118
دل کے کونے میں کہیں اب بھی فغاں باقی ہے
اول اول کی محبت کا زیاں باقی ہے
ان سے کہہ دو کہ ذرا ہجر طویل اور کریں
میری آنکھوں میں ابھی سیلِ رواں باقی ہے
وقت کا کام گزرنا ہے، گزر جائے گا
وقت کی دَوڑ میں اب وقت کہاں باقی ہے
وہ جب آئے تو بہاروں نے کیا رقصِ جنوں
میں سمجھتا تھا ابھی فصلِ خزاں باقی ہے
عالمِ غیب میں اِک دن جو ملاقات ہوئی
وہ ہوئے مجھ سے یوں گویا کہ: میاں!! باقی ہے؟؟
جو بھی کرنا ہے وہ کرنا ہے اسی وقت، حسنؔ!
کون کہتا ہے کہ اِک عمرِ رواں باقی ہے
حسن ابن ساقی
