562
جس گھڑی عشق سربریدہ ہو
دشت کی خاک آبدیدہ ہو
داستاں گو بھی اجنبی ہو کوئی
اور کہانی بھی ناشنیدہ ہو
رقص کرتی ہوا کی خواہش ہے
دیپ کی لو ستم رسیدہ ہو
رنگ پتھرا رہے ہوں آنکھوں میں
بد نگاہی نرا عقیدہ ہو
دھوپ سے پاؤں جب جلیں ارشاد
راہ میں پیڑ برگزیدہ ہو
ارشاد نیازی
