110
تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو
دل تو وہ زخم ہے جسے آرام ہی نہ ہو
چونکا ہوں نیم شب بھی یہی سوچ سوچ کر
وہ آفتاب اب بھی لب بام ہی نہ ہو
تم جس کو جانتے ہو فقط اپنی طبع خاص
وہ رنج وہ فسردہ دلی عام ہی نہ ہو
آہستہ اس لرزتے ہوئے پل پہ رکھ قدم
صدیوں کا انہدام ترے نام ہی نہ ہو
اے دل مفر تو کار جہاں سے نہیں مگر
اتنا تو کر کہ اس میں سبک گام ہی نہ ہو
دستک سی دے رہی ہے دریچے پہ باد صبح
اے محو خواب سن کوئی پیغام ہی نہ ہو
خورشیدؔ تو نے کیسے نبھائیں یہ عزلتیں
جیسے تجھے کسی سے کوئی کام ہی نہ ہو
خورشید رضوی
