خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکرنل حبیب ظاہر کا غیاب
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

کرنل حبیب ظاہر کا غیاب

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 52 مناظر
53

جب کوئی شخص اچانک لاپتہ ہوتا ہے، تو صرف اُس کی موجودگی ہی نہیں جاتی، بلکہ اس کے ساتھ جُڑے خواب، وعدے، تشخص اور اُس سے وابستہ سماجی رشتے بھی ایک ان دیکھی خلا میں گم ہو جاتے ہیں۔ مگر جب لاپتہ ہونے والا فرد ایک سابق فوجی افسر ہو، جس نے عمر بھر وطن کے لیے خدمات انجام دیں ہوں، تو وہ خلا صرف ذاتی یا خاندانی نہیں رہتا۔ وہ قومی وقار کے ماتھے پر ایک سوال بن کر ابھرتا ہے۔

ایسا ہی ایک سوال اپریل 2017 سے آج تک ہمارے اجتماعی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد حبیب ظاہر، جنہیں نیپال میں ایک ”جعلی انٹرویو“ کے بہانے سے بلا کر اغوا کر لیا گیا، اب کئی برسوں سے غائب ہیں۔ وہ ایک سلجھے ہوئے، تجربہ کار، محبِ وطن افسر تھے۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد جب انہوں نے عام زندگی کی طرف قدم بڑھایا، تو شاید وہ یہ نہ جانتے تھے کہ جس دنیا کو وہ محفوظ اور واضح سمجھ رہے ہیں، وہ اصل میں کتنی مبہم اور خطرناک ہو چکی ہے۔
انہیں نیپال کے شہر لمبینی میں ”Start Solutions“ نامی ایک کمپنی نے نوکری کی پیشکش کی۔ لنکڈ اِن پروفائل، ای میلز اور دیگر تمام ذرائع نہایت باقاعدہ اور پیشہ ور دکھائی دیتے تھے۔ وہ پاکستان سے روانہ ہوئے، کٹھمنڈو پہنچے، پھر بھیروا ائرپورٹ اور وہاں سے لمبینی۔ ہوٹل میں قیام بھی کیا، ملاقات بھی ہوئی۔ مگر اس کے بعد خاموشی نے اُن کے وجود کو نگل لیا۔ فون بند، کمپنی غائب، ویب سائٹ حذف، اور کوئی بھی ایسا در نہ بچا جس پر دستک دی جائے۔

ریاستِ پاکستان نے رسمی طور پر نیپالی حکومت، اقوامِ متحدہ، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کیا۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ پر شبہ ظاہر کیا گیا، جس کی حمایت بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس نے بھی کی۔ کئی مبصرین نے اسے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا ممکنہ ”جوابی ردعمل“ قرار دیا۔ مگر ان تمام خدشات اور اشاروں کے باوجود، حقیقت کی تہہ میں جانے کے دروازے بند ہی رہے۔

یہ معاملہ کئی سطحوں پر ہماری اجتماعی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ریاستی ادارے، جن سے توقع تھی کہ وہ کسی بھی پاکستانی شہری کی حفاظت کے ضامن ہوں گے، وہ اس معاملے میں ایک رسمی روایتی بیانیہ سے آگے نہ بڑھ سکے۔ عالمی ادارے، جن کا کام انسانی حقوق کی پاسداری ہے، انہوں نے بھی خاموشی کو ترجیح دی۔

لیکن اس سے زیادہ افسوسناک پہلو عوامی ردِعمل ہے۔ ایک وقت تھا جب کوئی فوجی افسر زخمی ہوتا تو شہر کی فضا سوگوار ہو جاتی۔ اب ایک فوجی افسر کا لاپتہ ہونا صرف ایک ”خبر“ بن کر رہ گیا۔ ٹی وی چینلز پر وقتی تبصرے، سوشل میڈیا پر چند جذباتی پوسٹس، اور پھر ایک اجتماعی بھول۔ ہم بطور قوم ان واقعات سے کتنی جلدی کٹ جاتے ہیں، جیسے ہمیں اس المیے سے کوئی جذباتی نسبت ہی نہیں۔ کیا ہم اس درجے بے حسی کے عادی ہو چکے ہیں کہ ایک محبِ وطن شخص کی گمشدگی پر ہمارا اجتماعی ضمیر بھی ساکت رہے؟

یہ گمشدگی صرف کرنل حبیب کا جسمانی غیاب نہیں، بلکہ ہمارے شعور کی خاموشی، ہمارے احساس کی بے بسی، اور ہماری ریاستی مشینری کی غیر فعالیت کا استعارہ بھی ہے۔ ہم نے اس واقعے کو ایک ’فائل‘ کی صورت میں دفنا دیا۔ بغیر اس کے کہ ہم نے یہ پوچھا ہو کہ ایسا کیوں ہوا، اور کل کو ایسا کسی اور کے ساتھ کیوں نہ ہو گا؟

کرنل صاحب کے اہلِ خانہ آج بھی منتظر ہیں۔ ان کے بیٹے، ان کی اہلیہ، ان کے دوست، سب آج بھی اس امید پر ہیں کہ شاید کوئی خبر آئے، شاید ریاست بیدار ہو، شاید سفارت کاری میں کوئی جنبش ہو، شاید کوئی صحافی اس معاملے پر توجہ دے، شاید کوئی آواز اس خاموشی کو چیر دے۔

لیکن وقت گزر رہا ہے، اور ہر گزرنے والا دن ہمارے حافظے سے نہ صرف کرنل صاحب کا نام دھندلا رہا ہے بلکہ یہ بھی دکھا رہا ہے کہ ہم کتنی تیزی سے انسانوں کی بجائے اعداد و شمار کی قوم بن گئے ہیں۔

یہ تحریر اُن کے لیے ایک پکار ہے۔ اُن کے اہلِ خانہ کے لیے ایک تسلی، اور خود اپنے لیے ایک تازیانہ۔ کہ ہم نے ایک فرد کو نہیں کھویا، ہم نے اپنی حساسیت، اپنے اداروں پر اعتماد، اور اپنے اجتماعی شعور کی آنکھ کو کھو دیا ہے۔

اگر ہم واقعی زندہ قوم ہیں، تو ہمیں اس سوال کا پیچھا کرنا ہو گا: کرنل حبیب کہاں ہیں؟

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سچی حکایات
  • آن لائن شاپنگ کی دراز رسی
  • زخم جب سینے کو مہکا نے لگا
  • بدن کو تیرگی میں بو رہا ہوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود
پچھلی پوسٹ
نہ سنوائی، نہ تحفظ

متعلقہ پوسٹس

رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا

مئی 20, 2020

تیرا وعدہ جھوٹا نکلا

مئی 14, 2020

تمہارے ہاتھ پیلے ہو رہے ہیں

جون 25, 2025

کرونا سے مکالمہ

مارچ 22, 2020

مریم مختیار

نومبر 25, 2025

مدیانور کا بڑا تیندوا

نومبر 23, 2019

یوگا – جسم اور ذہن کے سکون کا سفر

اگست 29, 2025

کچھ باتیں ضروی ہیں

ستمبر 12, 2025

نقشِ ہستی

دسمبر 22, 2024

علامہ اقبال اور ایران

نومبر 1, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کہاں حالات پر کچھ بس ہمارا...

مئی 4, 2020

اپنے بارے میں جانتی ہے وہ

مئی 28, 2020

سفر نامہ بھارت – پہلی قسط

نومبر 2, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں