خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابالاہور سے شیلا باغ تک
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

لاہور سے شیلا باغ تک

از سائیٹ ایڈمن اگست 20, 2020
از سائیٹ ایڈمن اگست 20, 2020 0 تبصرے 52 مناظر
53

لاہور سے شیلا باغ تک

خوشیا لاہورسے جعفر ایکسپریس پر سوار ہوا تھا۔ وبا کے سبب چھ افراد کے کمپارٹمنٹ میں چار کی بکنگ ہو رہی تھی۔ وہ کل چھ افراد تھے مجبوراً دو کمپارٹمنٹ بک کروانے پڑے۔ بچے اور اس کی بیوی ایک میں چلے گئے اور تمام سامان دوسرے میں رکھ دیا گیا۔ وہ بھی اسی کمپارٹمنٹ میں آ گیا۔ بظاہر پورا خاندان اس کے ساتھ تھا اور ٹرین بھی بھری ہوئی تھی۔ لیکن وہ تنہا تھا۔ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو یادوں کی بارات اس کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔

خوشیا کی عادت تھی کہ وہ ہر چیز کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیتا تھا۔ حالات وواقعات کا بغور مطالعہ کرتا تھا۔ وہ اپنے بچوں کو لے کر کوئٹہ نہیں جانا چاہتا تھا۔ بلوچستان کے حالات مخدوش تھے۔ اگر چہ اب اغوا اور بم دھماکے شاذہی ہوتے تھے لیکن اس کا خوف ابھی برقرار تھا۔ بچوں کی ضد تھی کہ پورا ملک دیکھ چکے ہیں، اب کوئٹہ جانا چاہیے۔ اس کے بھائی کی پوسٹنگ ادھر ہوئی تو بچوں نے اور بھی زور دینا شروع کر دیا۔

گاڑی لاہور اسٹیشن سے رات آٹھ بجے چلی۔ بچوں کے ساتھ کھانا کھایا اور اپنے کمپارٹمنٹ میں برتھ پر لیٹ کراس نے سگریٹ سلگا لی۔ لمبا کش لے کر دھوئیں کے مرغولوں سے سوچوں کے دائرے بنانے لگا۔ دھوئیں کے یہ چھلے پیچ در پیچ ابھرتے ہوئے چھت کی طرف جا رہے تھے ان میں اسے ایک ہیولا سا ابھرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

وہ جوانی میں دوستوں کے ساتھ جب کوئٹہ گیا تو اس وقت بھی روسی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی اور مہاجرین کی آمدکی وجہ سے بلوچستان کے حالات بہت خراب تھے۔ وہ سب خوفزدہ تھے لیکن لاہورریلوے سٹیشن پر ہی انہوں نے شرارتیں اور تاکا جھانکی شروع کردی تھی۔ کوٹ رادھا کشن سے تھوڑا آگے جا کر ویرانے میں گاڑی خراب ہو گئی اور کئی گھنٹے تک ادھر کھڑی رہی۔ پھر اسے وہ چہرہ نظر آیا جو ابھی بھی اکثر اسی کی نیندیں اڑا دیتا تھا۔

کھڑکی کے فریم میں وہ نازنین، مہ جبیں اسے بطور تصویر کے نقش بہ دیوار دکھائی دے رہی تھی۔ کوئٹہ تک ہر سٹیشن پر وہ اسے دیکھنے جاتارہا۔ ایک دن کے سفر میں وہ دونوں انتہائی قریب آ گئے تھے۔ اس کا تعلق کوئٹہ سے ہی تھا اوراسٹیشن پر اترنے سے پہلے ہی وہ اسے خداحافظ کہہ کر جدا ہو گئی۔ اتنے سالوں کے بعد آج بھی سوچوں کی پاتال میں ڈوبی ہوئی وہی مورت دھویں کے بادلوں میں ہیولا بن کر ابھر رہی تھی۔ اب وہ یہ سفر اسی یاد کے سہارے کرنا چاہتا تھا۔ یوں ہی جاگتے ہوئے، سوئے ہوئے، خیالوں خوابوں میں کھوئے ہوئے اسے جب ہوش آیا تو دن چڑھ چکا تھا اور گاڑی روہڑی سے چل پڑی تھی۔ وہ بھاگ کر دروازے میں آ گیا۔

ٹرین سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی دریاے سندھ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دور سے کرمچی رنگت کا چابی والا پل اورسفید ایوب برج آگے پیچھے کھڑے یوں دکھائی دے رہے تھے جیسے افق کی حسینہ نے ماتھے پر دو رنگا تاج سجا رکھا ہو۔ ابھرتے ہوئے سورج کی دلفریب شعاؤں نے لوہے کے ستونوں، شہتیروں اور محرابوں سے الجھ کرسندھ کے پانی اور سبزے کو شفق گوں سا رنگ دیا تھا۔ ٹرین اس پل کو پار کرنے والے پہلے ڈرائیور شیدی جمالو کا نام الاپتی، ہو جمالو، ہو جمالو گاتی ہوئی آہستہ آہستہ سکھر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ وہ سندھ کے قرمزی پانی میں نظریں جمائے مست کھڑا تھا کہ اسے اپنے پیچھے کسی دوسرے کی موجودگی کا احساس ہوا، مڑ کر دیکھا۔ ۔ ۔ تو، وہی تھی۔

ہاں، ہاں! وہی تھی؟
نہیں، وہ نہیں!
اس جیسی ہی کوئی اور تھی۔

وہی جوان رعنا مہ جبین، سرو قد، وہی سرخ وسفید پشتون چہرہ بازلف مشکیں، تیکھا ناک، دائیں رخسار گلگوں پر گودے ہوئے چار کالے نشان ’شین خالئی‘ ۔ خوبرو گہری بھوؤں کے درمیان گودا ہوا کالا تل۔ دنداسے کے سرخ رنگ سے رنگے ہوئے ہاتھ اور پاؤں۔ دوپٹے کا کنارہ دانتوں میں ایسے دبایا ہوا تھا کہ آدھا چہرہ اس میں چھپ گیا تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پرموجود تھی۔ اتنی دیر میں گاڑی سکھر سٹیشن پر رک گئی۔ وہ آگے بڑھی تو خوشیا ڈبے کی دیوار میں دبک گیا۔

وہ آہستہ سے چلتی ہوئی پلیٹ فارم پر اتر گئی۔ خوشیا اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ اپنی عادت کے عین مطابق وہ اس کی چال ڈھال اور جسم کے نشیب و فراز کو بغور دیکھ رہا تھا۔ ربع صدی پہلے کے دیکھے ہوئے جسمانی مدو جزر نے اس کے خون کی متلاطم لہروں کو آج پھر تیز کر دیا تھا۔ وہ نظروں سے اوجھل ہوئی تو پریشان ہو گیا۔ لیکن اسے پکا یقین تھا کہ اس کی منزل بھی کوئٹہ ہی ہے اور وہ دوبارہ ضرورملے گی۔

شکار پور میں وہ اسے ڈھونڈتا رہا لیکن کہیں نظر نہ آئی۔ جیکب آباد میں گاڑی کافی دیر رکی رہی۔ ادھرسندھی ٹائلوں سے سجے ہوئے دلفریب سٹیشن پر اس کی ایک جھلک دیکھتے ہی قوس قزح کے رنگ بکھرگئے۔

گاڑی بلوچستان کی حدود میں داخل ہوئی ہی تھی کہ ایک ویران سے ریلوے سٹیشن، ڈیرہ اللہ یار پر رک گئی۔ اس کا ڈبہ پلیٹ فارم کی حدود سے باہر ہی تھا۔ وہ تو بھول چکا تھا کہ بلوچی علاقوں میں خطرات موجود ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد فرینٹئر کانسٹیبلری کے جوان ڈبے چیک کرتے ہوئے اس کے پاس آ ئے۔ دو سدھائے ہوئے کتوں نے اس کے سامان کو بھی سونگھا۔ وہ باہر والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ ساتھ والا دروازہ کھلا تو اس کمپارٹمنٹ میں اسے اس کی جھلک دکھائی دی۔

اب اس کا زیادہ سفر اسی سیٹ پر بیٹھ کر ہی جاری رہنا تھا۔ سبی سٹیشن پر اس نے اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ وہ بھی اسی سٹال سے کھانا لے رہی تھی۔ وہاں ان کی آنکھیں چار ہوئیں تو اس نے ہلکی سی مسکراہٹ بکھیر کرسبی کی گرم ہواؤں کو ٹھنڈا کر دیا۔ ”آپ نے کہاں جانا ہے؟“ خوشیا نے ہمت کر کے اسے پوچھ ہی لیا۔ ”کوئٹہ“ جواب اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔

ٹرین درہ بولان میں کسی الھڑ دوشیزہ کی طرح پوری آب و تاب سے بل کھاتی ہوئی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ اس علاقے میں پولیس اور ایف سی والے ہر طرف نظر آ رہے تھے۔ تاریخی درہ بولان، جس کے سنگلاخ پہاڑوں اور آبی گزر گاہوں کو پار کرتے ہوئے کئی جنگجو اور قافلے راستے میں ہمت ہار کرجان گنوا بیٹھے، آج بھی اپنی پوری ہیبت کے ساتھ ریل کی پٹڑی کو گھیرے ہوئے تھا۔ اب بھی اس علاقے میں ملک دشمن عناصر کی موجودگی کا امکان پایا جاتا تھا۔

یہی خوف اسے اس سفر سے روک رہا تھا۔ سرنگ سے گزرتے ہوئے جب ہر طرف اندھیرا چھا جاتا تو اس کا دل ان باتوں کو سوچ کر مزید کانپنے لگتا۔ ایک لمبی سرنگ سے گزرتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھاshela bagh salamurdu کہ اسے اپنے پیچھے پھر اس کی موجودگی کا احساس ہوا۔ مڑ کر دیکھا تو وہی مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ”کتنا خوبصورت سفر ہے؟“ وہ کہنے لگی۔ ”لیکن، خوفناک بھی۔“ خوشیا نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ”نہیں، فکر والی کوئی بات نہیں۔ ایف سی والے ساری ٹریک کو پہلے چیک کرتے ہیں پھر ٹرین کو روانگی کی اجازت ملتی ہے۔“ اس نے پور ے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ ”ایف سی کے جوان کوئٹہ تک ہمارے ساتھ ہی رہیں گے۔“

”تم کہاں سے آ رہی ہو؟“
”میں تمہارے ساتھ ہی لاہور سے سوار ہوئی ہوں۔“
”کیا تم اکیلی ہو؟ تمہیں ڈر نہیں لگتا؟“

”میں اکثر آتی رہتی ہوں۔ یہ میرا ملک ہے۔ مجھے کیوں ڈر لگے گا۔ تمہیں پتا ہے اس روٹ پر پورے ملک کی نسبت سب سے کم حادثات ہوتے ہیں۔ اکا دکا ہونے والے واقعات سیاسی وجوہات کی بنیاد پر زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔“ اس کا لہجہ بہت پر اعتماد تھا۔

ٹرین کے ساتھ تین انجن لگے ہو ئے تھے ایک آگے دو پیچھے۔ وہ پھر بھی بہت آہستہ چل رہی تھی۔ سرنگ کے اندر ٹرین داخل ہوئی تو خوشیا نے اسے تھام لیا۔ حال اور ماضی کے ہاتھوں نے اسے مضبوطی سے جکڑ لیا۔ روشنی ہوتے ہی وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔

گاڑی مچھ سٹیشن پر رک گئی۔ وہ سوچ رہا تھا کاش یہ ساری عمر ادھر ہی رکی رہے۔ یا پھر واپس ہی چل پڑے، دوبارہ آنے کے لئے۔

وہی ہوا۔ گاڑی واپس چل پڑی۔ وہ حیران ہو گیا۔ کہنے لگ، ”یہ ریورس ہو رہی ہے، کیوں؟“

بولی ”پہاڑی سلسلے کا کٹاؤ اتنا زیادہ ہے کہ پٹری سیدھی اسٹیشن پر نہیں پہنچتی۔ اس لئے پہلے ٹرین آگے جاکر رکتی ہے پھر ریورس ہو کر ٹریک تبدیل کر کے پلیٹ فارم پرآ کر لگتی ہے۔“

وہ مسکرا اٹھا۔
”تمہارا کیا نام ہے؟“
”آرامش“
”اور تمہارے ساتھ جو خواتین ہیں؟“
”میری دوست ہیں نہ رشتہ دار، لیکن میں ان کی وجہ سے ہی ادھر ہوں۔“
”کیا مطلب؟“
”میں ابھی نہیں بتا سکتی۔“
”اب کوئٹہ آنے والا ہے۔ تم چلی جاؤ گی۔ پھر کہاں ملا قات ہو سکے گی؟“
”شیلا باغ۔“
”شیلا باغ؟ درہ کوژک میں۔ کوئٹہ چمن شاہراہ پر، وہ تو انتہائی خطرناک علاقہ ہے۔“
”خاطر جمع شدن، میں ادھر ہی ہوں گی ۔“
اگلے ہی دن خوشیا نے سب کو ساتھ لے کر چمن جانے کا پروگرام بنا لیا۔

پاکستان کا خوبصورت ترین ریلوے اسٹیشن شیلا باغ، کوئٹہ سے 112 کلو میٹر دور، اس نرتکی کے نام پر ہے جس کے اعضا کے نرت بھاؤ پر بل کھاتی ہوئی ریلوے لائن کوژک ٹنل میں داخل ہوتی ہے۔ دور سے سرنگ کا دہانہ پہاڑیوں کے بیچ افق سے ابھرتے ہوئے سرخ چاند کی طرح نظر آ رہا تھا۔ پریوں کا یہ دیس خواجہ عمران پہاڑی سلسلہ کی گود میں آباد ہے۔ دو منزلہ عمارت بلوچی مٹی کے رنگ کی پیلی انیٹوں اور سرخ سیمنٹ سے بنی ہوئی تھی۔ بل کھاتا ہوا راستہ بھی انہیں دو رنگوں سے سجا ہوا تھا۔

پگڈنڈی کے اطراف رکھے گئے چھوٹے چھوٹے گول پتھروں کو بھی سفید اور سرخ رنگ دیا گیا تھا۔ اگر چہ کئی ہفتوں سے بارش نہیں ہوئی تھی لیکن پوری عمارت اور پلیٹ فارم دھلا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ان کے استقبال کی تیاری کئی دنوں سے کی جارہی ہے۔ لیکن ان کے آنے کی کسی کو خبر نہیں تھی۔ وہ سوچ رہا تھا، یہ بات سچ ہے کہ یہاں کے باسی مہمانوں کے انتظار میں ہمیشہ ایسے ہی چشم براہ رہتے ہیں۔ خوشیا دنیا کے بہت سے ممالک گھوم چکا تھا لیکن اتنا پیارا اور صاف ستھرا ریلوے اسٹیشن اس نے کہیں بھی نہیں دیکھا تھا۔

کئی سیڑھیاں اتر کر وہ پلیٹ فارم پر پہنچے۔ دو مزدور ایک ٹھیلے کے پاس کھڑے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ چھوٹے بچے بھاگ کر ٹھیلے پر موجود بنچ پر بیٹھ گئے۔ بڑا لڑکا ا اور وہ بنچ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ وہ چاروں طرف نظرگھما رہا تھا لیکن آرامش کہیں دکھائی نہ دی۔ دور دور کی پہاڑیاں بھی ویران تھیں۔ سگنل ڈاؤن ہو چکا تھا۔ ایک مزدورٹھیلے کے پیچھے بیٹھ گیا دوسری طرف کے مزدور نے دھکا لگا نا شروع کیا۔ اتنے افراد کو بٹھا کر ریل کی پٹری پر جوتے سمیت ٹھیلے کو بھگانا سخت محنت اور مہارت کا کام ہے۔ سرنگ کا پہلا حصہ چڑھائی ہے۔ کبھی ایک آدمی دھکا لگاتا جب وہ تھک جاتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ سرنگ تقریباً چار کلومیٹر لمبی ہے۔

اندھیری سرنگ کے درمیانی حصہ میں نصب گھڑیال کے نیچے وہ موجود تھی۔ ٹرین میں اس کے ساتھ موجود دونوں عورتیں بھی پاس ہی بیٹھی ہو ئی تھیں۔ وہ گھڑیال کو حرکت دے رہی تھی۔ اس موڑ کے بعد ڈھلوان شروع ہو گئی۔ اندھیرے میں اسے صرف ایک جھلک دکھائی دی تھی۔ خوشیا کا دل چاہتاتھا کہ وہ چھلانگ لگا دے۔ وہ مڑ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ گھنٹی کی آواز سن کر ٹھیلے کو دھکا دینے والے دونوں مزدور چھلانگ لگا کو اس پر سوار ہو گئے۔ ٹھیلے پر لگا ہوا ریلوے کا تکونا سرخ جھنڈا اور بھی تیزی سے لہرانے لگا۔

ڈھلوان پر جونہی رفتار تیز ہوئی بچوں نے خوشی سے چیخنا شروع کر دیا۔ چار کلو میٹر لمبی سرنگ پلک جھپکتے ہی گزر گئی۔ شانزلہ اسٹیشن آیا، ٹھیلے کی رفتار اور بھی بڑھ گئی۔ سگنل ڈاؤن تھا۔ سگنل مین ہری جھنڈی لہرا رہا تھا۔ ریلوے لائن بل کھاتی ہوئی مختلف سرنگوں سے گزرتی ہوئی چمن کی طرف جا رہی تھی۔ دور بہت دور افغانستان بھی نظر آ رہا تھا۔ ایک دو کلو میٹر مزید سفر کرنے کے بعد دونوں ڈرائیوروں نے بریکیں لگانی شروع کیں۔ رفتار آہستہ ہوئی اور ٹھیلہ گڑنگ پوسٹ کے سامنے رک گیا۔

خوشیا کا دل و دماغ ادھر ہی الجھا ہوا تھا۔ جس کار میں وہ آئے تھے وہ شیلا باغ اسٹیشن پر پارک تھی۔ اس نے بیوی بچوں کوگڑنگ پوسٹ پر بٹھایا اور خود ایک ویگن میں سوار ہو کر واپس چل پڑا۔ وہاں آکر اس نے اسٹیشن کی بجائے کوژک ٹنل کا راستہ لیا۔ اندھیرے میں تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ اسے سامنے سے آتی ہوئی آرامش مل گئی۔

”تم اکیلی اس سرنگ میں! تمہارے ساتھ والی عورتیں کہاں ہیں؟“
”میں انہین ادھر دفن کر آئی ہوں۔“ وہ پر سکون لہجے میں عجیب بات کر رہی تھی۔ پھر پوچھنے لگی،
”لیکن تم بھی اکیلے ہی اس سرنگ میں! تمہیں تو اندھیری سرنگ اور اس علاقے سے ڈر لگتا تھا۔“
خوشیا سینہ پھلا کر بولا،

”اب میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ یہ میرا ملک ہے مجھے کسی سے خوف کھانے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن تم ان کو کیوں دفن کر آئی ہو؟ وہ کون تھیں؟“

”میں ان سب کو ادھر ہی دفن کرتی ہوں۔ وہ تمہارا خوف تھیں۔ تمہارا فوبیا۔“
”اور تم کون ہو؟“ وہ حیران ہو کر بولا۔

”میں ہوں، آرامش۔ تمہاری بے خوفی، تمہارا سکون۔ دیکھو! تمہیں اس علاقے میں کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرور ت نہیں۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں۔ جاؤ! اپنے بچوں کے ساتھ پورا علاقہ دیکھو۔“

”اور تم اب کدھر جا رہی ہو؟“
” واپس لاہور۔“

خوشیا کو دیکھ کر اس کے پیچھے ریلوے کے ملازم بھی آ گئے تھے۔ جب وہ اس کے پاس پہنچے تو وہ پٹری پر اکیلا بیٹھا سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پڑیئے گر بیمار
  • تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا
  • کوئی آواز
  • ہم گاتے رہیں صبحِ وطن کا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فیض صاحب کے دو اشعار (آنجناب کی فرمائش پر )
پچھلی پوسٹ
فارغ

متعلقہ پوسٹس

عاجزانہ مزاج رکھتے ہیں

دسمبر 20, 2022

آب گم سے

دسمبر 16, 2019

خوشبو کی کوئی منزل نہیں

جون 15, 2020

دل کے چرخے پہ سُوت سانسوں کا

نومبر 18, 2020

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

دسمبر 29, 2019

کالموں میں لکھے جانے والے غلط اشعار کا تعاقب

مئی 16, 2020

میجر سبطین حیدر

اکتوبر 11, 2025

عباس تابش ـ ایک مطالعہ

نومبر 3, 2020

رازوں کی شام

دسمبر 15, 2024

رو رہا ہوں میں

جولائی 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے...

اکتوبر 31, 2021

جنم بھومی

جون 14, 2020

خوراک غم کو کر لیا جینے...

مارچ 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں