خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےپرگتی
اردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر نور ظہیر

پرگتی

ڈاکٹر نور ظہیر کا ایک اردو افسانہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 316 مناظر
317

آنندی نے ماسٹر رول بالکل اوپر سے پڑھنا شروع کیا۔ یہ تیسری بار تھا۔ گاؤں کا نام بانگئی بیڑا، بلاک انگڑا۔ عورت کا نام بھی وہی تھا — جاموئی دیوی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے چھریرے بدن، سانولے رنگ اور سفید دانت والا چہرہ گھوم گیا۔ جس دن وہ گاؤں میں پہنچی تھی اسی دن ملاقات ہوئی۔ گاؤں خالی تھا، پتہ چلا سب تالاب کھودنے گئے ہیں۔ سب سے نیچے ایک عورت تسلے میں پتھر بھر رہی تھی۔
”کتنے بھرے گی؟“ اس نے حیرت سے پوچھا۔
”جتنے اٹھا سکے گی۔“ اس نے لاپرواہی سے جواب دیا۔
پورا تسلا سر پر اٹھاکر تالاب کی گہرائی سے چڑھتی، پھر بہت دور جاکر پتھر پھینک کر آتی ہوئی جاموئی کو اس نے ڈرتے ڈرتے روک کر پوچھا — ”سنو، میں تم لوگوں کو پڑھانے آئی ہوں۔“
وہ صرف انکار سننے کے لیے تیار تھی مگر جاموئی نے کہا تھا — ”ایک لالٹین لگے گی۔“ اس کے چہرے پر حیرانی دیکھ کر بولی — ”رات کو پڑھیں گے۔“
”رات کو پڑھاکر میں واپس کیسے جاؤں گی؟“ اس نے پوچھا تھا۔
”مت جانا، ہمارے یہاں رہنا۔“ اس وقت آنندی کو اپنے دوستوں کی چیتاؤنی بھی یاد آئی تھی — ”آدی واسی چھیتر میں مت جانا۔ وہاں کون پڑھنا چاہتا ہے۔ آدی واسی چاہتے ہی نہیں کہ وہ اُنّتی کریں۔“
اسے غصہ آیا تھا۔ ایک تو سرکار انھیں مفت پڑھائے اوپر سے ان کے ناز نخرے بھی سہے۔
سب کچھ وہی تھا، تو پھر ڈیٹا کیسے صحیح ہوسکتا تھا، اس نے نیچے تک نظر دوڑائی۔ تقریباً سارے نام جانے پہچانے لگے۔

اس بات کو چار سال ہوگئے تھے۔ اس بار آنندی نریگا کا سروے کروا رہی تھی۔ نریگا، جو گاؤں میں روزگار کے مطلب بدل دے گا۔ جس سے ہجرت بند ہوجائے گی۔ ہر خاندان کو 100 دن کام ملے گا۔ غریبی ریکھا کے نیچے جینے والے لوگوں کی تعداد کم ہوجائے گی۔ ماسٹر رول پر، کام کرنے والوں کے نام کے ساتھ ان کو دی گئی ایک دن کی نیونتم دیہاڑی اور ان کے انگوٹھے کا نشان۔ سرکار کی طرف سے ضروری لکھا پڑھی۔ لیکن اس نے اپنے این جی او کے کاریہ کرتاؤں سے ہر مزدور کا شکچھا استر بھی درج کرنے کے لیے کہا تھا۔

آنندی نے پانچ چھ مہینے کے ماسٹر رول جانچنے شروع کیے۔ پورے گاؤں کا حساب لکھا تھا۔ ہر مزدور نے جتنے بھی دن کام کیا تھا اتنے دن کے پیسوں کی پراپتی اور آگے انگوٹھے کی چھاپ۔ شکچھا استر کے کالم میں کاریہ کرتا کے ہاتھ سے لکھا تھا — ”نرکچھر۔“

لیکن جاموئی دیوی کو تو اس نے خود پڑھایا تھا۔ چار سال پہلے جب وہ سروشکچھا ابھیان کی ’والنٹیئر‘ بن کر انگڑا بلاک، ضلع رانچی میں آئی تھی۔ صرف جاموئی دیوی ہی نہیں، بونگئی بیڑا کی ساری عورتوں کو، گھر گھر جاکر، انہی کے گاؤں میں چھ مہینے رہ کر انھیں شاکچھر کیا تھا۔ جاموئی دیوی تو چھ ماہ میں تیسری کی کتاب پڑھنے لگی تھی۔ آنندی کو کتنی آشا تھی کہ ایک دن وہ اپنے گاؤں کی گرام سیویکا بنے گی۔ ہنس مکھ، دلیر، پرانے تانبے کی رنگت اور گٹھیلے مضبوط شریر والی جموئی، جو پیٹھ پر چالیس کلو کی بوری اٹھائے، یوں بتیاتی ہوئی چلتی تھی جیسے بالوں میں پھولوں کا گجرا باندھے ہو۔
جس نے ہسیہ اتارکر، اس تیندوئے کے منہ میں گھسا دی تھی جو ان کی طرف تاک کر ان پر جھپٹا تھا۔ جسے صاف سفید ساڑھی پہن کر، کالے بالوں کے کسے ہوئے جوڑے میں، لال جبہ پھول باندھ کر، رات بھر ناچنے کا شوق تھا۔

آنندی نے اپنے ’ڈک بیک‘ کا جھولا اٹھایا، بٹوئے میں پیسے دیکھے اور بس سٹاپ کی طرف چلی۔ بھلا ایسے کیسے اپنی محنت کا نکارا جانا سہہ لیتی؟

گلی کے موڑ سے جاموئی دیوی کی اونچے کنٹھ کی جھنکار بھری آواز آرہی تھی۔ شاید کسی کو تھوڑا ڈانٹ کر کچھ سمجھا رہی تھی۔ آنندی زور سے پکاری — ”جاموئی!“بیچ کے چار سال نہ جانے کہاں کھو گئے۔ جاموئی دوڑتی ہوئی آئی اور اس سے لپٹ گئی۔ پھر بنا کچھ کہے اپنے کھپریل کی چھت والے، مٹی کے کچے گھر کی طرف لپکی۔ آنندی کے پہنچنے سے پہلے وہ سیتل پاٹی کا ایک ٹکڑا لیے ہوئے باہر آگئی اور جھک کر بچھانے ہی لگی تھی کہ اچانک ٹھٹھکی۔ سکوچائی سی، ایک جگہ کھڑی آنندی کو دیکھا اور پھر جیسے سب کچھ سمجھ کر نظریں جھکا لیں۔

ان دونوں نے مل کر اس بلاک کو ساکچھر کرنے کا سپنا دیکھا تھا۔ کتنا کچھ سیکھا تھا مہانگر کی جنمی اور وہیں پلی بڑھی آنندی نے یہاں۔۔۔خالی زمین پر بیٹھنا، سیتل پاٹی پر چادر بچھائے بنا سونا، تالاب میں کپڑے پہنے ہوئے نہانا، بنا ترکاری سبزی کے نمک کے ساتھ چپچپاتا بھات نگلنا اور اسے کھانا کہنا۔ مہانگر کی سطحی زندگی کو کاٹ کر پھینک پائی تھی وہ اس گاؤں کے سہارے اور بدلے میں کیا دیا تھا؟ کیول ساکچھرتا! اس بھروسے پر کہ شکچھت جن جاتیاں خود اپنے لیے ترقی کی راہ کھوج لیں گے اور جو راہ، جو ڈگر یہ خود کھوجیں گے وہی ان کی ترقی کی اصلی راہ ہوگی۔ سوچی سمجھی، جانی پہچانی، سویم کی سرجن کی ہوئی پرگتی۔ اس انّتی میں جس کا بھی یوگدان تھا، اسے کیوں واپس لوٹا دیا گیا تھا؟ آنندی کو ایسا لگ رہا تھا جیسے جاموئی نے اس کے وجود کو ہی نکار دیا ہو۔ دکھ اور پیڑا سے وہ بلبلا اٹھی تھی۔
”کیوں جاموئی؟ اس طرح کا جھوٹ کیوں؟“

جاموئی نے سوال نہ سمجھنے کی ڈھکوسلے بازی میں وقت ضائع نہیں کیا۔
”آدی واسی کو بٹھاکر کون کھلائے گا؟ کام تو کرنا ہی پڑتا ہے۔“
”نریگا کا کام تو کھلا ہے نہ پنچایت میں، اور پڑھنے کا کام سے کیا سمبندھ ہے جو اسے چھپانا پڑے۔“
”ساکچھر کو کام نہیں دیتے۔ کنواں کھودو، تالاب کھودو، سڑک بناؤں، سرکار ایک دن کا 82 روپے دیتی ہے۔ تین فٹ نیچے پتھر نکل آتا ہے اسے پھوڑنے کا پچیس روپیہ اور ملنا چاہیے۔ نہیں دیتے۔ کھدی ہوئی مٹی پتھر کو دور پھینکنے کا پچیس روپیہ اور ملنا چاہیے۔ نہیں دیتے۔ ایک دن کا 82 بھی نہیں دیتے۔ ہاتھ میں بس چالیس آتا ہے۔ ساکچھر ہو تو یہ سب دھوکہ دھڑی پر شاید آپتّی کرو، اپنا جائز حق مانگوگے، شاید آندولن کر دو، آواز اٹھاؤ، گٹ بنالو، بلاک میں عرضی دے آؤ۔ اس لیے ساکچھر کو کام نہیں دیتے۔ ہر جگہ گہار لگاکر دیکھ لیا، کچھ فرق نہیں پڑتا۔ گھر سے پانچ میل دور بھی کام کرنے کی کوشش کی۔ ساکچھر ہو، یہ جانتے ہی بات بند۔“
”نریگا کا کام تو پنچایت پردھان کو ملا ہوگا۔“ اس نے کہا۔

ایک اداس سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی — ”جہاں آدی واسی کو لوٹنے کی بات ہو وہاں کوئی اپنا نہیں ہوتا — میٹ، پردھان، بی ڈی او، سب کو کہہ کر دیکھ لیا۔ کام نہیں تو بھات نہیں، نمک نہیں، گھاٹو بھی نہیں۔ کیا کریں؟ نرکچھر بن کر ایک سمے کھائیں یا ساکچھر ہونے کا ڈنکا پیٹ کر بھوکے مریں؟“

اپنی میز کے ٹھیک سامنے بڑے اکچھروں کے پوسٹر کو آنندی دیر تک تاک رہی تھی۔ امرتیہ سین کا کوٹیشن تھا — ’سکچھت لوگ خود پرگتی کا مارگ کھوج لیں گے، اپنا بھوشیہ طے کریں گے۔‘ آنندی نے ہمیشہ اس کوٹیشن کا پورا وشواس کیا تھا۔ آج پہلی بار اسے اس کی سچائی پر شک ہورہا تھا۔

 

ڈاکٹر نور ظہیر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تاریخ کے وارث – چوتھی قسط
  • جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ
  • خزاں کی مسکراہٹ
  • میری منگیتر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹرانجٹ کی زندگی
پچھلی پوسٹ
بس اسٹینڈ

متعلقہ پوسٹس

بیٹیاں نا قابل برداشت بوجھ !

جنوری 14, 2021

نوجوان اور رہنمائی

مارچ 4, 2026

دو سانحات اور برڈباکس

اکتوبر 2, 2020

برطانیہ – بچوں کے تحفظ کا اصل سوال

جنوری 19, 2026

غسل خانہ

فروری 5, 2020

کرکٹ، سیاست اور فلسطین!

نومبر 7, 2023

محبت، روح اور بنکاک کا سفر

دسمبر 31, 2024

گرم کوٹ

جنوری 17, 2020

موسیقی کی حرمت

جون 29, 2020

آن لائن گیمز ۔ نسلوں کی تباہی

مئی 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہماری کلاسیکی غزل کی شعریات

مئی 27, 2024

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب...

ستمبر 6, 2024

جگرنرخ کے ٹکڑے

دسمبر 30, 2013
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں