خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکوئی میرا درد کیوں بانٹے
آپکا اردو بابااختصاریئےاردو تحاریر

کوئی میرا درد کیوں بانٹے

از عائشہ قمر جنوری 1, 2023
از عائشہ قمر جنوری 1, 2023 0 تبصرے 90 مناظر
91

زندگی میں جب دکھ کے طویل باب انسان پر کھلتے ہیں جن کو پڑھنا انسان پر سانس لینے کی طرح واجب ہوجاتا ہے تو وہ واجب چیز کا حق ادا کرنے کے لیے اکثر زیادہ آکسیجن کی آرزو کرنے لگتا ہے ۔ یہ آکسیجن کیا ہے؟ ایک درد میں جکڑے ہوئے انسان کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ فلاں فلاں چیز اس کے دکھ درد کا ازالہ کر سکتی ہے لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ انسانوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے خصوصاً کسی ایک خاص انسان کی طرف لیکن اس بات میں بھی کوئی حقیقت مجھے نظر نہیں آتی ۔اصل حقیقت تو اس بات میں پنہاں ہے کہ کوئی اور آپ کے دکھ میں حصےدار کیوں ہو؟ وہ دکھ یا تو آپ کی قسمت میں لکھا ہے یا آپ کی کسی غلطی کی سزا ہے تو پھر کوئی دوسرا آپ کے نصیب کے غم یا آپ کی غلطیوں کی سزا کیوں برداشت کرنا چاہے گا؟ (یہ بات بہت تلخ ہے، لیکن تلخ حقیقت نہیں ۔کیوں کہ حقیقت صرف حقیقت ہوا کرتی ہے اس کو تلخ بنانے والے ہم خود اور ہمارا مائنڈ سیٹ ہوتا ہے) بہرحال موضوع کی طرف آتے ہیں اس بات کو اس طرح سمجھتے ہیں کہ مثال کے طور پر آپ کسی تکلیف میں مبتلا ہیں اور اس سے نکلنے کے لیے آپ کو واحد حل کوئی انسان نظر آتا ہے تو آپ اصل میں دنیا سے واقف ہی نہیں کیونکہ "کوئی میرا درد کیوں بانٹے” اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ساتھ کوئی اور بھی دکھی ہو تو آپ اس معاشرے کے لیے اور اپنے لیے بھی نہایت ٹوکسک (toxic) انسان ہیں ۔کیونکہ غم میں مبتلا انسان نہ تو خود ترقی کر سکتا ہے اور نہ دوسرے کو کرنے دیتا ہے۔ (یہ بات اس صورت میں ہے کہ کوئی آپ کے دکھ میں شریک ہوگیا اور اس کے بعد وہ بھی اس سے نہ نکل سکے) جب دوسرے بھی ترقی نہیں کر پاتے تو رفتہ رفتہ لوگ اس زہریلے وار کا شکار ہوجاتے ہیں اور معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اور وہ معاشرہ جو ترقیاتی لحاظ سے پست ہو وہاں مختلف اقسام کے مسائل جنم لیتے ہیں جن میں اہم معیشت، جنسیت اور منفی سوچ ہیں۔اس لیے اپنے درد سے خود نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے اگر آپ بار بار ناکام ہو رہے ہیں تو کسی سے مدد لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اگر آپ نے اپنی سوچ ہی یہ بنا لی ہے کہ کوئی ہو جو آپ کے درد کو سمجھے اور لوگ اس کے مطابق آپ سے رویہ اختیار کریں تو یہیں رک جائیں کیونکہ اگے مایوسی کا دلدل ہے ۔ توقعات نہ پوری ہونے کی گہری کھائی ہے جس میں گرنے کے بعد آپ جڑنے کے بجائے مزید ٹوٹ جائیں گے ۔اور یہ ایک ایسے معاشرے کا قیام وجود میں لائے گا جو اپنے ساتھ مزید برائیوں کا طوفان لائے گا۔ ہمارے معاشرے میں موجود لوگ اس کو اکثر پیار کا نام دیتے ہیں کہ اس پیار کی وجہ سے "اس کا دکھ میرا دکھ ہے” یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ محض ایک روایتی جملہ ہے جو ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں ۔ ایسا ہوتا شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ اس روایتی جملے کے ساتھ ایک اور جملہ بچپن سے ہماری سماعتوں سے ٹکرتا آرہا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی بےلوث محبت کرتا ہے تو وہ ماں ہے ۔ پھر مجھے بتائیں جب ایک ماں ہی اپنے بچے کے درد کو اس درجے پر نہیں سمجھ سکتی جب وہ بھی بےبس ہے تو باقیوں کی کیا بات کرنی؟ یاد رکھیں "جو درد آپ کو ہے وہ آپ کو ہی ہے” ۔ اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ابھی بھی اس دنیا میں ہمدرد لوگ موجود ہیں، ابھی بھی رحمدل افراد ہیں، ابھی بھی کوئی ایسا ہے جو ان کا درد محسوس کر سکتا ہے تو ان سے میرا بس ایک ہی سوال ہے اگر کسی وجہ سے وہ انسان آپ کی زندگی میں نہ رہے تو کیا آپ اس نام نہاد معبود کے لیے خود کو مار لیں گے؟ اس لیے سکون دنیاوی چیزوں اور انسانوں کو چھوڑ کر اپنے اندر تلاش کریں ۔ ( فلمیں کم دیکھا کریں تاکہ اس ذہنی فتور سے بچ سکیں اور اگر دیکھیں بھی تو فلم سمجھ کر دیکھیں جس کو لکھنے سے پہلے ہی مصنف نے روایتی خوشگوار اختتام کا فیصلہ کرلیا تھا) پس خود کو اس خود اذیتی سے بچائیں کیونکہ ” آپ ایک چمکتے ہوئے ستارے ہیں کسی بھی صورت یہ روشنی کسی کو چھیننے نہ دیں۔”

 

از قلم : عائشہ قمر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہیں محوِ حیرتِ دنیا
  • عقلمند باپ کی نصیحت
  • رومانوی خیالات کی دنیا
  • جینا مرنا تمھیں سے سیکھا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
عائشہ قمر

اگلی پوسٹ
ایک ایسی سوچ
پچھلی پوسٹ
الزام گر وہ دیں گے ہمیں بے وفائی کا

متعلقہ پوسٹس

کیا مصنوعی ذہانت انسان کی آخری ایجاد ہو سکتی ہے؟

مارچ 10, 2026

کیا کروں اے خدا نہیں جاتا

جولائی 11, 2021

ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں

اپریل 5, 2020

یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے

اکتوبر 24, 2025

مائنوازم کیا ہے ؟

اپریل 19, 2026

خبر ہونے تک

مئی 21, 2020

عجب کرپشن کی غضب کہانی

اکتوبر 18, 2025

سلسلہ وار شجر کٹتے

نومبر 11, 2025

ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی

مئی 8, 2022

25دسمبر: یومِ قائد ِاعظم

دسمبر 25, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گلابی خواب

دسمبر 6, 2024

نیا سال اور نیا عزم

دسمبر 29, 2021

پہلے صدمات بھی بھلانے ہیں

دسمبر 12, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں