خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےحد کے اس پار
اردو افسانےاردو تحاریرمعافیہ شیخ

حد کے اس پار

ایک افسانہ از معافیہ شیخ

از سائیٹ ایڈمن نومبر 7, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 7, 2019 0 تبصرے 410 مناظر
411

اندھے لوگوں کی بستی میں یہ میرا پندرھواں اور آخری دن تھا میں گھر خالی کر چکا تھا، اول اول میں روز ایک گھر میں دستک دے کر ان سے بات کرنے کی کوشش کرتا تھا۔۔ مگر وہ میری بات سمجھ ہی نہیں پاتے تھے، پہلے پہل یہ صرف میرا قیاس تھا کہ میں سماعت سے بےبہرہ لوگوں کی بستی میں آ گیا ہوں، اس بستی کے لوگ میری زبان سے ناواقف تھے۔ لیکن گفتگو کسی بھی زبان میں کی جائے کان اسے سن سکتے ہیں۔ اور ان کی بصیرت کیسے وہ دیکھنے سے محروم تھی جس کی شکل کرہ ارض کے ہر خطے، قبیلے اور ہر زبان میں ایک تھی۔
میں نے روانہ ہونے سے پہلے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا؛ ایک نوجوان لڑکے نے دروازہ کھولا اور مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے انجان بن کر پہچاننے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ اس نے دیکھا کہ میرے بائیں ہاتھ سے خون رس رہا ہے مگر شاید وہ دیکھنا ہی نہیں چاہتا تھا اس لیے بہت زور سے دروازہ بند کردیا ، میں چند لمحے سمجھ ہی نہ پایا کہ یہ کیا ہوا۔۔ مجھے پانی کی طلب تھی جو پوری نہ ہوئی۔۔ میں اپنے حواس پر قابو پانے کے لیے گلی کے کونے میں لگے ایک بہت بڑے درخت کے سائے میں بیٹھ گیا۔۔ مجھے جلد ہی یہاں سے نکل جانا تھا، میں سوچنے لگا۔
جب مجھے یہاں آئے تین دن گزرے تھے تو میں نے دیکھا تھا یہ بستی ایک دوسرے کی محبت سے گندھی ہوئی ہے۔۔ اس کے باسی ایک دوسرے کے لیے جان نثار کرنے والوں میں سے ہیں۔
چند دن ہی گزرے تھے کہ بستی میں کسی کے گھر کوئی موت واقع ہو گئی اور ایسے لگ رہا تھا جیسے ساری بستی کے گھر موت واقع ہوگئی ہو۔۔ تمام بستی سوگ میں ڈوب گئی تھی ، ان کے ہاں رواج تھا کہ جب کوئی سانحہ برپا ہو جاتا تو اس روز سے اگلے تین روز تک خاموشی اختیار کر لی جاتی ۔۔ چہرے اداسی اوڑھ لیتے۔۔ اور گم صم ہو جاتے۔ پھر دن گزرتے اور دھیرے دھیرے سب معمول کی طرف لوٹنے لگتے۔۔
میں ان کی زبان کو مکمل طور پر سمجھ تو نہیں سکا تھا مگر مجھے ان کے عمل سے کچھ نہ کچھ بات سمجھ آ جاتی تھی۔ ان کے دکھ درد میں بھی شریک ہوتا تھا کہ دکھوں کی کوئی زبان نہیں ہوتی، دکھ بس سانجھے ہوتے ہیں۔۔ انھیں محسوس کرلیا جاتا ہے۔ اور میری محسوس کرنے کی حس مکمل بیدار تھی۔
میں یہاں سیاحت کی غرض سے آیا تھا، مجھے چند ہی دن میں واپس لوٹ جانا تھا پھر نہ جانے کیوں میں ایک کمرے کے گھر میں رہائش پذیر ہوگیا۔ میرا کمرا اوپری منزل پر تھا اور نچلی منزل پر صاحب مکان رہائش پذیر تھا۔ میرے مکان کے بالکل سامنے ایک منزل پر مشتمل لکڑی کے خوبصورت بڑے دروازے والا ایک گھر تھا جہاں ہمہ وقت لوگ جمع رہتے اور وہاں سے ہنسی قہقہوں کی آوازیں آتی تھیں۔۔ وہ گھر میرے لیے بستی کا سب سے پیارا گھر تھا۔۔ کیونکہ وہاں موجود ایک شخص میری زبان سمجھتا تھا۔۔ یقینا وہ میرے ہی خطے سے تھا مگر یہاں رہ کر ان کی زبان سیکھ چکا تھا اسی کی مدد سے مجھے کمرا کرائے پر لینے میں آسانی ہوئی تھی۔ سوگ کے تین روز میں نے اس گھر میں لوگ ویسے ہی تواتر سے آتے دیکھے تھے مگر وہ بھی اداسی اوڑھ کر بیٹھے رہتے تھے۔۔ اس گھر کا ایک کمرا اس شخص کی رہائش گاہ اور دوسرا حصہ چائے خانہ تھا۔
آٹھویں دن بستی میں اچانک ایک شور سا برپا ہوا۔۔۔تمام لوگ گھروں سے نکل آئے اور ایک دوسرے سے دریافت کرنے لگے کہ یہ کیسا شور ہے۔ پھر ایک شخص کہیں سے دوڑتا ہوا آیا اور اپنی زبان میں انھیں کچھ بتانے لگا۔۔ جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آئی، مگر اس شخص کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا اور سانس پھولی ہوئی تھی۔ تمام لوگ اس کے پیچھے چلنے لگے تھے۔۔۔ میں بھی ان کے ہمراہ چل دیا، وہ شخص نہر کے کنارے پہنچ کر رک گیا جہاں ایک آدمی جو حالت و ہیئت سے کسی بڑے خاندان کا معلوم ہوتا تھا ، ایک غریب آدمی کو پیٹ رہا تھا، ظلم سہنے والا کرلا رہا تھا۔۔ میرے چہرے کے تشویشناک تاثرات سے میرے مالک مکان نے مجھے اشاروں سے یہ بات سمجھائی کہ ایک معمولی سی غلطی پر اسے یہ سزا دی جا رہی ہے ۔۔ آن کی آن میں نے دیکھا کہ تمام لوگوں نے اس آدمی پر دھاوا بول دیا اور مظلوم کو اس کے شکنجے سے آزاد کروا لیا۔ یہ اس بستی کی ایک نمایاں خوبی تھی کہ ظلم کے خلاف تمام لوگ ‘ایک’ ہو کر لڑتے۔ جیسے ابھی سب ایک جسم ایک جان تھے۔ میں ان سے بہت متاثر ہوا۔
میں نے دیکھا کہ اب بستی میں لوگوں کے چہروں نے خوشی اوڑھ لی تھی، میں بھی ان کے ساتھ ساتھ خوشی اوڑھ کر چلنے لگا۔
اس خطے کی ثقافت اور اقدار نے میرے دل میں اپنا ایک الگ تاثر قائم کر لیا تھا۔ لیکن یہ تمام محبت اور روایات و اقدار صرف ایک بستی تک ہی محدود تھیں، اس سے باہر آس پاس کی بستیاں ان کی کسی خوشی، غم و الم یا ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف بغاوت میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ لیکن مجھے تو ان کے درمیان وقت گزارنا بھلا معلوم ہونے لگا تھا۔۔ اور اب میں خود کو اسی بستی کا باسی تصور کرنے لگا تھا۔
گیارہویں دن میں بستی کے تاریخی مقامات کو دیکھنے کی خواہش میں گھر سے نکل پڑا ۔۔ بستی کے حوالے سے معلومات تو پہلے ہی اکھٹی کر رکھی تھیں لیکن یقینا ان کی تاریخ جاننے سے میں اس جگہ کو بہتر جان سکتا تھا۔
میں اپنے کمرے کو تالا لگا کر سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ میں نے دیکھا ، لکڑی کے بڑے دروازے والے گھر سے (جہاں لوگوں کی آمد و رفت ہمیشہ رہتی تھی) ایک شخص کو کندھوں پر اٹھا کر باہر لایا جا رہا ہے۔۔ اور یہ شخص وہی تھا جو میرے خطے سے تعلق رکھتا تھا۔ میرا دل ڈوب گیا! تمام لوگوں کے چہروں نے اداسی اوڑھ رکھی تھی یعنی وہ روح اس جہان سے کوچ کر چکی تھی، میں نے اپنے کمرے کا تالا کھولا اور سفری بیگ واپس کمرے میں رکھ کر ان لوگوں کے ہمراہ چلنے لگا۔ میں جانتا تھا بستی اب تین دن سوگ میں رہے گی۔۔ مجھے اب کوئی خوشی کا کام نہیں کرنا چاہیے تھا سو میں نے اپنے تمام ارادے ترک کردیے۔۔ شام تک لوگوں کے چہرے اداسی اوڑھے رہے مگر رات ہوتے ہی ایک قہقہہ فضا میں گونجا جو غالبا میرے بائیں جانب کسی گھر سے ابھرا تھا یا شاید دائیں جانب سے، میں ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا تھا۔ لیکن یہ بستی کے اصولوں کے خلاف تھا۔۔ میں اب جاننا چاہتا تھا کہ اصولوں کی خلاف ورزی پر یہ لوگ کیا ردعمل دکھائیں گے۔۔ رات خاموشی سے کٹ گئی، صبح ہوتے ہی میں گلی میں نکل آیا یقینا کوئی عدالت سجی ہوگی۔۔ مگر وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا، بلکہ کئی ایسے چہرے دکھے جنھوں نے اداسی کا لبادہ اتار دیا تھا۔۔ کئی لوگ دوسرے ہی دن معمول کی جانب آ گئے تھے۔
میں حیران سا ہو کر اپنے کمرے میں لوٹ آیا یہ تمام لوگ اس شخص کے ساتھ قہقہوں میں شامل ہوتے تھے، پھر اس کے چلے جانے پر اس گھر کی اداسی میں شامل کیوں نہ ہوئے؟ میں اداس تھا۔۔۔ بہت اداس، وہ جو میری بات سمجھ سکتا تھا وہ جا چکا تھا۔۔
تین دن کے سوگ کے بعد میں سفر کے لیے نکل پڑا۔۔ یہ بستی چھوٹی سی تھی لیکن اپنی تعمیر میں ایسی بہترین، کہ اسے ایک چھوٹا شہر کہا جا سکتا تھا۔۔ میں اس کے چند تاریخی مقامات کو دیکھتے دیکھتے ہی شہر کے اختتام تک بھی پہنچ گیا۔ بستی کی سیر کے لیے تو میری سوچ سے بھی کم وقت درکار تھا۔ شہر کے اختتام پر ایک لکیر کھنچی ہوئی تھی جہاں ایک تختی لگی نظر آئی جس پر ایک ایسا نشان بنا تھا جس کا معنی کسی کو “روکنا” مقصود تھا اور اس کے نیچے ایک جملہ تحریر تھا، جس کے معنی میرے مطابق یہی تھے “اس حد میں داخل ہونا منع ہے۔” مجھے خوشی ہوئی کہ دنیا میں جب کوئی زبان بولی نہیں جاتی تھی تو اشارے بات ایک دوسرے تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے۔۔ اشاروں نے اس بستی میں داخل ہونے سے لے کر آج تک اپنا کردار بخوبی ادا کیا تھا۔۔۔ میرے خیال میں یہ حدود شاید جغرافیائی تھی۔۔ اور مجھے اس کا احترام کرنا چاہیے تھا سو میں واپس جانے لگا کہ اچانک میں نے دیکھا لکیر کے اس پار ایک بچی کو چند لوگ لاتوں اور گھونسوں سے مار رہے ہیں۔۔ یہ منظر میرے لیے دل چیر دینے والا تھا۔۔ میں چلانے لگا، اپنی زبان میں ہی کہنے لگا “مت کرو؛ ایسا مت کرو۔” میں نے انھیں روکا مگر وہ لوگ نہ رکے۔۔۔ وہ مجھے سن کر ان سنا کر چکے تھے، اور نفرت آمیز نظروں سے میری جانب دیکھ رہے تھے جیسے یہ کوئی انہونی ہو، وہ تعداد میں تین تھے اور بچی ایک!
میں ہڑبڑا گیا اور اس سنسان جگہ سے آبادی کی طرف دوڑا جو تھوڑے ہی فاصلے پر تھی۔۔ وہاں پہنچ کر بستی والوں کو اشاروں سے بتایا کہ وہاں شہر کے آخری کونے میں ایک بچی پر ظلم ہو رہا ہے۔۔ کوئی میری بات سمجھ نہیں پا رہا تھا، میں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ ان کی سماعت صرف میری زبان سمجھنے سے قاصر ہے مگر۔۔۔ بستی کے کسی ایک فرد کی پکار پر تمام لوگ ہمیشہ کی طرح فوری اکٹھے ہو چکے تھے، میں بس ان تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔۔ خوف سے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
بستی کے لوگ میرے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گئے بالکل ویسے جیسے میں ان کے پیچھے چلتا ہوا نہر کنارے تک پہنچ گیا تھا۔ ان درندوں کا ظلم اب بھی جاری تھا۔۔ میں جانتا تھا بستی والوں کے چہرے اب غصے سے لال ہو جائیں گے اور وہ اسے بچا لیں گے۔۔
ان کے چہرے حقیقتا غضب ناک ہوگئے ، لیکن وہ اس غصے میں مجھ پر چلانے لگے۔۔
مجھے لگا وہ لکیر جسے میں نے جغرافیائی حدود سمجھ کر پار نہ کیا شاید وہ میری کم فہمی تھی اور اس نشان کا معنی وہ نہ تھا جو میں سمجھا تھا۔
میرے لیے یہ دوسرا حیران کن واقعہ تھا۔۔ انھوں نے میری التجا نظر انداز کر کے آپس میں باتیں شروع کر دیں، تب مجھے لگا جیسے وہ صرف سماعت نہیں بصیرت سے بھی محروم ہو چکے ہوں ۔۔ اور وہ ظالم اس پر ظلم کرتے رہے، وہ تین لوگ کون تھے اور کس بستی سے تھے، نہ کسی کو معلوم تھا اور نہ ہی کسی کو غرض۔۔
لیکن میرے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا۔ انھوں نے میرے دیکھتے ہی دیکھتے اچانک اس بچی پر خنجر سے وار کردیا، میں بنا سوچے سمجھے حد کے اس پار بچی کو بچانے بھاگا۔۔ اسے بچاتے ہوئے ایک وار میرے بائیں ہاتھ پر بھی ہوا، میں نے ان سے التجائیں کیں مگر وہ لوگ نہ رکے یہاں تک کے اس بچی کا سانس رک گیا۔ بستی والوں کی محبت صرف ایک ہی خانے میں پڑی دیکھ کر مجھے ان سے کراہت سی محسوس ہوئی۔۔
میں زخمی ہاتھ کے ساتھ مردہ بچی کو اٹھا کر اس حد میں لے آیا میرے چہرے نے اداسی اوڑھ لی تھی مگر بستی کے لوگ اسی وقت معمول کے مطابق چہرے لیے کوئی اداسی کا جامہ پہنے بنا ہی وہاں سے رخصت ہوگئے ، کیوں کہ یہ ظلم تو خطے کے اس پار ہوا تھا

معافیہ شیخ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کورونا کے بعد مزیدعالمی وباؤں کا خطرہ!
  • سرکنڈوں کے پیچھے
  • حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
  • سگریٹ اور فاؤنٹین پن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میرے بھائی کے بچے
پچھلی پوسٹ
بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیا

متعلقہ پوسٹس

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سیلاب میں کسان رل گئے

اگست 30, 2025

اتحاد امت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا...

فروری 22, 2026

ایمنسٹی کی رپورٹ: مبالغہ یا حقیقت؟

ستمبر 10, 2025

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

جستجوِ صبحِ نو

دسمبر 15, 2024

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری

مارچ 25, 2024

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک

جون 30, 2026

وہ آکاس سے تارے چرا لایا

مارچ 26, 2023

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر

اپریل 23, 2014

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خلیجی سلامتی

مارچ 14, 2026

عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ...

جولائی 31, 2020

بھارتی آبی جارحیت

ستمبر 2, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں