خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانئی صدی کا عذاب
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرایم مبین

نئی صدی کا عذاب

از سائیٹ ایڈمن مئی 27, 2023
از سائیٹ ایڈمن مئی 27, 2023 0 تبصرے 97 مناظر
98

ٹینک شہر کی سڑکوں پر گولےبرساتےآگےبڑھ ر ہےتھے،

لوگ بےتحاشہ خود کو ٹینک کےگولوں سےبچانےکےلئےاِدھر ، اُدھر بھاگ رہےتھے۔ گولےکبھی کسی بلڈنگ کی دیوار سےٹکرا کر پھٹتےاور آگ کا ایک شعلہ سا بلند ہوتا‘ اِس کےبعد پھر دُھواں ۔ دھیرےدھیرےجب دُھواں صاف ہوتا تو بلڈنگ میں پڑےشگاف صاف دِکھائی دیتے۔ کبھی کوئی خون میں لت پت زخمی یا پھر کوئی لاش

کبھی ٹینک کےگولےسڑک پر گر کر سڑک پر گڑھےپیدا کردیتےاور کبھی لوگوں کو زخمی کردیتے، کبھی ٹینک مکانوں کی دیواروں کو ڈھاتے، مکینوں کی پرواہ کئےبِنا مکانوں کو ملبےکا ڈھیر بناتےآگےبڑھ جاتے۔

کبھی آسمان پر کوئی ہوائی جہاز نمودار ہوتا اور اس بستی پر بم برساتا آگےبڑھ جاتا ۔ بم بستی میں گر تےدھماکےاور شعلےبلند ہوتے، دُھوئیں کا ایک بادل پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لےلیتا ۔ جب دُھواں چھٹتا تو ملبےکےڈھیر میں تبدیل مکانات دِکھائی دیتےاور ان ملبےکےڈھیروں پر ماتم کرتےمکین یا پھر کراہتےزخمی ۔

کبھی آسمان میں ہیلی کاپٹر نمودار ہوتےاور ان میں سوار سپاہی ہیلی کاپٹر سےنیچےسڑکوں اور گلیوں میں آتےجاتےلوگوں پر اندھا دُھند گولیاں برساتے۔ گولیوں کی آوازیں سُن کر لوگ اِدھر اُدھر بھاگتے، کچھ گولیاں کھا کر گرتےاور زمین پر گر کر تڑپنےلگتےتو کچھ گر کر ٹھنڈےہوجاتے۔

بندوق بردار سپاہی اندھا دُھند گولیاں برساتےآگےبڑھتےبھیڑ کبھی خود کو گولیوں سےبچاتی تو کبھی گولیاں برسانےوالوں پر پتھراو

کرتی ۔

گولیوں کا جواب پتھروں سےدیا جاتا ۔

ایک طرف لاشوں کےڈھیر لگتےتو دُوسری طرف کبھی کوئی وَردی والا معمولی طور پر زخمی ہوتا ۔

” یہ ہےمقبوضہ فلسطین ۔ آئےدِن ہم یہاں سےآپ کےلئےاِسی طرح کی خبریں لاتےہیں “

ٹی وی کےاسکرین پر ایک چہرہ نمودار ہوا اور پھر اسکرین پرمنظرتبدیل ہوگیا۔

دو فلک بوس عمارتیں۔آسمان کی بلندیوں کوچھوتی ہُوئی سینہ تان کر کھڑی اِن اَمارت ، شان و شوکت ، عظمت اور قوت کا مظہر ۔

اچانک ایک ہوائی جہاز اُڑتا ہُوا آیا اور اِس سےٹکرا گیا ۔

ایک پل میں ہی وہ عمارت شعلوں میں گھر گئی ۔ اب اِس عمارت سےصرف شعلےاور دُھواں اُٹھ رہا تھا ۔

اُسی وقت دُوسرا ہوائی جہاز آکر دُوسری عمارت سےٹکرایا اور وہ بھی شعلوں میں گھر گئی ۔

شعلوں میں گھری اس عمارتوں کی ایک ایک منزل ڈھنےلگی ، چاروں طرف صرف شعلےاور دُھواں تھا اور ان کےدرمیان ڈھتی اپنےوجود کھوتی دو بلند شگاف عمارتیں

