خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوہ آکاس سے تارے چرا لایا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

وہ آکاس سے تارے چرا لایا

از سائیٹ ایڈمن مارچ 26, 2023
از سائیٹ ایڈمن مارچ 26, 2023 0 تبصرے 41 مناظر
42

طلوع و غروب آفتاب کے ارغوانی مناظر میں سوریا دیوتا کا مندر ایک خونیں کیفیت میں نظر آتا تھا۔ پروہت دونوں وقت دیوتا کے سامنے ملول و غمگین بیٹھا رہتا۔ سوریا کی یہی خونیں رنگت اکلوتی بیٹی کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کا دل مٹھی میں آ جاتا۔

وہ نسل در نسل اسی مندر کے خدمت گار تھے۔ جنم کے فوراً بعد ماتا نے دیوتا کے چرنوں ڈال دیا۔ اس نے اسی فرح بخش معبد کی حدود میں پرورش پائی۔

وہ بوڑھا ہو گیا اور اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔ کئی بار اس کی امید راستہ میں ہی دم توڑ گئی لیکن اس نے کبھی کسی اور دیوتا کے سامنے ماتھا نہ ٹیکا۔ اب کی بار جب امید نے ایک حسین صورت اختیار کی ہے تو اس نے بچی کو گود میں لے کر دیوتا کے گرد سات چکر لگائے۔ نذر چڑھائی، بخور سلگایا اور پراتھنا کی کہ سوریا اس مورتی کو پھلنے پھولنے کی ہمت دے۔

دعا مانگ کر اس نے غور سے بچی کو دیکھا تو دل بجھ گیا اور وہ پھر دیوتا کے چرنوں میں گر پڑا۔
صد افسوس اس کی آنکھوں میں خون ہی خون تھا، نور نہیں تھا۔
کئی سال گزر گئے۔ وہ جوانی کی پیڑھی پر قدم رکھ رہی تھی۔ بہت خوبصورت تھی۔

شام کو وقت رخصتیں جب سوریا دشت و کوہ پر پڑے اپنے ارغوانی دامن کو سمیٹ لیتا اور ہر طرف اندھیرا چھا جاتا تو پورا مندر اس کے نورانی چہرہ کے عکس سے منور و درخشاں ہو جاتا لیکن آنکھیں اور بھی اندھیری ہو جاتیں۔

ستاروں کی نرم ٹھنڈی شعائیں جب درختوں کو ابریشم کا لباس پہنا دیتیں تو وہ چندرما کی چمک میں اس کے لیے روشنی تلاش کرتا۔ دن کے وقت جب ہر طرف چمک، نور کی برسات اور رنگوں کی بہار رہتی وہ سوریا دیوتا سے پراتھنا کرتا رہتا کہ کچھ نور اسے بھی دان کر دے۔ جتنا وہ دیوتا کو پکارتا اتنا ہی وہ اسے نوازتا لیکن اس کی دلی خواہش پوری نہ ہوئی۔ پراتھنا اس کے درجات بڑھاتی، مراد پوری نہ کرتی۔

ایک رات جب پوری کائنات سو رہی تھی، وہ سوریا کے سات گھوڑوں والے رتھ کے گرد چکر کاٹ رہا تھا۔ چاروں اور موجود عود دانوں سے بخور کی خوشبو بلند ہو رہی تھی۔ چندرما اس کا دکھ دیکھ کر چھپ گیا۔ سحر ابھی بہت دور تھی، وہ پکار رہا تھا،

”سوریا، میرے آقا، میرے دیوتا، ساری عمر میں نے اپنے شیش پر تجھے سنبھالے رکھا، ساری زندگی تیرے چرنوں میں گزار دی۔ میرے بھگوان! اس کے نینوں میں جیوتی کا دیپ جلا دے۔ ان پر چھائی رات کی اندھیری چھت کو الٹا دے ان میں اپنا نور ڈال دے۔“ یہ پکارتے پکارتے وہ سو گیا۔

آنکھ کھلی تو وہ خواب گاہ الوہیت کے سامنے تھا۔ بنات النعش اس کے گرد حلقہ بنائے کھڑی تھیں۔ اوج ثریا پاؤں کے نیچے تھا۔ کہکشائیں جھولا جھلا رہی تھیں۔ خلوت گاہ مقدس میں جھانکا، دیوتا معطر و منور صباحتوں کو اپنی آغوش میں سمیٹے سو رہا تھا۔ اس نے سر جھکا کر پرنام کیا۔ کوئی جواب نہ پایا۔ ہاتف غیبی کی خاموشی نے اس کا دل توڑ دیا۔ وہ مڑا اور آکاس کی وسعتوں میں گھومنے لگا۔ ہر طرف نور ہی نور تھا۔ اگن گولے آوارہ گھوم رہے تھے۔

وہ کبھی کسی کے پاس جاتا کبھی کسی کے۔ بیٹی کی آنکھوں کا نور کہیں دکھائی نہ دیا تو وہ الوہی ہجرے کی طرف لوٹ آیا۔ وہی خاموشی، وہی سکون لیکن اس کا دل بیتاب الجھتا جا رہا تھا۔ دھڑکنیں تیز ہوئیں تو کائنات تھرتھرانے لگی۔ زلزلہ آ گیا، ستارے بکھر گئے۔ وہ دمدار ستاروں کے پیچھے بھاگ کر انہیں پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔

سوریا نے انگڑائی لی، رتھ کے گھوڑے ہنہنائے تو کائنات بھی جاگ اٹھی۔
وہ دھرتی پر واپس آ کر مندر میں دیوتا کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔
***
اب وہ بہت خوش تھا۔ راتوں کو نیند بھی ٹھیک آتی۔
پھر ایک گھور اندھیری رات میں ایک دیودوت بڑے بڑے شہپروں میں ملبوس اپنے پرداروں کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا۔

