442
میں اپنی خاک گراتا رھا سمندر میں
اور ایک دشت بناتا رہا سمندر میں
نمک کا ذائقہ مٹی کو خوش نہ آتا تھا
میں اپنے اشک ملاتا رہا سمندر میں
اسی کے پیر کی زنجیر ہو گیا پانی
جو دوسروں کو بچاتا رہا سمندر میں
نمو پذیر اب اس کی ہتھیلیوں میں ہوں میں
جو میری راکھ بہاتا رہا سمندر میں
میں ناؤ کھینچتا ساحل پہ آگیا اسعد
ادھورا گیت بلاتا رہا سمندر میں
