114
وہ دستکیں
وہ دستکیں
جو تمہاری پوروں نے ان دروں میں انڈیل دی ہیں
وہ آج بھی
ان کے چوب ریشوں میں جاگتی ہیں
تمہارے قدموں کی چاپ
چپ ساعتوں میں بھی
ایک ایک ذرے میں بولتی ہے
تمہارے لہجے کے میٹھے گھاؤ سے
آج بھی
میرے گھر کا کڑیل چٹان سینہ چھنا ہوا ہے
کوئی نہ جانے
کہ ہنستے بستے گھروں کے اندر بھی
گھر بنے ہیں
جہاں مقفل ہیں بیتے لمحے
صبیح دن
اور ملیح راتیں
یہ واقعہ ہے
کہ جو علاقہ تمہارے جلووں کی زد میں آیا
اجڑ گیا ہے
اجاڑ آنگن تمہاری پہچان ہیں
یہاں
لوگ خود کو کیسے شناختیں گے
ڈاکٹر وحید احمد
