106
ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر
سو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہر
اسی امید پہ گزری ہے زندگی ساری
کبھی تو ہم سے ملوگے حجاب سے باہر
تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے
نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر
کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصل
کہ ساری دھوپ تو ہے آفتاب سے باہر
شناسؔ کھول دیئے جس نے ہم پہ سب اسرار
وہ ایک لفظ ملا ہے کتاب سے باہر
فہیم شناس کاظمی
