410
نئی رتیں ہیں زمانے بدلنے والے ہیں
سنا ہے غم کے فسانے بدلنے والے ہیں
خزاں رسیدہ چمن میں اداس شاخوں پر
پرندے اپنے ٹھکانے بدلنے والے ہیں
وہ جن کے پیار میں گزری ہے زندگی میری
مرے وہ دوست پرانے بدلنے والے ہیں
نئے ہیں سارے تقاضے نئی ہے راہ ِ وفا
محبتوں کے ترانے بدلنے والے ہیں
عدو سے کوئی بھی خطرہ نہیں رہا ہم کو
کہ دوست اپنے نشانے بدلنے والے ہیں
بدل رہی ہے کئی کروٹیں جبیں ان کی
نیا جنوں ہے فسانے بدلنے والے ہیں
تم اپنا طرز ِ محبت بدل بھی لو عاصم
وفا کے طور پرانے بدلنے والے ہیں
عاصم ممتاز
