486
دل کی اجڑی ہوئی بستی کو بسایا کرتا
وہ مرا تھا تو مری بات بنایا کرتا
مجھ پہ ساون کی طرح کاش برستا کوئی
دل کے صحراؤں کی یوں پیاس بجھایا کرتا
جس کی آنکھوں میں اتر آئے تھکن خوابوں کی
تو وہ نیندوں کے سفرپر نہیں جایا کرتا
مجھ کو منزل سے یہی حکم ملا تھا ورنہ
عشق رستے سے نہیں لَوٹ کے آیا کرتا
اپنی چادر میں چھپا لیتا مری ہستی کو
مجھ پہ اے کاش محبت کا وہ سایہ کرتا
مجھ کو پت جھڑ میں بہاروں کے اشارے ملتے
گر وہ پھولوں سے مری صبحیں سجایا کرتا
باندھ لیتی میں اگر قوسِ قزح سے زلفیں
تو وہ بادل پہ مجھے جھولا جُھلایا کرتا
عشق کے درد سے واقف جو زمانہ ہوتا
تو یہ سودا نہ کسی سر میں سمایا کرتا
اس کے دل کو بھی اگر پاسِ وفا ہوتا تو
میری چوکھٹ پہ اسے کھینچ کے لایا کرتا
منزّہ سیّد
