104
قسم سے کتنا ڈری ہوئی تھی
جو بات لب پر دھری ہوئی تھی
تمہارے آنے سے جی اٹھی ہے
یہ زندگی جو مری ہوئی تھی
بس اک نظر سے یہ شاخِ مردہ
کہیں کہیں سے ہری ہوئی تھی
مجھے مکمل نہیں ۔۔۔بنایا
عجب سی کوزہ گری ہوئی تھی
تمہارے چھونے سے میری دھڑکن
سدا کی کھوٹی کھری ہوئی تھی
غزل کے غنچے مہک رہے تھے
سخن کی ڈالی بھری ہوئی تھی
ہرے تھے عنبر کے زخم سارے
یہ کیسی چارہ گری ہوی تھی
فرحانہ عنبر
