109
تم نے ہی مشکل میں ڈالا تم نے ہی ناکام کیا
جس کا جتنا ظرف تھا اس نے خالی اتنا جام کیا
میں نے تجھ پر غزلیں لکھیں سب کچھ تیرے نام کیا
بستی راون والی تھی یہ میں نے جس کو رام کیا
تم نے میری قدر نہ جانی جیون بھر اپمان کیے
جس کے ہاتھ میں پیسے دیکھے اس کو ہی پرنام کیا
ساتھ چراغوں کے رہتا تھا اب میں ہوا کا ساتھی ہوں
تیرے پیار نے مجھ کو طوفانوں سا ہی ہر گام کیا
میں تو اوڑھے پھرتا تھا بس تیرے غم کی مالائیں
ہائے میرے درد کو جاناں تو نے کیوں احرام کیا
نگری نگری پھرتا تھا اور آنکھیں سب نا واقف تھیں
لیکن تیری اِیک نظر نے مجھ کو بھی گلفام کیا
تجھ کو جو دیکھے وہ کیسے اور بھلا کچھ بھی دیکھے
آنکھ نے تجھ کو دیکھا اور پھر جیون بھر آرام کیا
دیکھ خدا کی کرنی حاضر ایسے بھی دن آئے ہیں
دل کی چھوٹی سی کٹیا کو زخموں کا گودام کیا
احمد رضا حاضر
