خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجج صاحب سیاست میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

جج صاحب سیاست میں

از سائیٹ ایڈمن نومبر 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 15, 2025 0 تبصرے 64 مناظر
65

پاکستان کی سیاست ہمیشہ سے عدالتوں کے ارد گرد گھومتی آئی ہے۔ کبھی فیصلے سیاست کو نئی سمت دیتے ہیں اور کبھی سیاست عدالتی فیصلوں کے وزن کو بدل دیتی ہے۔ مگر حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والا منظر نامہ ان تمام مناظر سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججز منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے ایسے وقت میں استعفے پیش کیے جب ملک ایک نئے آئینی تنازعے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ان استعفوں نے عدالت کی دیواروں میں لرزہ پیدا کر دیا ہے اور ریاستی اداروں کے توازن پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اگر کوئی جج برسوں اہم آئینی فیصلوں کا حصہ رہے اور پھر ایک سیاسی ماحول کی شدت کے دوران استعفی پیش کر دے تو ضروری ہے کہ اس کے محرکات پر نظر ڈالی جائے۔ ہمارے نظام میں جج صرف فیصلے نہیں دیتے بلکہ ان کے فیصلے ملک کا بیانیہ طے کرتے ہیں۔ کبھی ایک فیصلہ ریاست کے ستونوں کو سہارا دے دیتا ہے اور کبھی ایک فیصلہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں دراڑ ڈال جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو ججوں کے استعفے محض ذاتی فیصلے نہیں بلکہ ریاستی نظام کے لئے ایک بڑا واقعہ ہیں۔

اطہر من اللہ کے ماضی پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ کئی مقدمات میں انہوں نے ایسی رعایتیں دیں جن پر نہ صرف عوام نے سوالات اٹھائے بلکہ قانونی ماہرین نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔ خاص طور پر ان مقدمات میں جہاں بیرون ملک بیٹھے افراد پاکستان کے اندر شدت سے سیاست کرتے تھے یا ریاستی اداروں پر زبان درازی کو معمول بنا چکے تھے۔ عدالت کے فیصلوں کا مقصد ہمیشہ انصاف کا راستہ کھولنا ہوتا ہے مگر جب رعایتیں اس انداز میں دی جائیں کہ ملکی بیانیہ متاثر ہو تو سوالات اٹھنا قدرتی بات ہے۔ ایسے حقائق اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے کہ عدالت کے بعض فیصلے براہ راست سیاسی بیانیے کو سہارا دیتے رہے۔

منصور علی شاہ کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ وہ زبان و بیان میں مہارت رکھتے ہیں اور آئینی مباحث میں خود کو اصول پسندی کا نمائندہ قرار دیتے آئے ہیں مگر عدالتی تاریخ میں اصول پسندی صرف تقریروں اور تحریروں سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل امتحان فیصلوں میں ہوتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ انہوں نے خود ان ترامیم پر برسوں کوئی واضح اختلاف نہیں دکھایا جنہیں وہ آج عدلیہ پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف اچانک بدل گیا یا سیاسی فضا نے ان کے اندر نیا ضمیر جگا دیا یہ سوال عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں۔

عدالت کا کام سیاسی میدان کو سنبھالنا نہیں ہوتا۔ یہ کام پارلیمنٹ کا ہے۔ مگر جب کسی جج کے فیصلے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ترجمانی کرتے دکھائی دینے لگیں تو ریاست کا توازن ڈگمگانے لگتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ان دونوں ججوں کے استعفے ایک خاص سیاسی جماعت کے ہاں جشن کے طور پر اور ریاستی اداروں کے اندر تشویش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ کیا یہ ایک جج کے شایان شان ہے کہ اس کا استعفی کسی جماعت کی فتح قرار دیا جائے یا اس کی رخصتی کو سیاسی فائدہ سمجھا جائے۔ عدلیہ اگر اس نہج تک پہنچ جائے تو یہ پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان میں عدلیہ پر عوام کا اعتماد پہلے ہی کئی بحرانوں سے گزر چکا ہے۔ کبھی نظریہ ضرورت نے عدالت کی عزت کو آلودہ کیا اور کبھی طاقتور حلقوں کے دباؤ نے فیصلوں کا رخ بدلا۔ مگر موجودہ صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے دو اہم جج خود میدان چھوڑ کر ایک ایسا منظر بنا گئے ہیں جس سے عدلیہ کے وقار پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اگر انصاف کی کرسی چھوڑنے والے ہی سیاسی بیان چھوڑ کر جائیں تو عام آدمی کس دروازے پر جا کر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عدلیہ کے اندر ہمیشہ سے دو دھڑوں کی لڑائی موجود رہی ہے۔ ایک وہ جج جو خود کو ریاست کے ضامن سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جو سیاسی ہوا کے رخ کے مطابق چلتے ہیں۔ اس استعفے نے اس تقسیم کو مزید واضح کر دیا ہے۔ اب ہر باخبر قاری یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا یہ استعفی اصول کی خاطر تھا یا ایک مخصوص جماعت کی غیر علانیہ حمایت کا نتیجہ۔ کیا عدلیہ کی دیواروں میں موجود دراڑیں خود بخود بڑھ رہی ہیں یا انہیں بڑھانے میں کچھ ہاتھ مصروف ہیں۔

یہ کالم کسی شخصیت کی دشمنی پر نہیں بلکہ اصول کی بات کرتا ہے۔ اصول یہ کہ کوئی جج سیاسی نقشہ سازی میں حصہ دار نہیں بن سکتا۔ وہ آئین کا محافظ ہے اور آئین اسے غیر جانب داری کا پابند بناتا ہے۔ اگر جج خود سیاسی بیانیہ بننے لگیں تو انصاف کا پلڑا کبھی برابر نہیں رہ سکتا۔

اب ضرورت ہے کہ عدلیہ اپنی صفوں میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لے۔ شفافیت بڑھائے۔ فیصلوں کو اصولی بنیادوں پر استوار کرے۔ پارلیمنٹ کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ عدلیہ اور سیاست کی ٹکر ہمیشہ ملک کے لئے زہر ثابت ہوئی ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام درکار ہے جہاں عدالتیں سیاست سے پاک ہوں اور سیاست عدلیہ سے خوفزدہ نہ ہو۔

آخر میں قوم کے ذہنوں میں صرف ایک سوال گونج رہا ہے۔ کیا ان ججوں نے واقعی آئین کی حفاظت کے لئے اپنے عہدے چھوڑے یا یہ استعفے ایک سیاسی بیانیے کو طاقت دینے کے لئے پیش کیے گئے۔ قوم کو اس سوال کا جواب ملنا چاہیے کیونکہ عدلیہ کا وقار محفوظ رہے گا تو ریاست مضبوط رہے گی۔

یوسف صدیقی

۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا اتنا کافی ہے؟
  • شب ہے، مگر افق پہ ستارہ نہیں کوئی
  • اردو بازار کے بزنس ٹائیکون
  • تہذیب کا جنازہ اور ڈیجیٹل بدتہذیبی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کسی دن آؤ
پچھلی پوسٹ
بھلا اجڑے گھروندوں سے

متعلقہ پوسٹس

روشنی کی پناہ

دسمبر 13, 2024

راجندر بیدی کے اسلوب

دسمبر 18, 2019

آہ! محمد سلیم اختر

فروری 14, 2020

یہ کس نے کہا خواب سہانے نہیں آتے

نومبر 4, 2021

دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں اک للکار سے

اگست 15, 2020

کورونا کی لہروں میں ڈولتی دنیا!

اپریل 11, 2021

یکساں نگارِ دہر میں ہر ایک رنگ ہے

اکتوبر 26, 2025

گرم کوٹ

جنوری 17, 2020

عملی محبت

ستمبر 20, 2020

عشق سے مَیں ڈَر چُکا تھا, ڈَر چُکا تو تم...

ستمبر 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رتی، ماشہ، تولہ

جنوری 12, 2020

اچھی کتاب

دسمبر 4, 2019

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک

نومبر 12, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں