106
تیرے قدموں پہ دل وارنے کے لئے
ہم بھی محفل میں تھے ہارنے کے لئے
شہرِ دل سے صدا آئے گی مرحبا
عشق آیا جو للکارنے کے لئے
اعترافِ محبت اگر جرم ہے
تُو بھی پتھر اُٹھا مارنے کے لئے
دل کی حالت بگڑنے کا باعث نہ پوچھ
پاس آ مجھ کو سنوارنے کے لئے
عشق نے سر جھکایا درِ یار پر
خود پرستی کو دھتکارنے کے لئے
آستیں جھاڑ دو گے تو کُھل کر سبھی
سامنے ہوں گے پُھنکارنے کے لئے
منزّہ سیّد
