103
جون کا میں درد ہوں ناصر کی میں آواز ہوں
زیب میرا نام ہے پر میر کا انداز ہوں
رونقِ بزمِ حنا کا میں تو یہ اعجاز ہوں
بےمروّت جتنا ہوں اتنا سخن پرداز ہوں
مے کدے کی محفلوں کی جان ہیں میرے یہ شعر
بس اسی کارن سبھی میں اس قدر ممتاز ہوں
میں تھپک کے ہاں سلایا تو گیا یعنی صنم
میں تو دشتُ دریا کے طوفان کا ہمراز ہوں
بےکلی میں کیا حلاوت ہے؟ بتاوں کیا تمہیں
یوں سمجھ لو اس حلاوت کا کھنکتا ساز ہوں
اپنی تصویرِ جنوں کو دیکھ کر سمجھا کہ میں
تو مقلد جون کا ہوں_ درد کا ہم راز ہوں
محمد شاہ زیب احمد
