4
یہ مصلحت کے ڈھکوسلے سب اٹھاؤ ،جاؤ، زمانے والو
کہ مدّتوں سے سمجھ چکی ہوں یہ سارے داؤ زمانے والو
بنا ولی کے نکاح باطل ہے مانتی ہوں مگر مجھے تم
بنا محبت کے لمس کیا ہے ذرا بتاؤ زمانے والو
تمہاری اندھی عقیدتوں نے بصارتیں تک سیاہ کر دیں
مجھے سحر کی امید ان میں نہیں دکھاؤ زمانے والو
جو خود کشی کی نوشت لکھتے جوان ہاتھوں کو روکنا ہے
تو ان کی خاطر کوئی زمانہ نیا بناؤ زمانے والو
خدائے برتر بدل تو سکتا ہے روسیاہی کو روشنی سے
دل و نظر کو خرابیوں سے اگر بچاؤ زمانے والو
ماوٰی سلطان
