108
تمہارے ہاتھ پیلے ہو رہے ہیں
اور اک ہم ہیں جو بیٹھے رو رہے ہیں
ہزاروں خواہشیں ہم نے گنوا دیں
بس اِک عزت بچی وہ کھو رہے ہیں
تجھی کو دیکھنے میں ہیں مگن ہم
بہت شدت سے تیرے ہو رہے ہیں
وہ سارے مر گئے جینا تھا جن کو
جو باقی بچ گئے وہ سو رہے ہیں
یہ منصب ، مال و دولت ہائے دنیا
انہی کا بار مردے ڈھو رہے ہیں
نگاہِ شوق سے دھاروں کی مانند
تری یادوں سے آنکھیں دھو رہے ہیں
حسن کو ابنِ ساقی کرنے والے
مرے آنسو تجھے ہی رو رہے ہیں
حسن ابن ساقی
