406
صرف آواز کا فاصلہ تھا
وہ وگرنہ برابر کھڑا تھا
پھول بھیجے نہیں جا سکے تھے
بیگ میں خط پڑے رہ گئے تھے
بیل دیوار سے بڑھ گئی تھی
رابطہ بوجھ بننے لگا تھا
خود کو عجلت میں آدھا سمیٹا
وقت سے پہلے چلنا پڑا تھا
دیر سے سوچنے کی سزا میں
دور تک سوچنا پڑ۔گیا تھا
تیری تصویر سے گفتگو کی
اور دیوار کو در کیا تھا
زندگی کھانستی تھی رگوں میں
سانس نے جسم کو پی لیا تھا
منیر جعفری
