خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباافغان باقی کہسار باقی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

افغان باقی کہسار باقی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2025 0 تبصرے 68 مناظر
69

افغان باقی کہسار باقی؛ اُمید، حقیقت اور ہماری آزمائش
دنیا کی تاریخ میں مہاجرین ہمیشہ ایک حساس اور پیچیدہ موضوع رہے ہیں۔ افغانستان کے ہزاروں مہاجرین، جنہوں نے صدیوں کی جنگ، خانہ جنگی اور معاشرتی ابتری کے بعد اپنے گھروں کو چھوڑا، دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ تلاش کرتے رہے۔ پاکستان اور ایران نے کئی دہائیوں تک انہیں پناہ دی، مگر آج صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ ایران نے لاکھوں افغانوں کو ملک بدر کر دیا اور پاکستان میں بھی مہاجرین کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

۲۰۲۵ میں امریکی صدر کے بیان کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں ایک فوجی خاتون پر حملے کا واقعہ سامنے آیا، جس میں حملہ آور ایک افغان مہاجر تھا۔ امریکی حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے

afghan kohsar

Kabul, December 2017. (AFP / Wakil Kohsar)       

پناہ گزین پروگرام میں سختیاں کر دی اور افغان مہاجرین کے کیسز پر دوبارہ نظرثانی کا اعلان کیا۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر افغان مہاجرین کی پذیرائی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور یہ ظاہر کیا کہ امید اور حقیقت کے درمیان ایک گہرا فرق موجود ہے۔

پاکستان میں بھی افغان مہاجرین کے حوالے سے کئی دعوے سامنے آئے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین افغانستان سے آنے والے فتنہ الخوارج کو پناہ دیتے ہیں۔ الزامات میں شامل ہیں غیر قانونی رہائش، منشیات کی تجارت، چھوٹے جرائم اور بعض سماجی مسائل۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے ایسے افغان شہریوں کے خلاف اقدامات کیے اور بعض کو ملک بدر کیا۔ یہ الزامات، چاہے بعض حقیقی ہوں یا مبینہ، پاکستانی معاشرے میں افغان مہاجرین کے خلاف عمومی تشویش پیدا کر چکے ہیں۔

ایران کی مثال بھی قابل غور ہے۔ وہاں لاکھوں افغان مہاجرین کو قانونی وجوہات کے تحت ملک بدر کر دیا گیا۔ ایران نے ان کے عارضی رجسٹریشن یا غیر قانونی رہائش کے امور کو بنیاد بنا کر انہیں واپس بھیجا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اقدام پر تنبیہ کرتی ہیں کہ یہ بے دخلیاں انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہیں، مگر ایران نے اپنی سکیورٹی اور داخلی پالیسی کے نام پر یہ اقدام مکمل کیا۔

پاکستان اور ایران کے اقدامات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مہاجرین کے معاملے میں نہ صرف امید بلکہ حقیقت پسندی بھی لازمی ہے۔ مہاجرین کو پناہ دینا انسانیت کا تقاضا ہے، مگر قانون، سماجی ضابطہ اور ریاستی تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

افغانی مہاجرین کے کردار پر تنقیدی نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ معاشرتی نظم و ضبط میں ان کی شمولیت ہرگز مثالی نہیں رہی۔ پاکستان میں بعض افغان مہاجرین نے سماجی اور قانونی حدود کی خلاف ورزی کی، جس سے عوامی رائے میں شک و شبہ پیدا ہوا۔ ایران میں بھی صورتحال مختلف نہیں تھی، جہاں غیر قانونی رہائش رکھنے والے افغان شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔ ان حقائق کے پیش نظر، افغان مہاجرین کے مثبت کردار کی کہانی کم ہی سامنے آتی ہے۔

کیا ہم نے انہیں امید کی روشنی کے ساتھ قبول کیا اور توقعات لگائیں؟ بے شک، لگائیں۔ مگر اب یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ امید اور حقیقت میں فرق بہت بڑا ہوتا ہے۔ انسانی فطرت چاہتی ہے کہ مہاجرین کو قبول کیا جائے، مگر اگر وہ قانون اور معاشرتی ضابطے کی پاسداری نہیں کرتے، تو نتائج بھاری ہوتے ہیں۔

امریکہ میں ہونے والے حالیہ واقعے نے یہ حقیقت اور بھی واضح کر دی ہے۔ ایک افغان مہاجر نے فوجی اہلکار پر حملہ کیا، جس سے نہ صرف امریکی پالیسی سخت ہوئی بلکہ افغان مہاجرین کے بارے میں عمومی رائے بھی منفی ہو گئی۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر افغان مہاجرین کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے کہ آیا امید لگانا ایک درست قدم تھا یا ہمیں حقیقت پر توجہ دینی چاہیے تھی؟

پاکستان میں بھی الزامات اور شکایات کافی سنجیدہ ہیں۔ افغان مہاجرین پر الزام لگایا گیا کہ وہ بعض خطرناک عناصر کو چھپاتے ہیں یا سماجی طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، منشیات کی تجارت اور چھوٹے جرائم کی رپورٹس نے عوام میں خوف پیدا کیا۔ حکومت نے بعض علاقوں میں افغان مہاجرین کی نقل و حرکت محدود کی، کچھ کو ملک بدر کیا اور قانونی دستاویزات کے بغیر رہائش رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ یہ تمام عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ مہاجرین کے مسئلے میں امید کے ساتھ حقیقت پسندی لازمی ہے۔

افغان باقی کہسار باقی کے نعرے کے پیچھے جو تصور تھا، وہ ایک جذباتی امید تھی۔ ہم نے سوچا کہ افغان مہاجرین ہمارے معاشرتی ضابطوں اور انسانی اقدار کے ساتھ ضم ہوں گے۔ مگر حقیقت نے یہ دکھا دیا کہ صرف امید کافی نہیں۔ بعض مہاجرین نے سماجی قوانین کی خلاف ورزی کی، بعض نے غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور بعض نے انسانی اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ یہ سب عوامل ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مہاجرین کے معاملے میں توقعات اور حقیقت کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔

ایران اور پاکستان کی مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جب مہاجرین سماجی، قانونی اور اخلاقی ضابطوں کی پاسداری نہیں کرتے، تو میزبان ممالک کے لیے یہ ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ ایران نے لاکھوں افغان مہاجرین کو واپس بھیجا، پاکستان نے قانونی کارروائی کی، اور امریکہ نے اپنے پناہ گزین پروگرام میں تبدیلیاں کیں۔ یہ سب اقدامات امید اور حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہیں۔

مہاجرین کے مثبت کردار کی کمی نے بھی مسائل کو بڑھایا ہے۔ اگرچہ کچھ افراد نے محنت کی یا امن پسندانہ رویہ اختیار کیا، مگر مجموعی تصویر یہ نہیں ہے کہ افغان مہاجرین نے اپنی میزبانی کے بدلے مثبت شراکت دی۔ یہ حقیقت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مہاجرین کے معاملے میں ہمیں صرف امید نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مہاجرین کے خلاف ہو جائیں؟ نہیں۔ انسانی ہمدردی، انصاف اور قانونی اصول ہمیں یہ حکم دیتے ہیں کہ ہر فرد کو انفرادی بنیاد پر پرکھیں، اجتماعی سزا نہ دیں۔ مہاجرین بھی انسان ہیں، انہیں خوف، امید اور زندگی گزارنے کے حق کا حق حاصل ہے۔ مگر اگر وہ سماجی ضابطے اور قانون کی پاسداری نہیں کرتے، تو نتائج بھاری ہوتے ہیں۔

پاکستان، ایران اور امریکہ کے تجربات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مہاجرین کے معاملے میں اخلاقی اصول، قانونی ضابطہ اور حقیقت پسندی لازمی ہیں۔ امید صرف الفاظ یا نعرے سے پوری نہیں ہوتی، عملی اقدامات اور ذمہ داری کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مہاجرین کے حقوق اور فرائض کا توازن قائم کریں، قانون اور انسانی ہمدردی دونوں کو مدنظر رکھیں، اور جذباتی فیصلوں سے گریز کریں۔

آخر میں، افغان مہاجرین کے مسئلے نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسانی ہمدردی، امید اور انصاف کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا ضروری ہے۔ مہاجرین کے لیے پناہ دینا اچھا ہے، مگر حقیقت، قانون اور سماجی ضابطے کے بغیر یہ عمل خطرناک ہو سکتا ہے۔ افغان باقی کہسار باقی کے نعرے کے پیچھے اگر ہم نے صرف امید رکھی اور حقیقت نظرانداز کی، تو یہ نعرہ محض الفاظ رہ جائے گا۔

ہمیں چاہیے کہ امید لگائیں، مگر حقیقت کے ساتھ۔ مہاجرین کے انسانی حقوق کا احترام کریں، مگر سماجی ضابطہ، قانون اور اخلاقیات کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ یہی ہماری آزمائش ہے، یہی ہماری ذمہ داری ہے اور یہی وہ سبق ہے جو ہم نے افغان مہاجرین کے حالات سے سیکھنا چاہیے۔

 یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خدا پرستی کا نسخہ
  • شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف
  • قیمے کی بجائے بوٹیاں
  • خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان میں بے روزگاری
پچھلی پوسٹ
پیلی دھوپ

متعلقہ پوسٹس

عمر بھر درد کا جو

مئی 31, 2024

انسانی حقوق کا ڈھونگ اور گورے رنگ کی پرچار

مئی 20, 2026

عالمگیریت کے اثرات اور چیلنجز

اکتوبر 24, 2025

ہم تُند خو ہوئے کہ

فروری 25, 2025

شیخوپورہ: کون جیت سکتا ہے اور کون ہارے گا؟

جنوری 29, 2024

ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے

اکتوبر 12, 2025

میر، غالب، اور ایک منٹ کے چاول

دسمبر 4, 2019

تجھ کو فرصت سے سوچتا ہے کوٸی

دسمبر 20, 2022

کیسے بتائیں حسن اسکا بس اسی پر ختم ہے

جون 8, 2020

اردو نظم کے نئے آفاق

اکتوبر 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب سہولت نہیں ہے جینے کی

جنوری 2, 2022

نقوشِ وجود

دسمبر 11, 2024

دادی کی جوانی

اپریل 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں