546
بے نشان
ہمیں قیامت کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا گیا
کہ وہ مرد ناپید ہوجائیں گے
جنہیں خدا نے ایک درجہ اوپر رکھا
ذرا اُ ن ماؤں کے دودھ کو جانچو
جس کو پی کے پروان چڑھنے ولا بچہ
بے کردار ہوجاتاہے
کسی ہیجڑے پہ لعن طعن مت کرو
وہ اپنے سوا کسی کا مذاق نہیں اُڑاتا
اور اب آنے والی صدیوں میں
جو نسلیں پیدا ہونگی
وہ کسی زنخے یا ہیجڑے سے زیادہ قابلِ رحم ہونگی
سو ہمیں مت دکھاؤیہ حسب نسب
ہم نے یہ سارے غرور ند ی نالوں میں بہتے ہوئے دیکھے ہیں
ہمیں قیامت کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا گیا
کہ ایک وقت ایسا آئے گا
جب کسی کی کوئی شناخت نہیں ہوگی
انجلاء ہمیش

2 تبصرے
یہ نظم پڑھ رونگٹے کھڑے ھو گئے. لەجەانداز سب جارحانہ روایت سے باغی انجیل کی پہلی نظم پڑھی قوت توانائی ادراک سچائی ھ
بہت شکریہ میر حسین صاحب