خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمیرے بھائی کے بچے
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

میرے بھائی کے بچے

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2019 0 تبصرے 370 مناظر
371

میرے بھائی کے بچے
انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے،پڑھتا لکھتا ہے، ہنستا کھیلتا ہے،اس زمین سے جب جدا ہو کر جیتا ہے تو بس تمام عمر ادھورا ہی رہتا ہے۔سب مہاجروں کی ایک سی کہانی اور ایک سی کبھی نہ ختم ہونے والی کسک ہوتی ہے۔ پاکستان جا ؤ تو ایک فقرہ بہت سننے کو ملتا ہے، آپ لوگوں کا کیا ہے، آپ لوگ تو وہاں عیش کر رہے ہیں۔ اس عیش کے لفظ میں ایک طنز ہو تا ہے، ایک چھپی ہو ئی نفرت۔ طنز اس لئے کے چلے گئے ہو تو اب کیا ہماری اور ملک کی بد حالی کا مزہ لینے آتے ہو؟ہمارے آگے ڈالرز چینج کروا کروا کر جب خریداری کرتے ہو تو کیا ہمیں نیچا دکھانے آتے ہو؟ ایک جیسے ملک میں پیدا ہونے کے باوجود ایک جیسے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد، ایک جیسی گندم کھانے اور ایک جیسی دھوپ سینکنے کے بعد تم ہم سے افضل کیوں ہو گئے؟۔۔ ہو گئے ہو تو جاؤ وہیں رہو، جہاں کے ہو۔۔ مگر اس سب ڈھکی چھپی شکایت اور نفرت کے باوجود وہ ہم مہاجروں کو مکمل طور پر دھتکار بھی نہیں سکتے۔ہماری وجہ سے ان کے بازاروں کی رونقیں قائم ہیں۔۔۔یہاں کینڈا میں خریداری،حسب ِ ضرورت کروں یا بلا ضرورت، کاؤنٹر پر کھڑے سیلز مین یا ادھر اُدھر پھرتے ہیلپینگ بوائز کی ذات پر رتی برابر اثر نہیں ہو تا مگر پاکستان میں ایسا کچھ نہیں، وہاں کوئی بھی دکان ہو، بک شاپ، بیکری ہو یا کپڑوں کی۔۔ خریداری کی مقدار کے ساتھ ساتھ، دکان میں موجود ہر شخص کا انداز بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ جانچ لیتے ہیں کہ یہ ایکدم سے اتنی ساری چیزیں لینے والا مقامی نہیں اور بھاری آسامی ہے اور ان سوغاتوں کی محبت میں سات سمندر پار کچھا چلا آیا ہے۔۔ وہ اس آسامی کی قدر کرتے ہیں کیونکہ اس کی قوت ِ خرید بہر حال ایک عام پاکستانی سے زیادہ ہی ہو تی ہے۔ اس قوت ِ خرید کی وجہ سے وہ دل میں دبی اس بھگوڑے کے لئے نفرت کو کمال ہشیاری سے چھپا تے ہیں اور اس کو خوش کرنے کے جتن میں لگ جا تے ہیں۔
بدلنے سے یاد آیا،جس جگہ کو آپ چھوڑ آتے ہیں، وہ جگہیں بھی بدل جاتی ہیں، ان کے ساتھ ساتھ وہاں رہنے والے انسان بھی بدل جاتے ہیں۔۔ مجھے ایف سی کالج جانے کا اتفاق ہوا۔میں وہی تھی بالکل ویسی کی ویسی، عمر گزری ہو تو گزری ہو، دل وہیں کا وہیں رکا ہوا تھا۔ جس صبح وہاں جانا تھا، رات بھر سوچتی رہی تھی کہ کلاس روم جا کر دیکھوں گی، وہ بنچ جہاں میں بیٹھا کرتی تھی اور جہاں میرے بیٹھنے سے پہلے سر خ رنگ سے کوئی کچھ لکھ جایا کرتا تھا، جہاں اس بات پر میرا غصہ اور پھرسہیلیوں کے ساتھ قہقے سب وہیں کہیں دبے ہونگے، کالج کے ان کشادہ خوبصورت سرسبز میدانوں میں تھوڑی دیر کو چہل قدمی کروں گی، جہاں ہم نے نیا نیا یو نیفارم سٹارٹ ہوا تھا، جس کے اوپر ایک عدد کالا گاؤن بھی پہننا ہوتا تھا، جو ہمیں اپنی آزادی کی راہ میں رکاوٹ لگا کرتا تھا، اکثر اتار کر کلاس میں ہی رکھ آیا کرتی تھیں اور جب کبھی پر نسپل راؤنڈ لگاتے ادھر کو نکل آیا کرتے تھے تو ہم ان کو دیکھ کر مخالف سمت میں بھاگ کھڑی ہو تی تھیں۔اس پارکنگ لاٹ کی موٹی سی زنجیر کو دیکھوں گی جس کے پیچھے میرے بھائی کو مجھے اتارنا ہوتا تھا، اور جس کے آگے اسی کالج میں پڑھنے والے شریف خاندان کے سپوتوں کی گاڑیاں بغیر کسی رکاوٹ کے گذر جایا کرتی تھیں، اور میں خود کو عام انسان ہونے پر کوستی کلاس میں ہمیشہ ایک آدھ منٹ لیٹ داخل ہو تی تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ اشفاق سرور صاحب انتہائی منظم ہو نے کی وجہ سے مجھے کلاس سے باہر بٹھا دیا کرتے تھے۔۔۔اس وائٹ بورڈ کو دیکھنا چاہتی تھی، جہاں جس کو موقع ملتا خالی کلاس دیکھ کر اپنے اپنے دل کی بھڑاس، یا کسی کا رکھا نام لکھ دیا کرتا تھا۔
اس لائبیریری کو جو ہمارے کلاس روم کے بالکل سامنے ہوا کرتی تھی، اور اس چرچ کو جہاں ہم لائبریری سے زیادہ جایا کرتی تھیں۔میں اس کینٹین میں جانا چاہتی تھی، جہاں بیٹھ کر ہم سموسوں اور بوتلوں کے لئے پیسے گنا کرتی تھیں۔۔ ان بابا جی سے ملنا چاہتی تھی جو ہمارے قہقے سن کر کہا کرتے تھے” کڑیو! اینا نئیں ہسی دا بعد وچوں رونا ای پیندا اے۔”۔ اور ہم اس بات پر اور زور سے ہنس دیا کرتی تھیں۔۔ ۔۔۔۔ایف سی کالج کی بس کے لالہ جی، جو سٹاپ آنے پر میرے بس سے اترنے کے بعد میرے کلاس فیلوز کو کہا کرتے “ایسے کھرے لوگ اب پیدا نہیں ہوتے اس کی قدر کیا کرو۔۔ یہ آگے رُلے گی بھی بڑا۔۔۔:میں لالہ جی سے بھی مل کر پوچھنا چاہتی تھی ان کی چھٹی حس اتنی درست کیوں تھی؟
مگر وہاں مجھے کچھ نہ ملا نہ کینٹین والے بابا جی، نہ وہ کینٹین،نہ لالہ جی اور نہ ایف سی کالج کی وہ نیلی بسیں۔نہ لائبر یری نظر آئی اور نہ چرچ، نہ اپنی کلاس ڈھونڈ سکی اور نہ اس میں بچھے ہمارے بنچ، نہ وہ وائٹ بورڈز نہ وہ درخت جن پر لال روشنائی سے چیکو لکھا ہوتا تھا۔اس کی بجائے ایف سی کالج، جو کسی بھی گیٹ سے عاری ہوا کرتا تھا، وہاں بھاری بھر کم گیٹ نظر آئے، سیکورٹی کا ایک انتہائی سخت نظام نظر آیا، سٹوڈنٹس اور وزیٹر لمبی لائینوں میں لگے سیکورٹی چیک اپ کروا رہے تھے۔مجھ سے اور ساتھ گئی میری بھانجی ثنا سے بھی شناختی کارڈ رکھوا لیا گیااور گلے میں لٹکانے کے لئے ایک شناخت ڈال دی گئی کہ ہم یہاں وزیٹر ہیں۔
میں بدلے ہو ئے کالج کی در دیوار سے ہو کر بھائی کے گھر پہنچی تو اس کے بچے بھاگ کر میرے سینے سے آلگے۔ پاکستان میں قیام کے دوران جب بھی سارا دن کی مصروفیت کے بعد بھائی کے گھر واپس آتی تو اس کے چار چوزوں جیسے بچے میرے ساتھ ایسے والہانہ پن سے آلگتے کہ دن بھر کی ساری تھکان دور ہو جاتی۔ نہیں بدلا تو وہاں، اُس گھر میں میرا بچپن نہیں بدلا۔ یہ بچے، میرے بھائی کے بچے، آج بھی ہم بہن بھائیوں کا بچپن تھامے ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں نہ صرف کینڈا بلکہ پاکستان کے بچوں کی بھی معصومیت کہیں کھو گئی ہے لیکن وہ بچے وہی معصومیت، وہی سادگی، وہی محبت لئے کھڑے ہیں جو صرف ہمارے بچپن میں ہوا کرتی تھی۔ جب ہم اپنی نانی اماں اور خالاؤں کو دیکھ کر اسی طرح والہانہ پن سے انہیں چمٹ جایا کرتے تھے۔ ان کے آنے کے بعد ان کے گرد گھومتے رہتے اور ان کے جانے کے بعد ان کے خیالوں میں کھوئے رہتے تھے۔۔ آج بھی بالکل ویسے کے ویسے میرے بھائی کے بچے ہیں۔ وہاں کچھ نہیں بدلا۔ رات رات بھر ان کے ساتھ لڈو کھیلتے میں نہ جانے کتنی مرتبہ اپنا بچپن جی آئی ہوں۔اذان (میرا نو سال کا بھتیجا) جب ہارنے کے خوف سے رونے لگتا ہے تو میں اس کی ست رنگی آنکھوں میں اپنا بھائی (ان کا باپ) دیکھتی ہوں۔۔ بالکل ایسے ہی وہ کبھی ہار نہیں مانا کرتا تھا، کبھی لڈو پھاڑ دیتا تھا، اور کبھی ہم سے مار کٹائی شروع کر دیا کرتا تھا۔۔۔اذان اپنے باپ کا بچپن جی کر مجھے میرے کھلنڈرے بھائی سے ملواتا ہے۔۔ ایک دوسرے کو ڈراؤنی کہانیاں سنا کر ساری رات ڈرتے رہنا، یہ سب تو بس میرے بچپن میں تھا یہ میرے بھائی کے گھر اس کے بچوں کے اندر یہ سب کیسے زندہ ہے۔ ورنہ تو کینڈا کے بچے یا آجکل کے بچے کہیں بھی ہوں،کسی ایسی ویسی چیز سے نہیں ڈرتے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔۔ اور اگر کوئی خوفزدہ کر دینے والی حقیقت سامنے آکھڑی ہو تی ہے تو اس کا مقابلہ بڑی دانشمندی سے کرتے ہیں۔۔ وہ معصوم سا چوزوں جیسا خوف، جب ہم رات کے وقت، جب ایسی ہی کسی کہانی کو سن کر خوفزدہ ہو تے تھے تو اپنی امی کی قمیض کا دامن تھامے سارے گھر میں ان کے پیچھے پیچھے پھرا کرتے تھے۔۔ویسا ہی خوف، خوف سے کسی بڑے سے چمٹے رہنا، کچن میں جانا تو اکھٹے ہو کر جانا، صحن میں کسی کے چلنے کی آواز کا شبہ ہونا تو رات بھر سہمے رہنا۔۔ چھپکلی کو دیکھ کر اس پر کسی بھوت ہونے کا شک کرنا۔۔ ساری ساری رات اس خوف سے جاگتے رہنا کہ سو گئے تو کہیں مر نہ جائیں۔۔ کبھی ڈریکولا، کبھی سر کٹا۔۔ کیا کیا کچھ نہ تھا ہمارے بچپن میں ڈرانے کو۔۔۔
وہ سارا بچپن اپنے بچوں میں بالکل اُ سی طرح سنبھالے رکھنے پر میرا بھائی مبارکباد کا مستحق بھی ہے اور میرا دل کرتا ہے لاہور کی سب مہمان نوازیاں، سب محبتیں، سب شیلڈز، سب پز یرائیاں ایک طرف جو مجھے اس دفعہ ملیں۔۔ ان بچوں کی معصومیت، سادگی اور محبت کی صورت میں میرا بچپن مجھے دکھانے پر بھائی کو کہوں۔۔” شکریہ “۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تنہائی، فطرت اور خود شناسی
  • کج روی کا حسن
  • زبردستی کی شادی
  • بٹائی کے دنوں میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اُلو کا پٹھا
پچھلی پوسٹ
حد کے اس پار

متعلقہ پوسٹس

کوئی نہیں ہے

مئی 18, 2024

ہٹلر کی جمہوریت اور ریپستان‎‎

جنوری 30, 2022

25 دسمبر

دسمبر 25, 2025

پاکستان کا مطلب کیا

جولائی 20, 2021

نجات

جنوری 2, 2022

قانو ن کی حکمرانی!

اپریل 23, 2022

بھٹو کی وراثت اور بلاول

جنوری 3, 2020

ڈیجیٹل غلامی : جدید دور کا نیا قید خانہ

مارچ 31, 2026

امت کی تقسیم اور دارفور کا خون

اکتوبر 30, 2025

کتے

دسمبر 13, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آخر انسان ایسا کیوں ھوتا ھے؟

دسمبر 13, 2024

ذرا اعتبار کر لے

نومبر 30, 2019

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں