114
سلسلہ خاص ہے نہ عام مرا
وقت کرتا ہے احترام مرا
ایک پٹڑی نے میرا دُکھ سمجھا
اور قصہ ہوا تمام مرا
پوچھتے ہیں ہر اک مسافر سے
قافلے والے صبح و شام، مرا
گاہے گاہے پکارتا ہے دشت
قیس کے ساتھ ساتھ نام مرا
کیسے لوگوں میں وقت گزرا ہے
ایسے لوگوں میں کیا ہے کام مرا؟
کنپٹی پر رکھا ہوا پستول!!
زندگی سے ہے انتقام مرا
صحنِ مقتل مجھے سلامی دے
تیری رونق ہے، اختتام مرا
شہباز خواجہ
