خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکوئی مانے یا نہ مانے
اردو تحاریراردو کالمزحامد میر

کوئی مانے یا نہ مانے

ایک اردو کالم از حامد میر

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2019 0 تبصرے 353 مناظر
354

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ایک بہت بڑی تبدیلی لیکر آئے ہیں۔ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ اس تبدیلی سے پنجاب کو فائدہ ہوا یا نقصان لیکن تبدیلی تو آخر تبدیلی ہوتی ہے، فائدہ پہنچائے یا نقصان۔ یہ ناچیز جس تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس کا عملی مشاہدہ میرے لئے خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔ ایک محفل میں پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال سے ملاقات ہوئی تو دونوں نے اپنی مادری زبان بلوچی میں ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کیا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کو بلوچی بولتے دیکھ کر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور مجھے پنجاب کے کچھ بڑے بڑے سیاست دان اور دانشوروں کا درد سمجھ آ گیا جس کا اظہار وہ عثمان بزدار کے بارے میں مایوسی کے ذریعہ کرتے ہیں۔ شروع شروع میں کہا گیا کہ جس طرح شہباز شریف چند ہفتوں کیلئے دوست محمد کھوسہ کو لائے تھے اسی طرح جہانگیر ترین چند ہفتوں کیلئے عثمان بزدار کو لائے ہیں اور سپریم کورٹ سے کلین چٹ ملنے کے بعد وہ خود وزیراعلیٰ بن جائیں گے لیکن نہ ترین صاحب کو یہ کلین چٹ ملی نہ عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنوانے میں ان کا کوئی کردار سامنے آیا۔ تین ماہ گزرنے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ عثمان بزدار ایک ڈمی وزیراعلیٰ ہیں اصل اختیارات تو کسی اور کے پاس ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے ایک ٹی وی اینکر نے عثمان بزدار سے کہا کہ سنا ہے آپ کے پاس تو کوئی اختیار ہی نہیں، وزیراعلیٰ کا اختیار تو گورنر صاحب یا سینئر منسٹر استعمال کرتے ہیں یہ سن کر بزدار صاحب نے بڑے اعتماد سے کہا کہ ٹھیک ہے آپ جن کو بااختیار سمجھتے ہیں ان سے اپنا کوئی کام کروا کر دکھادیں اور دوسرے ہی لمحے کہا کہ ویسے میں تو اکثر شام کو گورنر صاحب کے ساتھ واک کرتا ہوں۔ عثمان بزدار کی اصل طاقت وزیراعظم عمران خان ہیں جب تک وزیراعظم ان کے پیچھے کھڑے ہیں کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا لیکن اگر عثمان بزدار نے اپنی کارکردگی بہتر نہ بنائی تو پھر وہ عمران خان کے زوال کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ جو لوگ عثمان بزدار کو پنجاب میں سیاسی انحطاط کی علامت قرار دے رہے ہیں انکی گفتگو پر ذرا غور کریں تو آپ کو ہمارے معاشرے میں فکری و صحافتی انحطاط کے آثار بھی واضح نظر آئیں گے۔ یہ انحطاط صرف پاکستان تک محدود نہیں آپ کو اپنے ارد گرد بہت سے ممالک میں فکری انتشار نظر آئے گا جو معاشرے کے ہر طبقے کو انتہا پسند بنا رہا ہے۔ مذہبی طبقہ بھی دھونس اور دھمکی دیتا نظر آتا ہے اور اپنے آپ کو لبرل و سیکولر کہنے والے بھی اختلافِ رائے کے نام پر جھوٹ اور ڈس انفارمیشن پھیلاتے نظر آئیں گے۔

نومبر میں شاعر مشرق علامہ اقبال ؒاور شیر میسور ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے۔ اس سال پاکستان میں یوم اقبالؒ پر شاعر مشرق کے خلاف دشنام طرازی کی گئی اور بھارت میں ٹیپو سلطان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں طاقتور ریاستی اداروں کے بارے میں سچ بولنا بہت مشکل ہو چکا ہے لیکن علامہ اقبال ؒکے خلاف جھوٹا الزام لگانا بہت آسان ہے۔ اس سال 9 نومبر کو ایک انگریزی اخبار میں بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے علامہ اقبال ؒپر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ سائنس، فلسفے، آرٹ اور آزادی اظہار کے دشمن تھے اور یہ کہ انہوں نے اپنے خطبات میں قرآنی آیات کے حوالے انتہائی غیر ذمہ داری سے دیئے۔ تفصیل میں نہیں جاتا صرف اتنا عرض ہے کہ ایک عاشقِ اقبال اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ طارق پیرزادہ شاعر مشرق پر الزامات پڑھ کر تڑپ اٹھے اور چند گھنٹوں میں اس اقبال دشمنی کے پیچھے متحرک لابی کو کھوج لائے جس کے سر پر آج کل خادم حسین رضوی سوار ہے اور اس لابی کا اپنا طرزِ فکر اور طرز بیان بھی خادم حسین رضوی سے مختلف نہیں۔ ادھر بھارت میں ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش پر بی جے پی اور آر ایس ایس نے ٹیپو سلطان کو ہندوئوں کا قاتل اور دشمن قرار دیکر مطالبہ کیا کہ ٹیپو سلطان کی یاد میں کرناٹکا میں منعقد کی جانے والی سرکاری تقاریب منسوخ کی جائیں۔ بھارت کے معروف شاعر جاوید اختر اس ٹیپو دشمنی پر تڑپ اٹھے، انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ٹیپو سلطان نے امریکہ کی جنگِ آزادی کے دوران بینجمن زینکلن کے نام ایک پیغام میں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انہیں مالی امداد بھی بھجوائی۔ آر ایس ایس کے حامیوں نے جاوید اختر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا جس پر جاوید اخترنے جواب میں کہا کہ آر ایس ایس نے ہمیشہ انگریزوں کی حمایت کی اور انہیں معافی نامے لکھ کر دیئے اس پر آر ایس ایس کے ایک حامی وکاس سراوات نے دعویٰ کیا کہ جاوید اختر کے ایک بزرگ مولوی فضل حق خیرآبادی نے بھی 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد سزا پانے پر انگریزوں سے معافی مانگی تھی۔ کون نہیں جانتا کہ ٹیپو سلطان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور میدان سے بھاگنے کے بجائے شیر کی ایک دن کی زندگی کو گیدڑ کی سوسالہ زندگی پر ترجیح دی لیکن آج بی جے پی صرف اسلام دشمنی میں بھارت کے بڑے بڑے شہروں کے نام ہی نہیں بلکہ تاریخ بھی بدل رہی ہے پہلے میسور کو کرناٹکا بنایا گیا اب ٹیپو سلطان کو غدار اور میرصادق کو ہیروبنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وہ علامہ اقبالؒ جن کے کلام میں ٹیپو سلطان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا انہیں پاکستان میں زیرو کرنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن مذہبی انتہا پسندہوں یا سیکولر دانشور وہ نہ ٹیپو سلطان سے اس کا مقام چھین سکتے ہیں نہ ہی اقبالؒ کی فکری عظمت کہ چاند پر تھوکنے سے انہیں کچھ ملے گا لیکن جہاں چاند پر تھوکنے والوں کی تعداد بڑھ جائے وہاں سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے لہٰذا ہمیں اپنے معاشروں کو ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ فکری آلودگی سے بھی بچانا ہے۔ ایک زمانے میں کچھ ترقی پسندوں نے اقبالؒ کی مذمت شروع کی تو فیض احمد فیض سینہ تان کر اقبالؒ کے دفاع میں کھڑے ہو گئے۔ آج فیض صاحب ہم میں نہیں۔ نومبر میں ہم انکی یاد بھی منا رہے ہیں اور انکی یاد منانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم فیض کی طرح اقبالؒ کا دفاع کریں۔ اقبالؒ ایک انسان تھے اور انسان خطاء کا پتلا ہوتا ہے۔ انسان پر تنقید بھی ہو سکتی ہے لیکن اقبالؒ پر جھوٹے الزامات لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ فلسفہ خودی کے پیامبر کو آزادی اظہار کا دشمن قرار دینا اور ان پر قرآنی آیات کے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے حوالے دینے کا الزام ظلم کے سوا کچھ نہیں۔ اقبالؒ کا اصل قصور یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا؎

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغِ فساں لا الہ الا اللہ

آج بھارت میں جو کچھ ٹیپو سلطان کےساتھ ہو رہا ہے اس کے بعد ہمیں اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے ہمیں پاکستان کا خواب بھی دیا اور خواب کی تعبیر بھی دی لیکن افسوس کہ آج پاکستان کے کچھ احسان فراموش دانشور بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرح جھوٹ بول کر تاریخ کو بدلنے کی کوشش میں ہیں۔ اقبال ؒ ایک گناہ گار انسان تھے لیکن سچے عاشق رسول ؐ تھے۔ کسی عاشق رسول ؐکی طرف سے توہین رسالتؐ کی مذمت کو آزادی اظہارپر حملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب تو یورپی عدالتیں بھی کہہ رہی ہیں کہ آزادی اظہار کے نام پر توہین رسالتؐ کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہٰذا اقبالؒ کے دشمن چاند پر تھوکنا بند کردیں۔

Hamid Mir is a Pakistani journalist, news anchor, terrorism expert, and security analyst. He currently hosts the political talk show Capital Talk on Geo TV and also writes columns for Urdu, Hindi, Bengali, and English newspapers. He was twice banned from Pakistani television by the Pervez Musharraf government in 2007, and by the Zardari administration in June 2008. He has also received the Hilal-i-Imtiaz, Pakistan’s second highest civil award.

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چپ فقیر گواہ رہنا
  • عالمی فلوٹیلا
  • قہقہوں کے سائے میں
  • پہاڑی کھیت میں!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پجیرو بھی کھڑی ہے اب تو ان کی کار کے پیچھے
پچھلی پوسٹ
دل کی بات لبوں پر لا کر

متعلقہ پوسٹس

لاوارث

جون 14, 2020

عمران خان کی اپیل اور روس کی حمایت

اپریل 18, 2020

دوسرا بوسہ

مئی 12, 2024

فقر کی روشنی میں پروان چڑھتا علم

دسمبر 12, 2025

صدر ٹرمپ کا بھارت کو ایک اور سرپرائز

ستمبر 24, 2025

دوست کے نام

جنوری 25, 2020

پیر فتح شیر دیوان اور خدمتِ خلق

مارچ 10, 2026

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

دسمبر 3, 2020

محروم چئیو کھبی نہیں مرتی

جنوری 1, 2022

لاہور سے شیلا باغ تک

اگست 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جلتا انسان بےحس لوگ!

ستمبر 6, 2023

سڑک کے کنارے

فروری 5, 2020

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

اکتوبر 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں