100
غموں کی دھوپ سے خود کو بچانا غیر ممکن ہے
ملے زلفوں کا سب کو شامیانہ غیر ممکن ہے
تجھے میں بھول جاونگا مگر کچھ وقت دے مجھکو
کسی کو یوں اچانک بھول جانا غیر ممکن ہے
مرے اللہ نے جو کچھ دیا میرے مقدر میں
کوئی چھینے وہ میرا اب و دانا غیر ممکن ہے
کسی گلشن میں گل کے ساتھ کانٹے بھی ضروری ہیں
گلوں کو ورنہ دشمن سے بچانا غیر ممکن ہے
تمہیں نے زخم بخشے ہیں، تمہیں مرہم لگاو گے
سبھی کو آپنے زخم دل دکھانا غیر ممکن ہے
جدھر بھی دیکھئے، بس جھوٹ کا بازار ہے پھیلا
ملے سچ کو یہاں کوئی ٹھکانا غیر ممکن ہے
لگے گی آگ بستی میں تو ضد میں آو گے تم بھی خود
خود اپنی آگ سے خود کو بچانا غیر ممکن ہے
حسن فتحپوری