” داڑھی والا “

” پکڑو ! اِسےبچ کر جانےنہ پائے۔ “

” مارو اِسےمارو ! یہ دہشت گرد ہے۔ اِس ساری تباہی کا ذمہ دار ہے۔ “

ایک بھیڑ اس کےپیچھےلگی ہوئی تھی اور وہ جان بچانےکےلئےاپنےجسم کی ساری قوت یکجا کرکےبھاگ رہا تھا ۔

لیکن اپنےآپ کو کب تک اس بھیڑ سےبچا پاتا لوگ بھوکےکتوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑے۔

کچھ لمحوں بعد ہی سڑک پر اس کا بےجان جسم پڑا ہُوا تھا ۔

اپنےڈوبتےحواس کےساتھ اس نےصرف ایک بار آخری لمحہ میں سوچا ۔

” جو کچھ میرےساتھ ہُوا ہے‘ اس وقت دُینا میں سیکڑوں ہزاروں لوگوں کےساتھ ہورہا ہے۔ “

اذان ابھی مکمل بھی نہیں ہونےپائی تھی کہ پتھراو

شروع ہوگیا ۔ وہ مستقل بھیڑ تھی جو کبھی پتھر برساتی توکبھی آگ کےگولےپھینکتی ۔ کبھی گولیاں داغی جاتی ۔ ایک حصہ تو پوری قوت لگا کر توڑا جانےلگا تو دُوسرےحصّےسےآگ کی لپٹیں اُٹھنےلگیں

” اےیو مسٹر ! “

”کون؟ میں ! “

” ہاں تم ! طیّارےسےنیچےاُترو “

” مگر کیوں ؟ مجھےتو پیرس جانا ہے “

” نہیں ! حفاظتی اقدام کےتحت ہمیں تمھیں طیّارےسےنیچےاُتارنا پڑےگا ۔ ہمیں شک ہےکہ تم دہشت پسند ہو اور اس طیّارےکا اغوا کرکےکوئی بہت بڑا دہشت گردی کا کارنامہ انجام دینےوالےہو “

” اِس شک کی کوئی وجہ ؟ “

” تمہارا یہ عربی لباس اور تمہاری یہ داڑھی ! “

” کیا عربی لباس اور داڑھی دہشت گرد ہونےکی علامت ہے۔ “

” ہم کو معلوم نہیں ۔ ہمیں ایسےہی احکامات دئےگئےہیں اور اس وقت ساری دُنیا میں اِس طرح کی احتیاطی کاروائیاں ہورہی ہیں “

” مطلب کا پھیر ہے۔ احتیاطی کاروائی کےنام پر دہشت گردی کی کاروائیاں “

تاریک آسمان گڑگڑاہٹ سےگونج رہا تھا اور پھر دھماکوں کی آوازیں گونجنےلگیں کبھی کبھی دھماکوں میں بےبسی بھری چیخیں بھی شامل ہوجاتی

” ابا ! کیا پھر حملہ ہُواہے؟ “

” بیٹا ! اب یہ تو روز کا معمول ہے۔ “

” لیکن ہم پر حملہ کیوں کیا جارہا ہے؟ “

” اپنی اَنا کی تسکین کےلئے معصوم لوگوں کا خون بہا کر اُن کےگھروں کو اُجاڑ کر اُن کےملک کو کھنڈر میں تبدیل کرکے، اپنی طاقت آزما کر اپنےجھوٹےغرور کا انتقام لیا جارہا ہے۔ “

” بابا یہ کب تک چلےگا ؟ “

” جب تک اُن کی اَنا کی تسکین نہ ہوجائے۔ “

” بابا ہمیں چار دِنوں سےکھانا نہیں ملا ‘ ہم بھوکےہیں ۔ “

” اُنھوں نےبمباری سےہمارےگھروں کو تو اُجاڑا ، اناج کےگوداموں ، اسپتالوں اور راحت کاری انجام دینےوالےاداروں کےدفاتر کو بھی نہیں چھوڑا ہےبیٹا “

” بابا آخر وہ ایسا کیوں کر رہےہیں ؟ “

” کہتےہیں یہ ہماری دہشت گردی کےخلاف لڑائی ہے، دہشت گردی کےخلاف جنگ ، دہشت گردی کرکے ؟ “

ٹرین کا جلا ہُوا ڈبہ اور جلی ہُوئی لاشیں بار بار ٹی وی پر دِکھائی جارہی ہیں ۔

لیڈروں کےاشتعال انگیز بیانات ٹی وی کےاسکرین پر اُبھر رہےہیں ۔

جلی ہُوئی لاشیں

اشتعال انگیز بیانات

عوام کےغم و غصےمیں بھرےچہرے

جلی ہُوئی لاشیں ، ٹرین کا جلا ہُوا ڈبہ

اشتعال انگیز تقریریں ، بیانات

ہزاروں کی بھیڑہےجو اشتعال انگیز اور نفرت انگیزنعرےلگاتی بڑھ رہی ہی۔پولیس چپ چاپ تماشائی بنی اُن کومسکراتےہُوئےدیکھ رہی ہےاور تمباکو مسل کر اپنےمنہ میں ڈال رہی ہی۔

دوکانوں اور مکانوںکو آگ لگائی جار ہی ہے

لوگوںکو دہکتی آگ میں ڈالا جارہا ہی

انہیں تر شولوں سےچھیدا جا رہا ہی

حا ملاو

ں کےپیٹ کاٹ کر ان سےبچےنکالےجا رہےاور انہیں دہکتی آگ میں ڈالا جا رہا ہے

عصمتیںتاراج ہو رہی ہیں ۔

چن چن کر دوکانوں،مکانوں،کاروباری ٹھکانوں کوآگ لگائی جارہی ہی

یہ جو کچھ ہو رہا ہےردِّ عمل ہی۔ ” اگر وہ عمل نہیں ہوتاتواس کا رد عمل نہیں ہوتا ۔“

”حالات پر قابو پا نےکےلیےملٹری بلائی تو ہےلیکن ابھی شہر ملٹری کےحوالےنہیںکیا جا سکتا اس کی کچھ قانونی مجبوریاںہیں۔ ایک ایک ملٹری کی گاڑی کےساتھ ایک ایک مجسٹریٹ دیا جائےگا۔اور حالات کو دیکھتےجب وہ مجسٹریٹ گولی چلانےکا آرڈردےگاتب ہی فوج گولی چلائےگی“

۔ سارا شہر فساد میں گھرا ہی۔مجسٹریٹوں کی تلاش جاری ہی۔ جب اتنےمجسٹریٹ مل گےتو پھرشہر کو فوج کےحوالےکیا جائےگا ۔

شہر میں لوٹ مار ،آتش زدگی،چھرےبازی اور ترشول بازی جاری ہی۔

لوگ مر رہےہیں ، عورتوں کی عصمتیں لُوٹی جارہی ہیں ،بچےیتیم ہورہےہیں ، مسجدوں ، درگاہوں کو مسمار کرکےوہاں منادر بنائےجارہےہیں اوران میں ہنومان جی کی مورتیاں رکھی جارہی ہیں ۔

وحشیوں کا ٹولہ پوری پوری بستیوں کو جلا کر خاک کر رہا ہے

ان بستیوں کےمکینوں کو آگ میں بھون رہا ہے

انتظامیہ تماشا ئی ہی نہیں ہے‘ ان تمام واقعات میں پوری طرح ملوث ہے

نئےقائدین کےچہرےابھر رہےہیں۔

ایڈوانی،مودی،توگڑیا،با ل ٹھا کری

ایک کیمپ

اِس میں لاکھوں لوگ مقید

لُٹےہُوئے، شکستہ ، زخموں سےچُور

کسی نےاپنا پورا خاندان کھو دیا ہے، تو کسی کی بہن لاپتہ ہے، تو کسی کا جوان بیٹا ترشولوں سےچھید کر آگ میں بھون ڈالا گیا ۔

بےیار و مدد گار ، بھوکےپیاسے۔

وہاں نہ پینےکےلئےپانی ہےاور نہ کھانےکےلئےکچھ نہ علاج کےلئےدوائیاں

لیکن پھر بھی وہ شکر ادا کر رہےہیں ۔ اس جگہ وہ اپنےآپ کو محفوظ محسوس کررہےہیں ۔

” سرکار اِس طرح کےکیمپوں کی ذمہ داری نہیں لےسکتی ، اِس طرح کےکیمپ اَمن و اَمان کےلئےخطرہ ہیں “

” اِس طرح کے کیمپ دہشت گردوں کےاَڈّےہیں ۔ اِن کیمپوں میں دہشت گرد پناہ لےرہےہیں ۔ “

یہ کیمپ ملک دشمن سرگرمیوںکےاڈّےبنتےجا رہےہیں۔ یہ آبادی بڑھانےکےکا رخانےہیں

لوٹ مار،آتش زدگی،قتل و خون جار ی ہی۔

اِن لوگوں کو غصہ نہیں آتاہی‘ لیکن جب غصہ آتاہےتو پھر وہ غصہ جلدی ٹھنڈانہیں ہو تا ہی۔ جب تک غصہ ٹھنڈا نہیں ہو تا یہ چلتا رہےگا

گورو یا تراجاری ہی۔

لوگ یاترامیں شامل اشتعال انگیز نعرےلگا رہےہیں ۔

یاترا کا میر کارواں اشتعال انگیز اور نفرت انگیز تقریر کر رہا ہے۔

لاکھوں لوگوں کو بےگھر اُن کی زندگی کا سرمایہ اُجاڑ کر اُن معصوم لوگوں کو قتل کرکے، بچوں کو یتیم کرکے، عورتوں کو بیوہ اور عصمتوں کو تاراج کرکے، اُن کا جشن منایا جا رہا ہے۔

جگہ جگہ گورو یاترائیں نکالی جارہی ہیں ۔

اپنےاِن کارناموں پر شرم نہیں گورو کیا جارہا ہے۔

رام ، کرشن ، بدھ ، مہاویر کی نئی تعلیم ، نئی نسل کو دی جارہی ہے۔

” اےرُک جا کیا نام ہے؟ “

” عبدا لرحیم ! “

” پکڑ لو اِسے‘ یہ کوئی دہشت گرد لگتا ہے۔ اِس کی داڑھی اِس بات کا ثبوت ہے۔ “

” نہیں صاحب ! میں دہشت گرد نہیں ہُوں ۔ میں تو ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہُوں ۔ “

” تعلیم یافتہ نوجوان ہی آج کل ملک دُشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ جب تم پر پوٹا لگا یا جائےگا اور کئی سالوں تک جب تم جیل میں سڑوگےتو اگر تم دہشت گرد نہیں بھی ہو تو دہشت گرد بن جاو

گے۔ “

” اِسی طرح دہشت گرد بنائےجاتےہیں ۔ “

پولس کی کئی جیپیں آکر رُکیں اور اُن میں سےمسلح پولس کےساتھ ساتھ کمانڈوز بھی اُترےاور اُنھوں نےپوری بستی کو اپنےگھیر ےمیں لےلیا ۔

دیکھتےہی دیکھتےپوری بستی ایک پولس کیمپ میں تبدیل ہوگئی ۔ جو بھی سامنےآتا اُسےروک کر بندوق کی نوک پر اُس سےطرح طرح کےسوالات پوچھےجاتےاور بلا کسی شک و شبہ کےجس کو وہ چاہتےہتھکڑی ڈال کر بیٹھا دیتے۔

عورتوں کی نقابیں اُٹھا اُٹھا کر اُن کےچہرےدیکھےجاتے، چہروں پر سفّاک نظریں ڈالی جاتیں ، تلاشی کےنام پر اُن کےجسم کو چھو کر لذت حاصل کی جاتی ۔

چلتی گاڑیوں کو روک کر اُن میں بیٹھےمسافروں کو نام پوچھ پوچھ کر اُتارا جاتا اور ہتھکڑیاں پہنا کر جیپ میں بیٹھا دیا جاتا ۔

گھروں میں گھس کر بندوق کی نوک پر گھر کےمکینوں کو دہشت زدہ کیا جاتا اور تلاشی کےنام پر گھر کی ہر چیز تہس نہس کردی جاتی ۔

مکانوں کےبند دروازوں کو لات مار مار کر کھولا جاتا ۔ جو دروازےلات مارنےسےبھی نہیں کھل پاتےاُنھیں توڑ دیا جاتا ۔

جن دروازوں کو توڑنےکےبعد مکان میں داخل ہوتے‘ اُن مکینوں پر آفت آجاتی ۔ مکان کےتمام افراد یرغمال بنا لئےجاتے۔ اُس سےبچنےکےلئےلوگ خوف زدہ ہو کر ہاتھ اُٹھا کر ایک قطار میں کھڑےہوجاتے۔

قطار میں کھڑےلوگوں کےساتھ جانوروں کی طرح برتاو

کرتےہُوئےطرح طرح کےسوالات کئےجاتےاور اُنھیں زد و کوب کیا جاتا ۔

” یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اور ہمارےساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟ “

” ہمیں پتہ چلا ہےکہ یہ بستی دہشت گردوں کا اڈّا ہے‘ حالیہ بم دھماکوں میں جن دہشت گردوں کا ہاتھ ہےاُن کا تعلق اِسی بستی سےہے۔ اور یہ کاروائی ہماری اُن دہشت گردوں کو تلاش کرنےکی مہم کا حصہ ہے۔

” ہم دُنیا سےدہشت گردی کو اُکھاڑ پھینکنا چاہتےہیں ۔ ہماری جنگ دہشت گردی کےخلاف ہے، ہم جس ملک کو دہشت گرد قرار دےدیں ۔ دُنیا کو ماننا ہوگا کہ وہ ملک دہشت گر د ہےاور ہم اُس ملک کےخلاف جو بھی کاروائی کریں ‘ ہماری کاروائی دہشت گردی کےخلاف جنگ ہوگی ۔ “

رات بھر آسمان سےبم برستےرہے۔ مکان ، دُکان ، دفاتر ، سڑکیں ، چوراہے‘ سب کچھ اِن بموں کی زد میں آکر تباہ ہوتےرہے۔ دہشت سےگھروں میں سمٹےلوگ بموں کو پھٹتےاور اُن سےپھیلتی تباہی کو دیکھتےاپنی جانیں بچانےکی کوشش کرتےرہتے۔

روزانہ کا معمول رہا ۔

ساری دُنیا میں مظاہرےہوتےرہے۔

جنگ بند کی جائے، یہ جنگ ظلم ہے، ہم امن چاہتےہیں ، معصوم لوگوں کی جانیں نہ لی جائیں ، جو لوگ اِس جنگ میں ملوث ہیں وہ شیطان ہیں ۔

لیکن ساری دُنیا کےمظاہروں کا دو شیطانوں پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔

وہ ساری دُنیا کےمظاہروں کو نظر اندازکرکےدہشت گردی کےذریعہ دہشت پھیلاتےرہے۔ اور اپنی کاروائی کو درست قرار دیتےہُوئےاپنی فتوحات کےشازیانےبجاتےرہے۔

سب کچھ ختم ہوگیا تھا ۔

اب ایک خاموشی تھی ، ایک سنّاٹا ۔

چاروں طرف ملبےکےڈھیر ہیں ۔ ٹوٹی ہُوئی عمارتوں سےدُھواں اُٹھ رہا ہے۔ اُن ملبوں کےڈھیر پر بیٹھ کر کچھ لوگ ماتم کررہےہیں ‘ تو کچھ اپنی فتح ، اپنی آزادی کا جشن منا رہےہیں ۔ کچھ اِن ملبوں میں اپنےعزیز و اقارب کو تلاش کررہےہیں ۔

جنگ ختم ہوگئی ۔ لیکن ہماری دہشت گردی کےخلاف جنگ جاری ہے۔ یہ اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی ‘ جب تک دُنیا سےآخری دہشت گرد ختم نہ کردیا جائےگا ۔ “

نئےمیزان مرتب کئےجارہےتھے۔ نئےپیمانےڈھالےجارہےتھے۔

ایسا محسوس ہوتا تھا دہشت گردی کےخلاف جنگ کی یہ دہشت گردی نئی صدی کا سب سےبڑا عذاب بن گئی ہے۔

 

ایم مبین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شفق کی سُرخی اُبھر رہی ہے
  • شکاری عورتیں
  • نئے دور کی چالبازیاں
  • تنہائی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اینٹونینا کی جرات گناہ
پچھلی پوسٹ
سمینٹ میں دفن آدمی

متعلقہ پوسٹس

کوئی مانے یا نہ مانے

اکتوبر 18, 2019

حد درجہ تیرا معاملہ

مارچ 4, 2025

تجھ سے وابستہ ہر

جولائی 6, 2025

اسلام میں متعدد نکاح

اگست 17, 2025

کتے

دسمبر 13, 2019

صحت سب کے لیے

جنوری 23, 2020

حضور ﷺ کے عورتوں پر احسانات

مئی 11, 2024

کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں

فروری 5, 2020

سانس لینا بھی مدد گار

مارچ 25, 2025

جگرکےخوں سے ہی لےکے

فروری 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس بات کا خود اسکو

ستمبر 6, 2025

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک...

جنوری 3, 2020

قدرتی ٹانک آم کے کرشمے

نومبر 2, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں