پاکستان میں گھریلو تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر برسوں بات تو کی گئی مگر سنجیدہ قانون سازی کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہی۔ حالیہ منظور ہونے والا گھریلو تشدد سے متعلق قانون اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ قانون صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، خاندانی ڈھانچے اور طاقت کے توازن پر ایک گہرا سوال بھی ہے۔
ہمارے معاشرے میں تشدد کو عموماً صرف جسمانی مار پیٹ تک محدود سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ ذہنی دباؤ، تحقیر، مسلسل خوف میں رکھنا، مالی طور پر محتاج بنا دینا اور جذباتی اذیت بھی تشدد کی وہ شکلیں ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں مگر انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ نئے قانون کی سب سے اہم بات یہی ہے کہ اس نے تشدد کی ان خاموش شکلوں کو بھی قانونی دائرے میں شامل کیا ہے۔
اس قانون کے بعض نکات پر شدید بحث بھی ہو رہی ہے، خاص طور پر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی کو جرم قرار دینے کا پہلو۔ ناقدین کے مطابق یہ شق خاندانی تنازعات کو عدالتوں تک لے جانے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ دھمکی بھی ایک نفسیاتی ہتھیار ہے جو برسوں خواتین کو خاموش رکھنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف رائے کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں کہ الفاظ بھی زخم دیتے ہیں۔
یہ قانون اس وقت اسلام آباد تک محدود ہے، جو بذات خود ایک اہم نکتہ ہے۔ اگر گھریلو تشدد ایک قومی مسئلہ ہے تو پھر تحفظ بھی یکساں ہونا چاہیے۔ صوبائی اور وفاقی قوانین کے فرق نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ شہری حقوق جغرافیے کے تابع کیوں ہوں۔ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے انصاف کا معیار مختلف ہونا خود انصاف کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔
قانون سازی اپنی جگہ، مگر اصل امتحان اس پر عملدرآمد ہے۔ پولیس، عدلیہ اور متعلقہ اداروں کی تربیت کے بغیر یہ خدشہ موجود رہے گا کہ قانون یا تو کمزور طبقے تک پہنچ ہی نہ سکے یا
پھر غلط استعمال کا شکار ہو جائے۔ ہمارے ہاں پہلے ہی انصاف کا نظام دباؤ، اثر و رسوخ اور تاخیر کا شکار ہے۔ اگر ان مسائل کو حل کیے بغیر نئے قوانین متعارف کرائے جائیں تو نتائج وہی رہتے ہیں جو پہلے تھے۔
ایک اہم پہلو سماجی ردعمل بھی ہے۔ ہمارا معاشرہ گھریلو معاملات کو نجی مسئلہ سمجھتا ہے اور بیرونی مداخلت کو ناپسند کرتا ہے۔ یہ قانون اسی سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے معاشرے کو ذہنی طور پر اس تبدیلی کے لیے تیار کیا ہے۔ قانون لوگوں کے رویے بدلنے کا آغاز تو کر سکتا ہے مگر مکمل تبدیلی مکالمے، آگاہی اور تربیت سے ہی آتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قانون پر مذہبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ان خدشات کو نظر انداز کرنے کے بجائے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ قانون اگر اعتماد کے بغیر نافذ کیا جائے تو اس کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا راستہ تصادم نہیں بلکہ فہم اور بات چیت سے نکلتا ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا یہ قانون گھریلو تشدد کا خاتمہ کر سکے گا۔ شاید مکمل طور پر نہیں۔ مگر یہ ایک واضح پیغام ضرور دیتا ہے کہ تشدد کو اب نجی معاملہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قانون ہمارے ضمیر کے سامنے رکھا گیا ایک آئینہ ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس آئینے میں خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
یوسف صدیقی
