105
بھلا اجڑے گھروندوں سے رفاقت کون چاہے گا
وفا کے ذوق والوں سے محبت کون چاہے گا
جنون_ عشق پر اس نے بڑے احرام باندھے تھے
چلو اب دیکھتے رہنا خیانت کون چاہے گا
یہاں سب عہدے کے بھوکے کوئی پروا نہیں ان کو
سکندر ہو وطن کا جو سیاست کون چاہے گا
جو یوں پھرتے ہیں شہروں میں یہاں سب ہی منافق ہیں
بھلا ظالم لٹیروں سے عبادت کون چاہے گا
لکھا ہے کیا لکیروں میں پھریں کیوں دربدر تنہا
بھلا بے دین لوگوں سے تجارت کون چاہے گا
غزل کی آڑ میں میں نے حسیں جو خواب بیچے ہیں
مرے اس دل کی دھڑکن کی کتابت کون چاہے گا
کویتا غزل مہرا
