428
سماعتوں میں زباں سے نکل کے آتا ہے
وہ لفظ دل میں کہاں سے نکل کے آتا ہے
اک التجا ہے جو چاہو تو۔ مسترد کر دو
نہیں کا لطف بھی ہاں سے نکل کے آتا ہے
وہاں سے ظلمت شب کواجالا ملتا ہے
یہ شمس روز جہاں سے نکل کے آتا ہے
یہ زخم زخم کے اندر ہیں دائروں کی طرح
نشان جیسے نشاں سے نکل کے آتا ہے
جھکی نگاہ اٹھاتا ہے اس طرح سے وہ
کہ تیر جیسے کماں سے نکل کے آتا ہے
وہ روز خواب نگر میں محل بناتا ہے
جو شخص خستہ مکاں سے نکل کے آتا ہے
یہ نحوت غم ہجراں ، وہ کبر یکتائی
کہ کون اپنے گماں سے نکل کے آتا ہے
محبتوں کی جزا ہوکہ نفرتوں کی سزا
عدید سود و زیاں سے نکل کے آتا ہے
سید عدید