وہ خوفزدہ ہو کر کانپ اٹھا۔ دیودوت بہت غصے میں تھا۔ پرداروں نے اسے گردن سے جکڑ لیا۔

دیودوت چلایا، ”منش جاتی کو ہم نے جہاں بھی رسائی دی اس نے اپنی بونگی خواہشات کی تکمیل کے لالچ میں وہیں کائنات کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس نے کبھی بھی نہ سوچا کہ اس گلدستے سے کوئی ایک بھی چیز نکال لی جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔“

وہ بولنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پرداروں کے پنجے اس کے حلقوم پر اتنا دباؤ ڈالے ہوئے تھے کہ آواز نہ نکل سکی۔

”سارے مندر کی تلاشی لو۔“ دیودوت نے حکم دیا۔

”اس رات الوہی نربان کا غلط استعمال ہوا۔ منش جاتی نے دیوتاؤں کی کرپاؤں کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ کوئی سدیم سے ذرات نور چرا لایا۔ ہم نے پست فطرت پرش کی عادت سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ اب پتا چلا ہے کہ دو ستارے گم ہیں۔“

تھوڑی دیر میں ہی پردار اس کی بیٹی کو پکڑ کر لے آئے۔
”آقا یہ اندھی تھی اب اس کی آنکھوں میں نور چمک رہا ہے۔“

پروہت نے ایک جھٹکے سے اپنی گردن چھڑائی۔ وہ حیران رہ گئے ایک پرش میں اتنی طاقت کہاں سے آئی کہ سورگ کے پرداروں کو دھکیل دیا۔

”یہ نور میرے دیوتا سوریا کی کرپا ہے۔ میری ساری زندگی کی تپسیا کا انعام ہے۔“
بیٹی نگاہیں جھکائے کھڑی تھی۔ وہ آگے بڑھا اور گلے سے لگا کر اس کی آنکھیں چومنا شروع کر دیں۔

پرداروں نے لڑکی کو اس سے چھین کر دیودوت کے سامنے کیا۔ ایک پردار نے پروہت کو پھر جکڑ لیا۔ وہ تکلیف سے بلبلانے لگا تو اس کی بیٹی دیودوت کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ پلکوں کو خوب سے اوپر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی،
”غور سے ان آنکھوں میں جھانک کر دیکھو اور اپنے ستارے پہچان لو۔“

دیودوت نہوڑا کر ان میں دیکھنے لگا۔ اس نے پرداروں کو بھی بلا لیا۔ سب اسے دیکھ رہے تھے۔ ان میں بحث چھڑ گئی۔ لڑکی پلکیں جھپکاتی ان کی طرف دیکھتے جا رہی تھی۔ پروہت کو انہوں نے چھوڑ دیا۔ وہ بھاگ کر بیٹی سے لپٹ گیا۔ پورے مندر میں بخور کی خوشبو بکھر گئی۔ عود دانوں سے اگلتا دھواں مزید گہرا ہو گیا۔

ایک پردار گھٹنوں کے بل دیودوت کے سامنے جھک کر بولا، ”آقا میں صدیوں سے ان ستاروں کی حفاظت پر معمور ہوں، گرچہ وہ بڑی آب و تاب والے تھے لیکن ان میں اتنی تابانی تھی نہ درخشانی۔ یہ وہ ستارے نہیں۔“
وہ خشمگیں نگاہوں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے واپس چل پڑے۔
بیٹی بھاگ کر باپ سے لپٹ گئی۔

پروہت بے تاباں آنکھیں چومتا جا رہا تھا۔ بیٹی نے حیرانی سے اس سے پوچھا، ”انہوں نے اپنے ستاروں کو کیوں نہیں پہچانا؟“

پروہت نے پھر چوما اور بولا،
”تمہاری چشم شرمگیں میں باپ کی محبت بس چکی ہے جس سے نور کئی گنا بڑھ گیا۔ سماوی مخلوق صرف الوہی نور کی عادی ہے۔ ان کی آنکھیں پلکوں کی اوٹ میں حشر کا یہ تاباں و درخشاں ساماں دیکھ کر چندھیا گئیں اور وہ اپنے ستارے نہ پہچان سکے۔“

 

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عروج و زوال
  • کیلا کھائیے ، صحت بنایئے
  • اک حسیں دشت میں پر نور نظارہ دیکھا
  • مفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ: ایک ستارہ اور ٹوٹ گیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نقرئی لومڑی
پچھلی پوسٹ
چنگ و رباب لے لیے تلوار کے عوض

متعلقہ پوسٹس

عقل داڑھ

جنوری 20, 2020

سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

دسمبر 16, 2025

کوئی نظم بجاتا جا رہا تھا

جولائی 16, 2020

خدا کے سامنے ہمیشہ منکسر رہیں!

نومبر 26, 2025

جو بھی ایثار کر نہیں سکتا

نومبر 26, 2025

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات

نومبر 9, 2025

موبائل کیمرہ اور بےحسی

جون 5, 2020

ایک عجیب وحشت

جنوری 5, 2022

قرآن میں جنگ کے احکام

دسمبر 6, 2025

شعلہ، کبھی شبنم، کبھی خنجر تری آنکھیں

نومبر 3, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عداوت کی نشانی چل رہی ہے

مئی 21, 2020

چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے...

مئی 22, 2021

نہ ڈھولکی سے نہ ہی تالیوں...

ستمبر 24, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں