خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےاودھ کی شام
اردو افسانےاردو تحاریرقرۃ العین حیدر

اودھ کی شام

قرةالعین حیدر کا ایک اردو افسانہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 3, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 3, 2020 0 تبصرے 411 مناظر
412

اودھ کی شام

عجیب __ بے حد عجیب__ تو تم میرے ساتھ نہیںناچوگی__ نہیں۔ کیوں کہ تم انگریز ہو۔ اور اعلیٰ خاندانوں کی ہندوستانی لڑکیوں کا فوجیوں اور خصوصاً امریکن اور انگریز فوجیوں کے ساتھ رقص کرنا بڑی ویسی بات ہے اور جو دیوزاد سا فوجی پچھلے آدھ گھنٹہ سے برابر تمہارے ساتھ لڑھک رہا ہے وہ تو ہندوستانی ہے اور میرے چچا کا دوست ہے ۔ تم ہندوستانیوں میں آپس میں بڑی محبت ہے __ اور کیا ہئی __ ارے جم تم تو انگریز ہو ۔ فرنگی__ سفید فام، چقندر یا شلجم۔ ایک تم خوب صورت ہو تو کیا ہوا۔ تمہارے بھائی بند تو چقندروں ایسے ہوتے ہیں سارے کے سارے بڑی بے ایمان قوم ہے تمہاری۔ اب تمہیں کان پکڑ کر ہم نکال دیں گے__ کہ تشریف لے جائیے آپ گھر کو روتے ہوئے۔ کیوں کہ بھائی ہم کو توآزادی ملنے والی ہے۔ سمجھے۔ ارے یہ بال روم میں پالیٹکس کس بد مذاق نے چھیڑ دی۔ ارے جم تم اس کی کچھ مت سننا۔ یہ بڑی وہ ہے۔ مسلم لیگر بڑی سخت۔ یہ تمہیں بتائے گی کہ جناح ایشیا کا سب سے بڑا آدمی ہے۔ جم اگر ہندوستان کو سمجھنا چاہتے ہو تو میں تمہیں کتابیں دوں گی پڑھنے کو۔ ٹیگور کی گیتان جلی اورنیتا جی کی سوانح عمری۔ اس کے علاوہ رامائن اور مہا بھارت بھی کافی مفید ہے۔ اس سے کرما اور نروان اور مکتی کے سب راز عیاں ہوجائیں گے۔ چودہ طبق روشن ہوجائیں گے تم پر__ اور بھئی جم ہم تو کسی غیر ملکی سے بات بھی کرنا روا نہیں رکھتے۔ اور کیا __ لیکن تمہاری بات ذرا دوسری ہے۔ اسی لیے تمہیں ہم نے مدعو کیا ہے کیوں کہ تم ایک لارڈ کے لڑکے ہو اور میرے بھائی کے ساتھ آکسفرڈ میں پڑھ چکے ہو اور اس طرح کے نہیں ہو جس طرح کے تمہارے ہم وطن نظر آتے ہیں اور تم بے حد خوب صورت اور دل کش ہو۔ تمہاری سبز آنکھوں میں رومان، افسردگی، بے کسی ، شرارت، سب کی ملی جلی لہریں تیرتی رہتی ہیں۔ مجھے تمہاری آنکھیں بہت پسند ہیں لیکن اس کے باوجود میں تمہارے ساتھ رقص نہیں کروں گی۔ تمہارا لہجہ بہت عمدہ ہے۔ تم پہلے انگریز ہو جو صحیح اور اچھے تلفظ کے ساتھ انگریزی بول سکنے کے علاوہ کسی ٹھوس اور سنجیدہ موضوع پر دیر تک آسانی سے گفتگو کر سکتے ہو۔ تم سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولے اڑاتے ہوئے کورنل وائلڈ کے سے انداز میں کہتے ہو کہ ہندوستان کے دو ہفتے کے قیام میں تم جن تین چار ہندوستانی لڑکیوں سے ملے انہوں نے تم کو بہت زیادہ امپریس کیا۔ وہ بہت عمدہ ہوتی ہیں۔ ان کے دماغ میں ideas ہیںاور وہ چین کی خانہ جنگی اور کمیونزم اور انڈونیشیا کی آزادی پر لمبی لمبی ثقیل بحثیں اسی خوب صورتی کے ساتھ کرتی ہیں جس خوب صورتی کے ساتھ وہ مانی پوری اور کتھک اور رمبا کرتی ہیں۔ ان کے انداز میں لوچ اور گفتار میں شیرینی ہے۔ ان کے قہقہے جل ترنگ جیسے ہوتے ہیںاور ان کے لباس گویا مرقع چغتائی کے نقرئی اوراق کھول دیئے گئے ہوں۔ ہم نے تمہاری ان باتوں کو بہت پسند کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگریز ہوتے ہوئے بھی تم نے بال روم میں فلور پر سب سے پہلے میرے رو پہلے غرارے کو نوٹس کیا تھا۔ تو تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ تم لکھنؤ میں ہو جہاں شامِ اودھ ہوتی ہے۔ یہ اودھ در اصل ایک بڑی رومینٹک سی سلطنت تھی__ تاریخ کے سنہرے صفحات پلٹو تو معلوم ہوگا اور اس کے بادشاہ اوپیرا اور سنگیت سبھاؤں میں راجہ اندر اور جوگی بنا کرتے تھے۔ بڑے نالائق اور نکمّے تھے وہ لوگ۔ جبھی تو یہ جگمگاتی ہوئی پرستان جیسی سرزمین ان سے چھین لی گئی۔ اور یہ جو بے کار اور بے مصرف سے تعلقہ داران کے زمانے کی یاد گار باقی رہ گئے ہیں ان کی ریاستیں اور زمینیں ہماری نئی جمہوری اور نمائندہ حکومت اب بے چارے مظلوم کسانوں کو دے دے گی کیوں کہ یہ جنتا راج کا نیا زمانہ ہے۔ آیا خیالِ شریف میں تمہارے ؟ اور تم نے اوما کی مرہٹی اسٹائل کی ساری کی بہت تعریف کی تھی اورکہا تھا کہ اس طرح کی ایک ساری تم اپنی بہن کے لیے دلایت لے جاؤ گے۔ تو وہ بھی کیا یاد کرے گی۔ بے چاری۔ اور تمہیں زینت کے جوڑے میں سجے ہوئے زرد اور بنفشی پھول بے حد آرٹسٹک نظر آتے تھے۔ دراصل بالوں میں پھول سجانے کا ہم لوگوں کو ایک خاص فن آتا ہے کیوں کہ ہندوستان پھولوں‘ خوشبوؤں اور نغموں کا ملک ہے۔ سمجھے؟ ارے کیا ہندوستان ہندوستان چلّا رہی ہو۔ ابھی گئی تھیں ملک کی واحد قومی جماعت کے خلاف الیکشن میں حصہ لینے۔ لیگ کی ایجنٹ کہیں کی۔ جم میں تم سے کہہ جو رہی ہوں کہ اس سے پولیٹکس کی باتیں نہ کرو۔ یہ تمہیں اپنے پاکستان کا مطلب بھی نہیں سمجھا سکے گی۔ آج تک نہیں سمجھا پائی۔ اور پاکستان ہوجائے گا۔ مس حیدر! تو آپ سے ملنے کے لیے پہلے پاسپورٹ حاصل کرنا پڑے گا۔ یعنی بھئی اگر لاہور جانا ہے تو پہلے پاسپورٹ بنواتے پھرو‘ پھر محصول ادا کرو۔ بڑی طوالت ہوگی۔ بے وقوفی کی باتیں مت کرو۔ آنند۔کتنے چغد ہو۔ یہ تھوڑا ہی ہوگا۔ چلونا چیں۔ والٹر کے لیے ہال کی روشنیاں مدھم کردی گئیں۔ پاکستان کے متعلق بعد میں طے کرتے رہیں گے__ عجیب__ بے حد عجیب__ کیا بات ہے جم۔ تمہاری آنکھوں میں پھر وہی جھلک لہرا اٹھی جیسے چڑیا کا ایک معصوم چھوٹا سا بچہ سخت کرب اور بے چینی میں مبتلا ہو اور بے بسی کے مارے تڑپ بھی نہ سکے۔ تم اپنی کرسی پیچھے سرکا کر ایک طرف کو کیوں جھک گئے جب کہ والٹر کا ایک پیارا سا نغمہ اپنی پوری دلآویزی کے ساتھ بج رہا ہے اور مرمریں فلور پر رقصاں جوڑے ہال کے کناروں پر بکھری ہوئی میزوں اور کرسیوں کے قریب سے تیزی کے ساتھ چکّر کاٹتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ غرارے اور ساریاں اور سائے۔ جاؤ تم بھی ناچواور ناچتے ہوئے انسانوں کے اس متحر ک اور رنگا رنگ جو ار بھاٹا میں کھو کربھول جاؤ کہ تم کہاں ہو اور کس سے باتیں کر رہے ہو۔ ہم لوگوں سے ملتے وقت تمہیں سوچنے کی عادت بالکل چھوڑ دینی چاہیے۔ جب اپنے ویلز کی شکار گاہوں کو واپس جاؤ گے اس وقت تمہیں کافی فرصت ہوگی کہ ہمارے کمینے پن، احسان فراموشی اور جنسی اور دوسری غلاظتوں کا اپنی عظمت ، اپنی اعلیٰ تہذیب اور اپنی چاک کی سفید پہاڑیوں اور نیلے سمندروں کی خوب صورتی سے موازنہ کر کے ایک کتاب لکھ ڈالو۔ کہاں تک لڑے جاؤ گی بھائی! اس سے متعارف ہوئے ابھی تمہیں ایک گھنٹہ بھی نہیں ہوا اور تم لڑتے لڑتے اس کا دماغ چاٹ گئیں__ وہ بے چارہ اپنے ہم قوموں کی پچھلی نالائقیوں پر سخت شرمندہ اور نادم اور پشیماں ہے اور اس کی سبز آنکھوں میں وہی رومان، غمگینی، بے کسی اور شرارت کی ملی جلی لہریں جھلملا رہی ہیں اور اس کے معصوم اور بہادر برطانوی دل میں صرف یہی ایک خواہش ہے کہ تم اس کے ساتھ ایک آخری والٹر کرلو کیوں کہ کل صبح ہندوستان کو آزادی ملنے والی ہے اور اسے کان سے پکڑ کر تمہارے گھر سے نکال دیا جائے گا اور رات گہری ہوتی جارہی ہے اور آرکیسٹرا کی اسٹیج کے نیچے بھاری زرد پردوں کے سائے میں نیلگوں مرمریں فرش پر کیبرے کی دو سفید فام لڑکیوں نے شب کا آخری ناچ شروع کردیا ہے اور ہال کے بڑے بڑے اور چوڑے دریچوں کے باہر خوابیدہ فضاؤں میں ’’ گڈنائٹ ماری‘‘ کے اداس سر لرز رہے ہیں۔ جم کی آنکھیں نیند سے جھکی جارہی ہیں۔ جم تم خواب کیوں دیکھتے ہو؟ تمہیں خواب نہیں دیکھنے چاہئیں۔ انگریز ہمیشہ جاگتا رہتا ہے۔ وہ صرف مشین گن چلانا جانتا ہے۔ تم بھی بڑے جھوٹے ہو۔ پوزیئر ہو بڑے زبردست۔ تم غلط کہتے ہو کہ تمہیں اس پر اسرار سرزمین سے عشق ہے جس میں ٹیگور کے گیت ہیں اور اودے شنکر کا ناچ ہے اور ہمالیہ کی برفانی بلندیاں اور نیلوفر سے بھی بھری ہوئی وادیاں ہیں__ اور__ اور جہاں کی سیاہ آنکھوں والی لڑکیاں اپنے بالوں میں زرد اور بنفشی پھول سجاتی ہیں اور رو پہلے غرارے پہنتی ہیں۔ یہ سب غلط ہے، جھوٹ ہے، دھوکا ہے بہت بڑا۔ یہاں پر صرف گندگی ہے اور غربت اور بے مزگی اور زندگی کا ناگوار، ناقابلِ برداشت بوجھ۔ زندگی کا کوئی مقصد نہیں، کوئی مصرف نہیں۔ اس یک رنگی، اس بے کیفی، اس خستگی اور اُکتاہٹ کے شدید احساس کو تم نہیں سمجھ سکتے۔ تم مے فیئر کے نیلگوں ایئر کنڈیشنڈ بال روم میں بیٹھ کر ہندوستان سے اظہارِ ہمدردی کرنا چاہتے ہو۔ تم گدھے ہو بہت اعلیٰ قسم کے ۔ سمجھے؟ اودھ کی شام بہت کالی اور بہت خنک رات میں تبدیل ہوگئی ہے اور مے فیئر کی گیسٹ نائٹ اختتام پر ہے۔ تمہاری پلکیں خوابوں کے بوجھ سے جھکی جارہی ہیں۔ زینت کے بالوں کے زرد پھول مرجھا کر فرش پر گر چکے ہیں جنہیں روندتے ہوئے ہم ابھی نیچے چلے جائیں گے، ہم سب کے سب اور یہ جگمگاتا ہوا رقص کا ایوان خالی ہوجائے گا اور اس کی تیز برقی روشنیاں ایک ایک کر کے بجھادی جائیں گی اور آج کی رات کے بعد ہم سب تمہیں بھول جائیں گے۔ یہ سیاہ فام مدراسی کارٹونسٹ، جو ایک کونے میں خاموشی سے اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اپنی اسکیچ بک میں تمہارے بے شمار پروفائل بنا چکا ہے، اور یہ خوب صورت اور ڈیشنگ اور مغرور ہمارے ہاں کے روزانہ انگریزی اخبار کا ایڈیٹر‘ اور آنند، ریڈیو کا یہ پروگرام ڈائریکٹر، جو انگریزی میں شاعری کرتے کرتے سب کو بور کردیتا ہے اور اوما جو ایڈی لیمار کی طرح حسین ہے اور تمہیں پورن برھما کا فلسفہ سمجھانے کی کوشش میں اپنی ساری شام ضائع کرچکی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ وہ اگلی اتوار کے پانیر کے میگزین سیکشن میں تمہارے متعلق ایک کہانی لکھے گی۔ اور زینت ، جوسپرانو ہے، اورمیرے بھائی کی منگیتر، وہ تمہاری یاد میں ایک گیت کمپوز کرنے والی ہے اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا ہے کہ میں تمہاری ایک تصویر بناؤں گی اور اس میں تمہاری آنکھوں کے لیے آسمان کی نیلاہٹ اور کشمیر کی گل پوش جھیلوں کی سبزی اور چاند کی بھیگی بھیگی کرنوں کی جھلملاہٹ کے رنگ استعمال کروں گی اور آنند اپنی انگریزی نظموںکا جو مجموعہ لندن سے شائع کروا رہا ہے اس میں تمہارے اوپر بھی چند شعر شامل کرے گا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ کل صبح کے بعد جب کہ تم ہندوستان سے جاچکے ہوگے، تم اس آسانی اور اطمینان کے ساتھ فراموش کردیئے جاؤگے جس آسانی اور اطمینان سے زندگی کی اور بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیںاور واقعات بھلا دیئے جاتے ہیں۔ در اصل یہ سب بے کار کی باتیں ہیں۔ تم نے ہماری تصویروں کی تعریف کی، ہمارے رقص دیکھے، ہماری موسیقی کو پرکھا لیکن یقین جانوں کہ ہماری تصویریں، ہمارے افسانے اور ہمارے ناچ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جب زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے تو ان چیزوں کا کیا ہوسکتا ہے۔ کوئی Endہی نہیں تو Meansکی بہتری یا افادیت میں سر کھپانے کی کیا ضرورت ہے۔ تمہارے میٹر آف فیکٹ برطانوی دماغ کے لیے ذرا انوکھی باتیں ہیں نا؟ ہم سب تمہارے لیے بہت انوکھے ہیں‘ اوما اور زینت اور میں__ سارے کے سارے ۔ ہمارا فلسفہ بھی انوکھا ہے جسے ہم confusionism کا فلسفہ کہتے ہیں۔ جو بہترین ہے اور انتہائی مفید۔ زندگی جس طرح بھی سامنے آئے اُسے اپنا لو۔ نرالا فلسفہ ہے نا۔ ہر نرالی چیز ہی تو دل چسپ ہوتی ہے ورنہ تم اس وقت یہاں نہ ہوتے۔ یہ انسانیت کی لڑائی بے حد انوکھی تھی جس کی وجہ سے تم ویلش قلعے اور اپنی پہاڑی شکار گاہوں اور اپنا لارڈ باپ کو کشنوں پر سر ٹیکے لیبر گورنمنٹ کے بجٹ پر نکتہ چینی کرنے کے لیے چھوڑ کر اس وقت یہاں مے فیئر بال روم میں بیٹھے ویدانت کے فلسفے اور پاکستان کے جواز سے الجھنے کی کوشش میں مصروف ہو۔ یہ زندگی اور یہ شامیںبالکل نرالی ہیں جن میں آنے والے قحط اور مسٹر ہو ور کے اپنے اپنے اندیشے ظاہر کرنے کے بعد اپنی میزوں پر سے اٹھ اٹھ کر رقص میں گھومتے گھومتے متواتر پانچ چھ گھنٹے گزرجاتے ہیں اور ہم بالکل نہیں تھکتے۔ اوما انتہائی انوکھی لڑکی ہے کہ اعتقاداً سخت ہندو ہونے کے باوجود ایک مسلمان سے شادی کر کے غرارہ پہن کر سلام علیکم کہتی ہے اور میں شاید اس سے بھی زیادہ انوکھی ہوں کہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی جے ہند اور نمسکار کر لیتی ہوں جب کہ تمہیں بتایا گیا ہے کہ ہم لوگ بازاروں میں ایک دوسرے کے گلے کاٹ ڈالتے ہیں۔ ’’ گوڈسیو دی کنگ‘‘ بجنا شروع ہوگیا ہے۔ جم فوراً کھڑے ہوجاؤ۔ تم میرے ساتھ ان باتوںمیں اس قدر محو ہوگئے کہ تمہیں اس کا بھی خیال نہیں رہا۔ ہم لوگ نیچے جارہے ہیں۔ اپنے نیشنل اینتھم کے بعدنیچے آکر پورٹیکو میں ہم سے رخصت ہولینا کیوں کہ رات بھیگی جارہی ہے اور سفیدے کے درختوں کے پیچھے سے ابھی چاند طلوع نہیں ہوا ہے اورتمہیں معلوم ہونا چاہیے جم کہ اندھیری راتوں میں ہم لڑکیوں کو خواہ مخواہ ڈرلگا کرتا ہے۔ رات خاموش ہے اور ہماری کار تیزی سے مے فیئر کے پورٹیکو کی نیلگوں اور خنک دھندلی روشنیوں کو پیچھے چھوڑتی آرہی ہے۔ دور لامارٹیز کالج کی پر شکوہ فرانسیسی عمارتوں کا سیاہ عکس ان کی سیڑھیوں کے نیچے سوتی ہوئی جھیل پر لرز رہا ہے۔ چپ چاپ اور بے حس! اور سکندر باغ، دل کشا اور بنارسی باغ کے وسیع سبز مخملیں میدان، اور سفیدے کے جنگل ، مدھم چاندنی کے سنّاٹے میں سائیں سائیں کر رہے ہیں اور گومتی کے شان دار موتی محل برج کے کنارے دریا پر جھکی ہوئی سرخ پتھر کی ایک شہ نشین پر آسمان کے مقابلے میں سلہٹ سا نظر آرہا ہے اور اس کے سامنے چھتر منزل خاموشی اور غرور سے آدھی رات کے آسمان کی طرف اپنی طلائی چھتری بلند کیے اپنی رقص گاہ کی روشنیاں اپنے قدموں میں بہتی ہوئی گومتی کی سطح پر پھینک رہی ہے۔ یہ اودھ کی رات کا نقشہ ہے اور جم تم چند گھنٹوںبعد ان راتوں سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجاؤ گے اور تمہارا ڈیکوٹا طیارہ گومتی اور سر جو اور گنگا کی روپہلی لکیروں کے اوپر سے گزرتا، انہیں نیچے چھوڑتا ہوا دور مغربی سمندروں کے اونچے بادلوں میں کھو جائے گا۔ آدھی رات کا پرند پھر چلّا اٹھا ہے۔ چاروں طرف دور دور تک پھیلی ہوئی خوابیدہ کائنات پر پرستان کا سحر چھا رہا ہے۔ دریچے کے باہر، شریفے کے درختوںکی دوسری جانب سڑک کے کنارے وہ پرانا شاہی پھاٹک خاموشی سے ایستادہ ہے اور اس کی اوپر کی منزلوں اور شہ نشینوں میں مدھم روشنیاں جھلملا رہی ہیں۔دور چوکی دار باغ کی رکھوالی کرتے کرتے چلّا اُٹھتا ہے۔ ہَو ہَو ہَو __ لا لا لا __ اور اس کے برہا کی آواز بازگشت دیر تک گومتی کی روپہلی ریتوں پر گونجتی رہتی ہے اورایریل کے بانس پر بیٹھے ہوئے چنڈول کی تیز آواز رات کے سنّاٹے کو کاٹتی ہوئی اندھیرے کی وسعتوں میں پھیلتی جارہی ہے۔ چنڈول ذات کے لحاظ سے الّو کے چھوٹے بھائی کی ایک قسم ہے۔ جم بھی الّو کا چھوٹا بھائی ہے۔ اور مجھے یاد ہے کہ اس نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر‘ خدا حافظ کہتے وقت‘ کار کا دروازہ بند کرنے سے پہلے، جھک کر میرے غرارے کے پائنچے سمیٹ کر اندرا اٹھانے میں میری مدد کرتے ہوئے، جوفٹ بورڈ پر گرے جارہے تھے، اگلی سیٹ پر مسز رحمن کو سگریٹ کا دھواں اڑاتے دیکھ کر مجھ سے چپکے سے کہا تھا کہ اسے عورتوں کا سگریٹ پینا بالکل پسند نہیں اور وہ اپنی بہنوں کو بھی سگریٹ نہیں پینے دیتا کیوں کہ وہ امریکن نہیں انگریز ہے اور انگریز بہت قدامت پرست ہوتے ہیں اور رات کے دو بجنے والے ہیں اور فرش پر برقی چولھے کے قریب کافی کی پیالیاں بے ترتیبی اور اکتاہٹ کے انداز میں منتشر ہیں۔ ابھی بہت پڑھنا ہے کیوں کہ امتحان میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔ کیا کریں گے اتنا پڑھ کر جانے۔ پرانے زمانے کے بادشاہوں کا وہ پھاٹک اندھیرے میں زیادہ بلند، زیادہ ہیبت ناک اور زیادہ خوب صورت نظر آرہا ہے جس کی خوب صورتی اور عظمت سے دل میں ایک نا قابلِ بیان خوف سا محسوس ہوتا ہے اور جس کی عظیم الشان محرابوں کے نیچے سے دن بھر یو۔ ٹی۔ سی۔ کے جیپ اور لائبریری کو جانے یا وہاں سے واپس آنے والی لڑکیوں کے گروہ گزرتے رہتے ہیں اور میں پڑھنے کے بجائے تصویریں بنا رہی ہوں اور زینت کہتی ہے کہ تم تصویریں کیوں بناتی ہو۔ مت بنایا کرو تصویریں ، بلکہ کوئی اور مفید کام شروع کردو۔ مثلاً باورچی خانے کے باغ میں گو بھی کی کیاریاں تیار کرو تاکہ زیادہ غذا پیدا کی جاسکے اور گورنمنٹ ہاؤس کی ٹی پارٹیوں میں گورنر صاحب کی میم صاحب ہم لوگوں کی زیادہ تعریف کیا کریں اور زینت اکنومکس کی موٹی موٹی کتابوں کو قالین پر پھینک کر اپنی پیانو کی کاپی کے ورق اُلٹتے ہوئے سلام کا کوئی شعر گنگنا رہی ہے: میں اگر زندہ ہوں پھر شامِ اودھ آئے گی یا جانے کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم سب چُغد ہیں۔

قرةالعین حیدر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • از جہانِ گم گشتہ
  • ایک اہم بات جو کہنے جا رہا ہوں
  • دیہات کے مسائل
  • ہر چٹھی ایک ہی پتے پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایں دفتر بے معنی
پچھلی پوسٹ
رقصِ شرر

متعلقہ پوسٹس

قیامت کی نشانیاں

اپریل 1, 2023

لذتِ نفس کی غلام عورت

نومبر 27, 2024

ایک ایسی سوچ

جنوری 1, 2023

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

نئے دھان سے پہلے

جون 15, 2020

آخری ہدایت

جنوری 4, 2022

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

مارچ 5, 2020

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

جون 2, 2023

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

مارچ 11, 2021

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پروفیسر رشید حسن خان

ستمبر 16, 2025

رنگ برنگے لوگ

دسمبر 28, 2019

بدترین جانوروں کا مسکن

دسمبر 13, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں