108
سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا
اب کیا کروں علاج دل داغدار کا
اس سے مجھے ملاؤ کہ مرتا ہوں ہجر میں
باعث ہے زندگی کا مری وصل یار کا
صیاد اب تو چھوڑ دے آتی ہے فصل گل
دیکھوں گا ہائے کیوں کہ تماشا بہار کا
شاید تمہارے دیں میں ہے اے دلبرو روا
دل چھین لینا عاشق سینہ فگار کا
شبنم نہیں ہے برگ کے اوپر چمن کے بیچ
آصفؔ گرا ہے اشک کسی بے قرار کا
آصف الدولہ
