیں جسکا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔ یقینا بھارتی حکمت عملی اور منصوبہ سازوں نے اس کرفیو کی صورت میں ایک جال پھینکا کہ دیکھا جائے کہ دنیا کا اس پر کیا رد ِ عمل آتا ہے یا پاکستان کس طرح سے مزاحمت کرتا ہے ۔ تقریباً ایسا کچھ نہیں ہوا جس کی شائد بھارتی منصوبہ سازوں نے توقع کی ہوگی، سوائے اسکے کے ابلاغ کے تمام ذراءع اس بات پر توجہ دلانے کیلئے استعمال کئے گئے ، دفتر خارجہ کی ذمہ داریوں میں بتدریج اضافہ ہوا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کے دنیا اس مسلئے کے حل کیلئے بھارت پر ممکنہ دباءو ڈالے جوکہ نہیں ہوسکا ، پاکستان کی خارجہ پالیسی کو فائدہ پہنچا اور پاکستان اپنا موقف دنیا جہان کے ایوانوں میں پہنچانے میں کامیاب ہوگیا ساتھ ہی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں دھواں دار تقریر سے بھی پاکستان کے موقف کو بھرپور جلا ملی اور کسی حدتک پاکستان کا مضبوط پیغام دنیا کی سماعتوں نے سن لیا ۔ اب جب بھارتی منصوبہ ساز اپنی حکمت ِ عملی میں کامیاب ہوگئے تو انہوں نے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو کسی نا کسی طرح سے یہ باور کرانا شروع کردیا کہ ہندوستان میں صرف ہندو رہے سکتے ہیں ۔ یہاں بھی سماجی ابلاغ اپنا کردار نبہاتا دیکھائی دیتا ہے اور پل پل ہونے والے جبر سے دنیا کو آگاہ کرتا رہتا ہے لیکن دنیا اپنی بے حسی کی بے بسی کے ہاتھوں مجبور ہے ۔ جیسا کہ لفظ ہندوتوا بارہا سرکاری سطح پراس لفظ کا بھرپور استعمال کیا جاتا رہا ہے کی جڑیں بہت مضبوط ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں ، جو لوگ وقت و حالات کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں جو لوگ زمانے کی انداز بدلنے کی بات کرتے ہیں کیا وہ بھارت کا عمومی رویہ نہیں دیکھ رہے ۔

گزشتہ دنوں بھارت کے شہر کرناٹکا میں اپنی نوعیت کا اہم ترین واقع رونما ہوا جب ہندو انتہاپسندوں کے ایک جتھے نے حجاب پہنے ہوئے مسکان نامی ایک لڑکی کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگانے شروع کردئے اور بری طرح ہراساں کرنے کی کوشش اسوقت قطعی دم توڑ گئی اس عملی صنف آہن نے اس کھوکھلے جھتے کے سامنے باقاعدہ کھڑے ہوکر نعرہ تکبیر اللہ اکبر تواتر سے بلند آواز میں بلند کیا اور اپنے عمل پر ڈٹی رہی ۔ یہ سماجی ابلاغ کا دورہے یہاں سارے کام ہاتھوں میں پکڑے تکنیکی آلات پر کئے جارہے ہیں ، لیکن اس دخترِ اسلام کی اللہ اکبر کی گونج نے اسلام کے نام لیوا چھپن ۶۵ ملکوں کے سربراہان کے ایوانوں میں ضرور ارتعاش پیدا کردیا ہوگا ۔ ایک طرف تومسکان نے بہادری کی ایک اعلی ترین مثال قائم کردی ہے اور بھارتی نظام پر اور عالم اسلام کو جھنجھوڑنے کی عملی کوشش کی ہے ۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیو دیکھ کر یقین ہورہا ہے کہ اللہ تعالی نے کس طرح سے اس بہادر لڑکی کو برجستگی سے بلا خوف و خطر نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ہمت و حوصلہ عطاء کیا ۔ جسے دیکھ کر شاعر (نامعلوم)کے یہ الفاظ باربار گردان کر رہے ہیں کہ

ہم نے سیکھا ہے آذان ِ سحر سے یہ اصول !
لوگ خوابیدہ ہی سہی ہم نے صدا دینی ہے!

اللہ تعالی مسکان کی حفاظت فرما ئیں اور اس دخترِ اسلام کی اللہ الکبر کی صداءوں سے عالم ِ اسلام میں نئی روح بیدار فرمائیں ۔ آمین یا رب العالمین

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روحانی لفنگے۔ مشتری ہشیار باش
  • بچھڑ جانا مگر کچھ اس ادا سے
  • درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی تصویر ہے
  • ڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میری یادیں میری باتیں بس اپنے پاس رکھنا تم
پچھلی پوسٹ
گاؤں سے لایا تھا شناختی کارڈ

متعلقہ پوسٹس

کسی کی یاد آنے پر مجھے تم کیوں بلاتے ہو

نومبر 5, 2020

کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی

نومبر 17, 2021

پیا سا

جنوری 27, 2020

نبی اُمّیﷺ بحیثیت معلم

جون 29, 2020

میرے دامن پہ عجب داغ لگا کر سائیاں

مئی 31, 2020

ہزار شعر

مارچ 6, 2023

جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں

نومبر 30, 2024

اللہ رب العزت کی زیارت

جنوری 9, 2025

کب تک تیری بات سنے گا کب تک جی بہلائے...

مئی 21, 2020

خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ

مئی 9, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل میں ہر آس کی تصویر

مئی 29, 2024

خامشی اپنی سُخن آثار کرنے کے...

دسمبر 6, 2019

کشتی مافیا اور ڈوبتی انسانیت کا...

ستمبر 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں