خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامیری منگیتر
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

میری منگیتر

از سائیٹ ایڈمن مارچ 7, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 7, 2022 0 تبصرے 100 مناظر
101

(محترمہ راحیلہ خان ادیبہ کا افسانہ ’حادثہ‘ پڑھا۔ ’منگیتر اور خاوند‘ ایک ہی شخص کے دو روپ دیکھے۔ پڑھ کر دل چاہتا ہے کہ بندہ ساری عمر منگیتر ہی رہے۔ شادی والا حادثہ کبھی وقوع پذیر نہ ہو۔ ایک افسانہ پیش خدمت ہے۔ )

سچی محبت قاضی کے خطبے، پنڈت کے اشلوک یا وکیل کے ڈرافٹ کی محتاج نہیں، یہ وہ سماوی بادشاہت ہے جو انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ کیا یہ سماوی بادشاہت اس کے وجود کا حصہ تھی بلکہ زیادہ بہتر سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی یہ بادشاہت موجود ہے یا جمہوریت نے اسے پچھاڑ دیا ہے؟ میں نے جب بھی خود سے یہ سوال کیا کوئی جواب نہ پا سکا۔

وہ میری بچپن کی منگ ہے۔ ہم دونوں اس تعلق کا چھٹا عشرہ پورا کرنے والے ہیں۔ وہ کون ہے؟ بس اک ذرہ خاکی، لیکن ایسا نکھرا ہوا ذرہ جس کے حضور لاکھوں آفتاب غروب ہو جاتے تھے۔ آج بھی وہ جھمکتے تاش کی انگیا اور کمخواب کا لہنگا پہن کر آ جائے تو جوبن کی بہار ہزاروں خزاؤں کو مات کرتی ہے۔

ہماری محبت کیا تھی؟ تھی بھی یا نہیں یہ باتیں اب فضول لگتی ہیں۔ طفلی کا عشق اور عہد جوانی کے دعوے وعدے، سب بیکار کی باتیں ہیں۔ آپ بھی سن کر کیا کریں گے۔ بات شادی سے ہی شروع کریں تو مناسب ہے۔

دونوں کی شادی ایک ہی دن طے پائی۔ کس نے تاریخ پہلے رکھی؟ آج تک پتا نہیں چل سکا۔ ٹنٹا کھڑا ہو گیا کہ برادری والے کس کے گھر جائیں گے۔ اس سمسیا کا حل ڈھونڈنے کے لیے دو افراد پر مشتمل پنچایت توڑ جوڑ مار کر بیٹھ گئی۔ وہ اڑیل تھے اور ہم بھی ناک نہیں کٹوانا چاہتے تھے۔ پنچایت نے دونوں طرف کے دلائل سن کر فیصلہ دیا کہ اس تاریخ کو کسی کی بھی شادی نہیں ہوگی۔ جو عمر میں زیادہ ہے اس کی شادی ایک دن پہلے ہوگی اور دوسری کی ایک دن بعد ۔ ہم نے لاکھ گلہ کیا کہ ثبوت دیکھے بغیر مونث صیغہ استعمال کر لیا گیا ہے۔ ہمیں اس غیر آئینی فیصلے پر اعتراض ہے۔ لیکن اعلیٰ عدلیہ طاقتور کے سامنے ناچار تھی۔

ہماری ہی برادری کی ہو کروہ طاقتور کیسے ہو گئی، ابھی بتاتا ہوں۔

کئی سال بیت گئے ہیں۔ موٹر وے کا نیا نیا افتتاح ہوا تھا۔ ہم چار دوستوں نے لانگ ڈرائیو کا پروگرام بنایا۔ موٹر وے پر پولیس نے آگاہی مہم کا آغاز کیا ہوا تھا۔ ہمیں بھی روکا گیا۔ لیکن یہ کیا؟ ہم سے ڈرائیونگ لائسنس مانگ لیا گیا؟ پھر حکم ہوا گاڑی کے کاغذات بھی چیک کروائیں۔ کاغذات نہیں تھے۔ پھڈا پڑ گیا۔ گاڑی بند۔ شور مچایا۔ منت کش ہوئے، حکم ہوا اندر صاحب تشریف فرما ہیں، ان سے بات کر لیں۔ صاحب کے پاس حاضر ہوئے۔

کہنے لگے آپ معزز لوگ ہیں قانون پر عمل کیا کریں۔ ہماری شرمندگی بھانپ کر چائے بھی پلائی۔ شکریہ ادا کر کے چلے آئے۔ اگلے دن منگ کا فون آ گیا، کہنے لگی ”اپنے منگنوئی سے چائے بھی پی آئے ہو شرم تو نہیں آتی۔ تمہیں علم نہیں، وضع دار لوگ اپنی منگیتر کے سسرال سے کچھ نہیں کھاتے پیتے۔“ میں نے خجالت سے پوچھا ”منگنوئی کون؟“

”اب میں اسے تمہارا بہنوئی کہنے سے تو رہی؟ یہ بے غیرتی مجھ سے نہیں ہوتی۔ اگر دوبارہ ملے تو تم کہہ لینا۔ ”

اس کی ماں بیمار تھی اور گاؤں میں اپنے نکھٹو بیٹے کے پاس۔ میری اماں کو پتا چلا تو وہ ملنے کو بیتاب ہو گئیں۔ میں نے دیکھا کہ بڑھیا کو کوئی خاص بیماری نہیں صرف نرسنگ کیئر کی ضرورت ہے۔ اماں جی بھی واپسی کا نام سن کر افسردہ ہو رہی تھیں۔ سو میں نے تجویز کیا ”ماں جی انہیں ساتھ ہی لے چلیں کچھ دن ہمارے پاس رہیں گی تو ٹھیک ہو جائیں گی۔ اماں کہنے لگیں،“ پتر جے اینوں کجھ ہو گیا تے بدنامی ہوگی۔ ”

”امی جی پہلے ایتھے میری نیک نامی دے جھنڈے لگے ہوئے نیں۔ جے کجھ ہو گیا تے اک بدنامی ہور سہی۔“ میرا جواب سن کر اماں جی مطمئن ہو گئیں اور ہم انہیں ساتھ لے آئے۔

اگلے ہی دن وہ چلی آئی، ساتھ ہی بچے بھی۔
اک کچھڑ، اک ڈھاکے، اک ٹریا آئے آپے۔
(کچھڑ، کچھ، بغل۔ ڈھاکے، ڈھاک، کولہا۔ ٹریا، چلتا)

یہ دیکھ کر میری بیگم نے منہ بنا لیا۔ کہہ وہ کچھ سکتی نہیں تھی کیونکہ گاؤں کی پلی ساس ماشاءاللہ مضبوط ہاتھ پاؤں کی مالک تھی۔ میں نے بھی حوصلہ بڑھایا کہ شکر کرو تین گھر چھوڑ آئی ہے۔

میں نے پوچھا چھ کافی ہیں یا ٹیم مکمل کرنا چاہو گی۔ جواب ملا۔ دل تو یہی چاہتا ہے لیکن اس گھسیٹے کے ہی بچے جنتے جانا ہے! کسی دل جلے کی خدمت کے لیے بھی کچھ رکھنے ہیں۔

غالب کو شکایت تھی کہ بیگم نے گھر کو مسجد بنا رکھا ہے۔ ہمیں کوئی شکایت نہیں بس اس نے شکایت کی سو بیگم تک میں نے پہنچا دی۔

بیگم نے اعلیٰ ظرفی کی مثال قائم کرنے کے لیے اپنا پرانا بیڈ روم اسے دے دیا تھا۔ صبح میں نے پوچھا رات کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟ نیند ٹھیک آئی؟ کہنے لگی ”نیند کیا آتی! تمہاری بیگم نے گھر کو بت خانہ بنا رکھا ہے۔ وہ اوپر دیکھو اور جدھر بھی دیکھو اس نے تمہارے ساتھ اپنی تصویریں لگا رکھی ہیں۔ کیا اسے ابھی بھی یقین نہیں آیا کہ تم نے اس کے ساتھ بیاہ کر لیا ہے۔“

بیگم نے اطلاع پاتے ہی کم از کم اس کمرے سے تصویریں ہٹا لیں۔

گرچہ بیگم بھی میرے جیسی ہی ہے، کسی بھی غیر مرئی چیز پر ایمان نہیں رکھتی لیکن اس دن ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے نظر وٹو کو نظر نہ لگ جائے۔

ہماری اکلوتی بیٹی کو ایک قاری صاحب پڑھانے آتے تھے۔ ان کی بیٹی کی ٹرانسفر کا مسئلہ تھا۔ مجھے وزیر تعلیم سے سفارش کرنے کو کہا۔ جب اٹک ضلع کا نام آیا تو میں نے جھٹ فون ملا کر سفارش کر دی اور قاری صاحب کو کہا ”چھوڑیں وزیر کو ۔ اسے ای ڈی او کے پاس بھیج دیں، کام ہو جائے گا۔“ وہ دفتر پہنچی تو کلرکوں نے اسے اندر نہ جانے دیا۔ لڑکی مجھے فون کرتی تھی اور میں ای ڈی او کو ۔ بالآخر میں نے غصے میں کہا ”کام کرنا ہے تو کرو اسے کیوں ذلیل کر رہی ہو؟“

”وہ ہے کہاں؟“
”تمہارے دفتر میں۔“
”میرے پاس تو نہیں؟“

تھوڑی دیر بعد فون آیا جیسے تم جاہل ہو ویسے ہی تمہارے اقارب۔ تمہیں بندے کی پہچان ہے، نہ انہیں۔ وہ جاہل عورت جاہل کلرکوں کے پاس بیٹھی تھی۔ ”

پھر مجھے پتا چلا کہ اس کے خلاف کرپشن کے الزامات پر محکمانہ کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ اس کے بقول سال ہا سال کی نوکری کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ اس ملک میں کسی شریف کی کوئی عزت نہیں۔ اس کے مولوی خاوند پر بھی ایسے ہی بے بنیاد الزامات تھے۔ دونوں کو اپنی نیک کمائی ادھر ادھر بہت سے کلرکوں، افسروں میں بانٹنی پڑی۔ پھر بھی ’من فضل ربی‘ سے کافی کچھ بچ گیا۔ دونوں وقت سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے کر انگلینڈ منتقل ہو گئے۔

سارا خاندان بہت نیک ہے۔ انگریز ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ مولوی صاحب بہت موٹے ہو چکے ہیں۔ داڑھی کی کانٹ چھانٹ پسند نہیں کرتے۔ رنگ بھی نہیں لگاتے۔ وہ نیک بی بی مجھے بھی کہتی ہے کہ تم کیا اپنے منہ پر خود ہی کالک ملتے رہتے ہو۔ پھر کہتی ہے ہاں، ابھی سے عادت ڈالنا بہتر ہے فرشتوں نے بھی تمہارا یہی حال کرنا ہے۔

سارا خاندان سات وقت کا نمازی ہے۔ اکثر کہتی ہے اچھا ہوا تم میرے شوہر نہیں بنے۔ بزرگوں کی دی ہوئی زبان کی لاج رکھی۔ انہوں نے ہمیں منگیتر بنایا، ہم اسی بات پر قائم رہے۔ ویسے بھی تمہارے ساتھ شادی ہو جاتی تو مجھے دوزخ جانا پڑتا۔ اب میں جنت میں حوروں کی سردار ہو نگی۔

میں نے پوچھا کہ حوریں تو مولوی صاحب کو ملیں گیں تمہیں کیا ملے گا؟ اس کا جواب ہمیشہ ہی کڑاکے دار ہوتا ہے۔

”حلیہ دیکھا، تم نے اس موٹے کا ؟ بڑا آیا حوروں کا طلب گار۔ کسی کو اس کے نزدیک پھڑکنے بھی نہیں دوں گی۔ ویسے بھی وہ نیک آدمی ہے تمہارے جیسا بھنورا نہیں۔“

جنت کی حق دار اور حوروں کی سردار کے دل میں سماوی بادشاہت قائم ہے یا نہیں؟ جمہوریت نے اس کا قلع قمع کیا ہے یا نہیں؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کیونکہ چھ جمع ایک ووٹ، میرے ایک سے بہت زیادہ ہیں۔ ہاں ملک کے حالات حوصلہ افزا ہیں کہ جمہوریت آ بھی جائے تو کنٹرولڈ ہی ہوتی ہے۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کج روی کا حسن
  • یا خدا! تجھ سے دعا ہے
  • ڈھارس
  • کمرہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قرآن کا بیانیہ
پچھلی پوسٹ
سب کے سب تیری عقیدت کے در نظر آئے

متعلقہ پوسٹس

میں اور چاند

نومبر 7, 2020

ہونے کا احساس

جولائی 6, 2025

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

منیر نیازی سے ایک ملاقات

دسمبر 28, 2020

بس کی کھڑکی سے

جنوری 3, 2022

کفن دفن​

نومبر 22, 2019

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

زمیں کھسکنے لگی

نومبر 26, 2025

الجھن کا حل نہیں مل رہا

ستمبر 18, 2025

خمار بارہ بنکوی کی دسویں برسی پر

دسمبر 4, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرسوں دوا بھی شفا بھی

مئی 1, 2022

ہو گیا جب زبان پر قابو

دسمبر 17, 2021

یاد رُکتی نہیں

مارچ 28, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں