خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامانسانی حقوق کا ڈھونگ اور گورے رنگ کی پرچار
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

انسانی حقوق کا ڈھونگ اور گورے رنگ کی پرچار

از سائیٹ ایڈمن مئی 20, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 20, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

اشتہارات کی چکا چوند میں چھپا یہ نفسیاتی کھیل محض تجارتی حربہ نہیں، بلکہ مغرب کی اس گہری نسل پرستانہ اور دوغلی پالیسی کا آئینہ ہے جو ایک طرف انسانی حقوق اور مساوات کا ڈھونگ رچاتا ہے اور دوسری طرف اپنی کارپوریٹ طاقت کے ذریعے گورے اور کالے کے فرق کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ مغرب، جو دنیا بھر میں "نسل پرستی کے خاتمے” اور "بلیک لائیوز میٹر” (Black Lives Matter) جیسی تحریکوں کا چیمپیئن بنتا ہے، اس کی ملٹی نیشنل کمپنیاں جب تیسری دنیا کے ممالک اور ایشیا و افریقہ کا رخ کرتی ہیں تو ان کا سارا فلسفہ بدل جاتا ہے۔ یہاں وہ انسانی وقار کو گوری اور کالی چمڑی کے ترازو میں تول کر اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھاتی ہیں۔ یہ تضاد اس وقت واضح ہوتا ہے جب یہی عالمی برانڈز اپنے ملکوں میں تنوع (Diversity) کی مالا جپتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ان کے اشتہارات کا پورا بیانیہ یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کا رنگ گورا نہیں ہے اور آپ سانولے یا کالے ہیں تو آپ کی زندگی بے کار ہے، نہ آپ کو نوکری ملے گی، نہ سماج میں عزت اور نہ ہی کوئی آپ کو منہ لگائے گا۔
اس منافقت کا پوسٹ مارٹم کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مغرب نے گورے اور کالے کے اس تاریخی تفاوت کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے "کمرشلائز” کر کے اس سے اربوں ڈالر کمانا شروع کر دیے ہیں۔ ایک طرف وہ قانون سازی کرتے ہیں کہ کسی کو اس کی سیاہ یا گندمی رنگت کی بنیاد پر حقیر نہ سمجھا جائے، لیکن دوسری طرف انہی کے سرمائے پر چلنے والے بیوٹی برانڈز ایسے اشتہارات بناتے ہیں جہاں ایک سانولی یا سیاہ فام لڑکی کو تب تک ناکام، پسماندہ اور مظلوم دکھایا جاتا ہے جب تک وہ ان کی کریم استعمال کر کے سفید فام نظر نہیں آنے لگتی۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کا مطلب صرف گوروں کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہے، ورنہ معاشی فائدہ سمیٹنے کے لیے وہ کسی بھی غیر سفید فام قوم کو احساسِ کمتری کی گہری کھائی میں دھکیلنے سے گریز نہیں کرتے۔ ان کمپنیوں نے "گوری چمڑی” کو کامیابی کی ایسی ناگزیر شرط بنا کر پیش کیا ہے کہ آج کی نسل اپنی اصل رنگت پر فخر کرنے کے بجائے مغربی معیارِ حسن کی اندھی نقالی میں اپنی روح زخمی کر رہی ہے۔
یہ اشتہارات دراصل ایک نیا سفید فام استعماری نظام ہیں جہاں اب ملکوں کو تلوار سے نہیں بلکہ "احساسِ کمتری” سے فتح کیا جاتا ہے اور کالے یا سانولے رنگ کے انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ادھورا ہے۔ جب کوئی کریم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی دنیا بدل دے گی، تو وہ دراصل آپ کے فطری وجود اور خدا داد رنگت کی نفی کر رہی ہوتی ہے۔ مغرب کا یہ دوہرا معیار معاشرے میں ایک ایسی غیر مرئی تقسیم پیدا کر رہا ہے جہاں انسان اپنی محنت، قابلیت اور کردار کے بجائے اس بنیاد پر پرکھا جا رہا ہے کہ اس کی چمڑی کس حد تک گوری ہے۔ یہ مغربی تاجر ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ عزت اور وقار بازار میں دستیاب ان ٹیوبز اور لوشنز میں بند ہے جو کالی چمڑی کو گورا کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ان کی تجوریوں کو بھرنے کا ایک انتہائی گھناؤنا اور نسلی امتیاز پر مبنی طریقہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ مغرب کا انسانیت پسندی اور مساوات کا نعرہ ایک کھوکھلا ملمع ہے جس کے نیچے خالص مادہ پرستی اور گوری چمڑی کی برتری کا خبط چھپا ہے۔ اگر وہ واقعی گورے اور کالے کے فرق کے خلاف ہوتے تو ان کی کمپنیاں افریقہ اور ایشیا میں "رنگ گورا کرنے” کی دوڑ نہ لگاتییں اور نہ ہی کروڑوں انسانوں کو یہ احساس دلاتیں کہ ان کا فطری رنگ ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کے اس فکری اور نسلی حملے کو پہچانیں اور یہ سمجھیں کہ عظمتِ انسانی کسی کریم یا لوشن کی محتاج نہیں، بلکہ یہ خدا کی عطا کردہ انفرادی صلاحیتوں اور خودداری میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں اس غلامانہ ذہنیت سے نکلنا ہوگا جو مغرب کے تخلیق کردہ ان مصنوعی بتوں کی پوجا کرتی ہے، کیونکہ اصل کامیابی اپنی حقیقت اور اپنی رنگت کو پہچاننے اور اس پر فخر کرنے میں ہے، نہ کہ کسی مغربی برانڈ کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنی پہچان کھو دینے میں۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ ایک مونگ پھلی
  • اشفاق احمد اور اُردو ادب
  • باباجی!
  • ایک فطری جلوہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عارفین
پچھلی پوسٹ
وقت کی قدر اور انسان کی غفلت

متعلقہ پوسٹس

شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ

دسمبر 19, 2025

انشاء کا اعظمی کو تیسرا خط

دسمبر 2, 2019

عید اور رسم مصافحہ

مئی 22, 2020

اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان

اپریل 17, 2026

سامنے بیٹھا رہا وہ شخص

دسمبر 7, 2025

‘لا’ سے ‘کن ‘کا سفر

مئی 18, 2020

رہبرِ اختران

دسمبر 29, 2024

روداد

اکتوبر 14, 2025

بے وزنی روح کی کہانی

نومبر 27, 2024

سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات

مارچ 23, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہنرمند نسل کی تعمیر کیسے کی...

اکتوبر 13, 2025

اے دل تیرے فسانے

فروری 3, 2020

شیر خوار

مارچ 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں