424
تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی
چھوٹی سی ایک بات بڑی دور تک گئی
ہم تو ہر امتحاں میں ہوئے سرخرو۔مگر
مجبوری _ حیات بڑی دور تک گئی
تشنہ لبی تو زیست کا اوج_کمال تھی۔
گو کہ لب_ فرات بڑی دور تک گئی۔
واعظ تمہاری جنت و دوزخ کی خیر ہو
رندوں کی کائنات بڑی دور تک گئی
بچھڑے ہر ایک موڑ پہ ساتھی بہت مگر
اک یاد میرے سات بڑی دور تک گئی
ہم نے سبھی کو چاہا مقرر حدود میں
لیکن تمہاری ذات بڑی دور تک گئی
شہزاد واثق
