خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآبنائےہرمز وارڈ ، ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم لوھار
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

آبنائےہرمز وارڈ ، ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم لوھار

از سائیٹ ایڈمن مارچ 20, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 20, 2026 0 تبصرے 45 مناظر
46

shahid naseem chaudhry

عالمی سیاست میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سربراہ بھی کچھ اس انداز میں بات کرتا نظر آتا ہے جیسے محلے کا وہ لڑکا جو اپنے دوستوں کو کھیل میں شریک کرنے کے لیے پہلے منتیں کرتا ہے اور جب کوئی نہ مانے تو کہتا ہے: “اگر تم نہیں کھیلو گے تو میں بھی کھیل بند کر دوں گا!” حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے بارے میں دیا گیا بیان کچھ اسی نوعیت کا محسوس ہوتا ہے۔اور ا
ٹرمپ صاحب نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اس اہم سمندری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بظاہر یہ بیان ایک بڑی عالمی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے چھپی بے بسی اور عالمی سیاست کے بدلتے ہوئےabnay harmaz توازن کی جھلک بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ٹرمپ کی بے بسی پر فوک سنگر عالم لوہار اور ڈونلڈٹرمپ میں ایک قدر مشترک نظر آرہی ہے،جس پر آگےچل کربات کرتے ہیں پہلے آبنائے ہرمز پر بات کرلیں۔۔۔کیونکہ سیاق و سباق کو سمجھ کر آپ ذیادہ انجوائے کریں گے۔۔۔۔،
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والا بیشتر تیل اسی راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی معیشت کا تیل بھی بند ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہر دور میں بڑی طاقتیں اس خطے پر نظر رکھتی آئی ہیں۔ مگر اس بار معاملہ کچھ مختلف ہے۔
امریکا نے اپنے اتحادیوں سے کہا کہ وہ اپنے جنگی جہاز اس علاقے میں بھیجیں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ نام بھی بڑے بڑے تھے: جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک سے امریکا کو فوری “جی حضور” کی امید تھی، وہاں سے جواب کچھ اس قسم کا آیا جیسے شادی میں کسی کو اچانک ڈانس کے لیے کہا جائے اور وہ فوراً کہہ دے: “ہم صرف دیکھنے آئے ہیں، ناچنے نہیں!”
اطلاعات کے مطابق فرانس، برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے اس معاملے میں کھل کر ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے یا کم از کم ایسا کوئی اعلان نہیں کیا جس سے ٹرمپ کی خواہش پوری ہوتی نظر آئے۔ گویا امریکا نے ڈھول بجایا مگر جلوس میں لوگ کم نکلے۔
یہ صورتحال امریکی صدر کے لیے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہوگی۔ کیونکہ برسوں تک دنیا یہ دیکھتی آئی ہے کہ امریکا جب بھی کوئی آواز لگاتا تھا تو کئی ممالک فوراً صف میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکن اب منظر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی سیاست کی بساط پر نئے مہرے حرکت میں آ چکے ہیں اور پرانے بادشاہ کو اب ہر چال میں پہلے جیسی طاقت محسوس نہیں ہو رہی۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اگر نیٹو ممالک تعاون نہ کریں تو اتحاد کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، بظاہر ایک سخت وارننگ ہے۔ مگر سننے والوں کو اس میں وہی کیفیت محسوس ہوئی جیسے کوئی دوست کہے: “اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تم سے دوستی ختم کر دوں گا!” اور سامنے والا مسکرا کر کہے: “ٹھیک ہے، کل پھر بات کریں گے۔”
نیٹو دراصل مغربی دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحاد ہے، جس کی بنیاد سرد جنگ کے زمانے میں رکھی گئی تھی۔ اس اتحاد کا مقصد سوویت یونین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس اتحاد نے کئی جنگوں اور تنازعات میں کردار ادا کیا۔ مگر اب دنیا کی سیاست وہ نہیں رہی جو 1990 کی دہائی میں تھی۔
آج چین ایک بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے، روس اپنی جگہ پر کھڑا ہے، اور کئی ممالک اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ خود مختار رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اسی لیے امریکا کی ہر اپیل پر فوری عمل درآمد کا زمانہ شاید ماضی بن رہا ہے۔
اس سارے معاملے میں ایران کا موقف بھی کم دلچسپ نہیں۔ تہران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی آئل بردار جہاز کو نہیں روکا جائے گا—بشرطیکہ ادائیگی چینی کرنسی یوان میں کی جائے۔ ورنہ راستہ بند بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بیان بظاہر ایک اقتصادی شرط ہے، مگر اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کے درمیان کرنسی کی جنگ کی جھلک بھی موجود ہے۔ اگر تیل کی ادائیگی ڈالر کے بجائے یوان میں ہونے لگے تو اس کا اثر عالمی مالیاتی نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس پوری کہانی میں صرف جہاز ہی نہیں بلکہ کرنسیاں بھی سفر کر رہی ہیں۔
ٹرمپ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ امریکا تقریباً سات ممالک سے اس معاملے پر بات چیت کر رہا ہے۔ یہ بات سن کر بعض تجزیہ کاروں کو وہ منظر یاد آیا جب کوئی شخص محلے میں کرکٹ ٹیم بنانے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے: “بھائی آج میچ ہے، آؤ نا!” اور جواب آتا ہے: “آج نہیں، کل دیکھیں گے!”
اسی دوران امریکی صدر نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ممکنہ ملاقات میں تاخیر کا اشارہ بھی دیا ہے۔ گویا عالمی سفارتکاری بھی اب “اگر تم آئے تو ہم آئیں گے” کے اصول پر چلتی نظر آ رہی ہے۔
یہ ساری صورتحال ایک دلچسپ سوال بھی اٹھاتی ہے: کیا واقعی دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟ یا یہ صرف ایک وقتی سفارتی کھچاؤ ہے؟
بعض ماہرین کے مطابق امریکا اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے اور اس کے پاس بے شمار وسائل موجود ہیں۔ مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی ہے کہ کئی ممالک اب اپنے فیصلے زیادہ آزادانہ انداز میں کرنے لگے ہیں۔
فرانس اور جرمنی جیسے یورپی ممالک اکثر ایسے معاملات میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں جہاں انہیں لگے کہ تنازع بڑھ سکتا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا بھی خطے کی حساس صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری عسکری قدم اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔
اسی لیے ٹرمپ کی اپیل پر فوری ردعمل سامنے نہ آنا شاید کسی بڑی بغاوت کا نہیں بلکہ عالمی احتیاط کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ مگر سیاسی طنز نگاروں کے لیے یہ صورتحال یقیناً ایک دلچسپ منظر فراہم کر رہی ہے۔
تصور کیجیے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ٹرمپ فون اٹھا کر ایک ایک ملک کو کال کر رہے ہیں:
“ہیلو، کیا آپ ہرمز میں جہاز بھیج سکتے ہیں؟”
جواب آتا ہے: “ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔”
دوسری کال:
“آپ بھیج سکتے ہیں؟”
جواب: “ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔”
تیسری کال:
“آپ کا کیا خیال ہے؟”
جواب: “ہمیں پارلیمنٹ سے مشورہ کرنا ہوگا۔”
یوں لگتا ہے جیسے عالمی سفارتکاری کا یہ میچ بارش کی وجہ سے بار بار ملتوی ہو رہا ہو۔
دوسری طرف ایران کا یوان والا اعلان اس کہانی میں ایک نیا موڑ لے آیا ہے۔ اگر واقعی کچھ ممالک یوان میں ادائیگی کرنے لگیں تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار اسے صرف ایک سمندری تنازع نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شطرنج کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
البتہ اس سارے منظر میں طنز کا پہلو بھی کم نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب امریکا دنیا بھر میں فوجی اتحادوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور اس کی ہر اپیل کو حکم سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب حالات ایسے ہیں کہ اتحادی بھی سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہے ہیں۔
ٹرمپ کی نیٹو کو دی گئی دھمکی بھی کچھ ایسی ہی محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی استاد کلاس سے کہے: “اگر تم نے شور بند نہ کیا تو میں کلاس چھوڑ کر چلا جاؤں گا!” اور طلبہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیں۔
بلاشبہ عالمی سیاست سنجیدہ معاملات سے بھری ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی اس میں ایسے مناظر بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو سیاسی طنز نگاروں کے لیے مواد کا خزانہ بن جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھی یہی ہوا ہے۔ ایک طرف امریکا اپنے اتحادیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری طرف اتحادی محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، اور تیسری طرف ایران اپنی شرطیں پیش کر رہا ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے عالمی سیاست کا یہ ڈرامہ تین مختلف اسکرپٹ کے ساتھ چل رہا ہو—اور ہدایت کار ابھی فیصلہ نہ کر پایا ہو کہ آخری منظر کیا ہوگا۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ اس پورے معاملے نے دنیا کو یہ ضرور دکھا دیا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں طاقت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ سفارتی اعتماد سے بھی آتی ہے۔ جب اتحادی مکمل اعتماد کے ساتھ ساتھ کھڑے ہوں تو اتحاد مضبوط رہتا ہے، ورنہ بڑے سے بڑا اتحاد بھی سوالوں کے گھیرے میں آ سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکا واقعی اپنے اتحادیوں کو قائل کر پاتا ہے یا نہیں۔ اور یہ بھی کہ ایران کی یوان والی پیشکش عالمی معیشت میں کوئی نئی بحث چھیڑتی ہے یا نہیں۔
فی الحال تو منظر یہی بتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کھلی ہے، مگر عالمی سیاست کی گزرگاہ میں ٹریفک جام سا لگ گیا ہے—اور اس جام میں سب سے زیادہ بے چینی شاید اسی گاڑی کے ڈرائیور کو ہو رہی ہے جس پر “امریکی جھنڈالگا ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست اب محض طاقت کے اظہار کا نام نہیں رہی بلکہ مفادات کے باریک توازن کا کھیل بن چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی بے بسی،بے چینی، اتحادیوں کی خاموشی، اور ایران کی معاشی شرط—یہ سب مل کر ایک نئے عالمی بیانیے کو جنم دے رہے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں فیصلے بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ کرنسی کی قدر سے طے ہو رہے ہیں۔ اگر واقعی یوآن اس کھیل میں مضبوطی سے داخل ہو گیا تو یہ صرف ایک معاشی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نقشے میں بڑی دراڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
اور مزاح کا پہلو یہ ہے کہ جس دنیا کو کبھی امریکا نے اپنے اشاروں پر چلایا، آج وہی دنیا شائستگی سے کہہ رہی ہے:“معذرت۔۔۔ہم آپ کی بات سمجھتے ہیں… مگر ہم نے اپنے مفاد کو بھی دیکھنا ہے!”یوں لگتا ہے کہ اس بار شطرنج کی بساط پر صرف چالیں ہی نہیں بدلیं،بلکہ کھیل کے اصول بھی آہستہ آہستہ نئے لکھے جا رہے ہیں۔۔۔۔، آئیے اب بات کرتےہیں عالم لوھار اور ڈونلڈ ٹرمپ میں مشترک قدر کی۔۔۔۔اس موقعہ پر عالم لوہار اور ڈونلڈ ٹرمپ میں جوقدرمشترک نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ جب عظیم فوک سنگر عالم لوہار ایکسیڈنٹ کے بعد ہسپتال پہنچتے ہیں تو وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود عملہ نرس وغیرہ نے بار بار بلانے پر بھی ان پر کوئی توجہ نہ دی۔۔۔۔ تو عالم لوہار نےوارڈ میں ہی گانا گایا۔۔۔۔واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے۔۔۔کسے نے میری گل نہ سنی۔۔۔اب ٹرمپ بھی” آبنائے ہرمز وارڈ ” میں اپنے بڑے اتحادیوں جاپان ،سپین،آسٹریلیا اور برطانیہ وغیرہ کو بار بار بلانے اور ساتھ دینے کی اپیل پر ان کی طرف سے لال جھنڈی دکھانے اور توجہ نہ دینےکے بعد ان کے بارے یہی الفاظ دہرا رہا ہے ۔۔۔، واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے۔۔کسے نے میری گل نہ سنی۔۔۔،

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سلام اُن حیدرِ کرار کے
  • دودھ کی قیمت
  • فاختہ کی چونچ میں دانہ
  • انسانی حقوق کا المیہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا
پچھلی پوسٹ
عید مبارک

متعلقہ پوسٹس

بھگت سنگھ کون ہے؟

اکتوبر 27, 2020

گھر کی اصل طاقت

جون 5, 2026

ماڈل ٹاؤن

فروری 13, 2022

ابھی ذوق پرواز باقی ہے!

جون 17, 2022

احترام رمضان

اپریل 11, 2021

لائیسنس

جنوری 12, 2020

توبۃ النصوح – فصل ششم

اکتوبر 30, 2020

سرنڈر

جون 21, 2026

تجھے لکھتے جان جاں

دسمبر 8, 2021

رجو

جنوری 3, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کراچی کیلئے تخریبی پیکیجز

اکتوبر 23, 2022

ہم کمزور نہیں ہیں !

جون 27, 2022

جس باغ کا پودا ہے ادھر...

مارچ 1, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں