خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےشکاری عورتیں
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

شکاری عورتیں

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019 0 تبصرے 500 مناظر
501

شکاری عورتیں
میں آج آپکو چند شکاری عورتوں کے قصے سناؤں گا میرا خیال ہے کہ آپکو بھی کبھی ان سے واسطہ پڑا ہو گا۔
میں بمبئی میں تھا فلمستان سے عام طور پر برقی ٹرین سے چھ بجے گھر پہنچ جایا کرتا تھا لیکن اس روز مجھے دیر ہو گئی اسلیے کہ ” شکاری ” کی کہانی پر بحث مباحثہ ہوتا رہا۔
میں جب بمبئے سنٹرل کے اسٹیشن پر اترا تو میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جو تھرڈ کلاس کمپارٹمنٹ سے باہر نکلی اسکا رنگ گہرا سانولا تھا، ناک نقشہ ٹھیک تھا جوان تھی، اسکی چال بڑی انوکھی سی تھی ایسا لگتا تھا کہ وہ فلم کا منظر لکھ رہی ہے۔
میں اسٹیشن سے باہر آیا اور پل پر وکٹوریہ گاڑی کا انتظار کرنے لگا میں تیز چلنے کا عادی ہوں اسلیے میں دوسرے مسافروں سے بہت پہلے باہر نکل آیا تھا۔
وکٹوریہ آئی اور میں اس میں بیٹھ گیا میں نے کوچوان سے کہا کہ آہستہ آہستہ چلے اسلیے کہ فلمستان میں کہانی پر بحث کرتے کرتے میری طبیعت مکدر ہو گئی تھی۔ موسم خوشگوار تھا وکٹوریہ والا آہستہ آہستہ پل پر سے اترنے لگا۔
جب ہم سیدھی سڑک پر پہنچے تو ایک آدمی سر پر ٹاٹ سے ڈھکا ہوا مٹکا اٹھائے صدا لگا رہا تھا۔” قلفی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلفی۔”
جانے کیوں میں نے کوچوان سے وکٹوریہ روک لینے کیلئے کہا اور اس قلفی بیچنے والے سے کہا کہ ایک قلفی دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اصل میں اپنی طبیعت کا تکدر کسی نہ کسی طرح دور کرنا چاہتا تھا۔

اس نے مجھے ایک دونی میں قلفی دی میں کھانے ہی والا تھا کہ اچانک کوئی دھم سے وکٹوریہ میں آن گھسا۔ کافی اندھیرا تھا میں نے دیکھا تو وہی گہرے رنگ کی سانولی لڑکی تھی۔
میں بہت گھبرایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مسکرا رہی تھی دونے میں میری قلفی پگھلنا شروع ہو گئی۔
اس نے قلفی والے سے بڑے بے تکلف انداز میں کہا” ایک مجھے بھی دو”
اس نے دیدی۔
گہرے سانولے رنگ کی لڑکی نے اسے ایک منٹ میں چٹ کر دیا اور وکٹوریہ والے سے کہا” چلو”
میں نے اس سے پوچھا” کہاں”؟
جہاں بھی تم چاہتے ہو”
مجھے تو اپنے گھر جانا ہے”
تم ہو کون؟
کتنے بھولے بنتے ہو؟
میں سمجھ گیا کہ وہ کس قماش کی لڑکی ہے چنانچہ میں نے اس سے کہا” گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ وکٹوریہ بھی غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ٹیکسی لے لیتے ہیں۔
وہ میرے اس مشورے سے بہت خوش ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ کہ اس سے نجات کیسے حاصل کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے دھکا دیکر باہر نکالتا تو ادھم مچ جاتا پھر میں نے یہ سوچا کہ عورت ذات ہے اس سے فائدہ اٹھا کر کہیں وہ یہ واویلا نہ مچا دے کہ میں نے اس سے ناشائستہ مذاق کیا ہے۔
وکٹوریہ چلتی رہی اور میں سوچتا رہا کہ یہ مصیبت کیسے ٹل سکتی ہے آخر ہم بے بی ہسپتال کے پاس پہنچ گئے وہاں ٹیکسیوں کا اڈہ تھا میں نے وکٹوریہ والے کو اسکا کرایہ ادا کیا اور ایک ٹیکسی لے لی ہم دونوں اس میں بیٹھ گئے۔
ڈرائیور نے پوچھا۔” کدھر جانا ہے صاحب ”
میں اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا تھوڑی دیر سوچنے کیبعد میں نے اس سے زیرلب کہا۔” مجھے کہیں بھی نہیں جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لو دس روپے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی کو تم جہاں بھی لے جانا چاہو لے جاؤ۔ وہ بہت خوش ہوا۔
دوسرے موڑ پر اس نے گاڑی ٹھہرائی اور مجھ سے کہا” صاحب آپکو سگریٹ لینے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ایرانی کے ہوٹل سے سستے مل جائینگے۔
میں فوراً دروازہ کھول کر باہر نکلا گہرے رنگ کی لڑکی نے کہا” دو پیکٹ لانا”۔
ڈرائیور اس سے مخاطب ہوا” تین لے آئینگے اور اس نے موٹر اسٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔
*****************************************************
بمبئی کا ہی واقعہ ہے میں اپنے فلیٹ میں اکیلا بیٹھا تھا میری بیوی شاپنگ کیلئے گئی ہوئی تھی کہ ایک گھاٹن جو بڑے تیکھے نقشوں والی تھی بے دھڑک اندر چلی آئی میں نے سوچا شاید نوکری کی تلاش میں آئی ہے مگر وہ آتے ہی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سگریٹ کیس سے ایک سگریٹ نکالا اور اسے سلگا کر مسکرانے لگی۔
میں نے اس سے پوچھا” کون ہو تم؟”
” تم پہچانتے نہیں۔”
میں نے آج پہلی دفعہ تمہیں دیکھا ہے۔
سالا جھوٹ مت بول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو روز دیکھتا ہے۔”
میں بڑی الجھن میں گرفتار ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن تھوڑی دیر کیبعد میرا نوکر فضل دین آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اس تیکھے نقشوں والی گھاٹن کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
*****************************************************
یہ واقعہ لاہور کا ہے۔
میں اور میرا ایک دوست ریڈیو اسٹیشن جا رہے تھے جب ہمارا تانگہ اسمبلی ہال کے پاس پہنچا تو ایک تانگہ ہمارے عقب سے نکل کر آگے آ گیا اس میں ایک برقع پوش
عورت تھی جس کی نقاب نیم وا تھی۔
میں نے اسکی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں عجیب قسم کی شرارت ناچنے لگی میں نے اپنے دوست سے جو پچھلی نشست پر بیٹھا تھا کہا۔” یہ عورت بدچلن معلوم ہوتی ہے۔”
” تم ایسے فیصلے ایکدم مت دیا کرو”
” بہت اچھا جناب! میں آئندہ احتیاط سے کام لوں گا”
برقع پوش عورت کا تانگہ ہمارے تانگے کے آگے آگے تھا وہ ٹکٹکی لگائے ہمیں دیکھ رہی تھی میں بڑا بزدل ہوں لیکن اسوقت مجھے شرارت سوجھی اور میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے آداب عرض کر دیا۔
اسکے آدھ ڈھکے چہرے پر مجھے کوئی ردعمل نظر نہ آیا جس سے مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔
میرا دوست کہنے لگا اسکو میری اس ناکامی سے بڑی مسرت ہوئی لیکن جب ہمارا تانگہ شملہ پہاڑی کے پاس پہنچ رہا تھا تو اس برقع پوش عورت سے کوئی بات نہ کی اور تانگے والے سے کہا کہ وہ ریڈیو اسٹیشن کا رخ کرے۔
میں اسے اندر لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈائریکٹر صاحب سے میرے دوستانہ مراسم تھے میں نے ان سے کہا۔ ” یہ خاتون ہمیں رستے میں پڑی ہوئی مل گئی آپکے پاس لے آیا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ انہیں یہاں کوئی کام دلوا دیجیے۔
انہوں نے اس کی آواز کا امتحان کرایا جو کافی اطمینان بخش تھا جب وہ آڈیشن دیکر آئی تو اس نے برقع اتارا ہوا تھا میں نے اسے غور سے دیکھا اسکی عمر پچیس کے قریب ہو گی۔ رنگ گورا آنکھیں بڑی بڑی لیکن اسکا جسم ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے شکرقندی کیطرح بھوبل میں ڈال کر باہر نکالا گیا ہے۔
ہم باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں چپڑاسی آیا اس نے کہا کہ باہر ایک تانگہ والا کھڑا ہے وہ کرایہ مانگتا ہے میں نے سوچا شاید زیادہ عرصہ گزرنے پر وہ تنگ آ گیا ہے چنانچہ میں باہر نکلا میں نے اپنے تانگے والے سے پوچھا ” بھئی کیا بات ہے ہم کہیں بھاگ تو نہیں گئے”
وہ بڑا حیران ہوا” کیا بات ہے سرکار”
تم نے کہلا بھیجا ہے کہ میرا کرایہ ادا کرو”
میں نے جناب کسی سے کچھ بھی نہیں کہا”
اسکے تانگے کیساتھ ہی ایکدوسرا تانگہ کھڑا تھا اسکا کوچوان جو گھوڑے کو گھاس کھلا رہا تھا میرے پاس آیا اور کہا ” وہ عورت جو آپکے ساتھ گئی تھی” وہ کہاں ہے؟
اندر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں؟
جی اس نے دو گھنٹے مجھے خراب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی ادھر جاتی تھی کبھی ادھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اسکو معلوم ہی نہیں تھا کہ اسے کہاں جانا ہے”
اب تم کیا چاہتے ہو؟
جی میں اپنا کرایہ چاہتا ہوں۔
میں اس سے لے کر آتا ہوں۔
میں اندر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس برقع پوش عورت سے جو اپنا برقع اتار چکی تھی کہا” تمہارا تانگے والا کرایہ مانگتا ہے۔
وہ مسکرائی” میں دیدونگی۔
میں نے اسکا پرس جو صوفے پر پڑا تھا اٹھایا اور اسکو کھولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس میں ایک پیسہ بھی نہیں لیا تھا بس کے چند ٹکٹ تھے اور دو بالوں کی پنیں۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک واہیات قسم کی لپ اسٹک۔
میں نے وہاں ڈائریکٹر کے دفتر میں کچھ نامناسب نہ سمجھا۔ ان سے رخصت طلب کی باہر آکر اسکے تانگے والے کو دو گھنٹوں کا کرایہ ادا کیا اور اس عورت کو اپنے دوست کی موجودگی میں کہا، تمہیں اتنا خیال ہونا چاہیے کہ تم نے تانگہ لے لیا ہے اور تمہارے پاس ایک کوڑی بھی نہیں۔
وہ کھسیانی ہو گئی” میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بڑے اچھے آدمی ہیں۔ ”
” میں بہت برا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بڑی اچھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل سے ریڈیو اسٹیشن آنا شروع کر دو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری آمدن کی صورت پیدا ہو جائیگی یہ بکواس جو تم نے شروع کر رکھی ہے اسے ترک کر دو۔
میں نے اسے مزنگ کے پاس چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دوست چا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتفاقاً مجھے ایک کام سے وہاں جانا پڑا۔
دیکھا کہ میرا دوست اور وہ عورت اکٹھے جا رہے تھے۔
یہ بھی لاہور کا واقعہ ہے
چند روز ہوئے میں نے اپنے دوست کو مجبور کیا کہ وہ مجھے دس روپے دے اس دن بنک بند تھے اس نے معذوری کا اظہار کیا لیکن جب میں نے اس پر زور دیا کہ وہ کسی نہ کسی طرح یہ دس روپے پیدا کرے اسلیے کہ مجھے ایک علت پوری کرنا ہے جس سے تم بخوبی واقف ہو تو اس نے کہا ” اچھا ” میرا ایک دوست ہے وہ غالباً اسوقت کافی ہاؤس میں ہو گا وہاں چلتے ہیں امید ہے کام بن جائے گا۔
ہم دونوں تانگے میں بیٹھ کر کافی ہاؤس پہنچے مال روڈ پر بڑے ڈاکخانے کے قریب ایک تانگہ جا رہا تھا اس میں نسواری رنگ کا برقع پہنے ایک عورت بیٹھی تھی اسکی نقاب پوری کی پوری اٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تانگے والے سے بڑے بے تکلف انداز میں گفتگو کر رہی تھی ہمیں اسکے الفاظ سنائی نہیں دیے لیکن اسکے ہونٹوں کی جنبش سے جو کچھ معلوم ہونا تھا ہو گیا۔
ہم کافی ہاؤس پہنچے تو عورت کا تانگہ بھی وہیں رک گیا میرے دوست نے اندر جا کر دس روپوں کا بندوبست کیا اور باہر نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ عورت نسواری برقعے میں جانے کس کی منتظر تھی۔
ہم واپس گھر آنے لگے تو رستے میں خربوزوں کے ڈھیر نظر آ گئے ہم دونوں تانگے سے اتر کر خربوزے پرکھنے لگے۔
ہم نے باہم فیصلہ کیا کہ اچھے نہیں نکلیں گے کیونکہ انکی شکل و صورت بڑی بے ڈھنگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اٹھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی نسواری برقع تانگے میں بیٹھا خربوزے دیکھ رہا ہے۔
میں نے اپنے دوست سے کہا ” خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے ابھی تک یہ نسواری رنگ نہیں پکڑا۔”
اس نے کہا ” ہٹاؤ جی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب بکواس ہے۔
ہم وہاں سے اٹھ کر تانگے میں بیٹھے میرے دوست کو قریب ہی ایک کیمسٹ کے ہاں جانا تھا وہاں دس منٹ لگے باہر نکلے تو دیکھا کہ نسواری برقع اسی تانگے میں بیٹھا جا رہا تھا۔
میرے دوست کو بڑی حیرت ہوئی، یہ کیا بات ہے؟ یہ عورت کیوں بیکار گھوم رہی ہے؟
ہمارا تانگہ ہال روڈ کو مڑنے ہی والا تھا کہ وہ نسواری برقع پھر نظر آیا میرے دوست گو کنوارے ہیں لیکن بڑے زاہدان کو جانے کیوں اکساہٹ پیدا ہوئی کہ اس نسوارے برقعے سے بڑی بلند آواز میں کہا” آپ کیوں آوارہ پھر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئیے ہمارے ساتھ”
اسکے تانگے نے فوراً رخ بدلا اور میرا دوست سخت پریشان ہو گیا جب وہ نسواری برقع ہمکلام ہوا تو اس نے اس سے کہا۔ ” آپکو تانگے میں آوارہ گردی کرنے کی کیا ضرورت ہے میں آپ سے شادی کرنے کیلئے تیار ہوں۔
میرے دوست نے اس نسواری برقعے سے شادی کر لی۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیوں کہ میں نے اب سوچنا شروع کر دیا ہے
  • پاکستانی بچوں کا تحفظ
  • معاون اور میں
  • کیا جوڑے آسمان پر بنتے ہیں؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یزید
پچھلی پوسٹ
نجات

متعلقہ پوسٹس

حویلی

دسمبر 15, 2019

جستجوِ صبحِ نو

دسمبر 15, 2024

حاملہ خواتین اور غذائی مشکلات

جولائی 13, 2025

احادیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے

ستمبر 15, 2023

خوبصورت انعام

اگست 14, 2025

خسارے کی اجازت

اکتوبر 24, 2025

مولوی عبدالحق اور اُردو زبان

ستمبر 13, 2025

تاریخ کے وارث – پہلی قسط

جنوری 17, 2025

راجدھانی کو پرنام

جون 14, 2020

اللہ کے محبوب اور مقرب بندوں سے نسبت

دسمبر 6, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہ پریشانی مبارک ہو!

اکتوبر 29, 2025

مقصد ِحیات

جون 27, 2022

مشکل وقت میں کیا کریں؟

مئی 11, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں