100
رات بھر دل سے کہیں شور جرس آتا ہے
یاد جب تیرے بچھڑنے کا برس آتا ہے
اب کسی زخم کو بھرنے کی ضرورت ہی نہیں
اب تو ہر زخم سے اک پھول کا رس آتا ہے
شاخ در شاخ سفر کرتے ھوئے ہمسفرو
ایسی پرواز میں اک باب۔ قفس آتا ہے
کیسے پلکوں سے گرے اور زمیں بوس ھوئے
دل سے اترے ھوئے لوگوں پہ ترس آتا ہے
ہم سے درویش بھی راہوں میں بھٹک جاتے ہیں
اس محبت میں بھی اک شہر ۔ ہوس آتا ہے
حبس کا کون سا موسم ہے کہ شب بھر فوزی
اب ہوا چلتی ہے یاں خار نہ خس آتا ہے
فوزیہ شیخ
