100
دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا
کہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیا
جہاں سے میں نے کیا تھا کبھی سفر آغاز
میں خاک دھول ہوا لوٹ کر وہیں آیا
وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی
ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا
بس ایک بار مری نیند چھو گیا کوئی
پھر اس کے بعد ہر اک خواب دل نشیں آیا
بچھڑ کے تجھ سے تری یاد بھی نہیں آئی
مکاں کی سمت پلٹ کر مکیں نہیں آیا
فہیم شناس کاظمی
