486
مسکراتی ہوئی میری تصویر
آگ میں اس نے پھینک دی تصویر
کاغزی کشتیوں میں رکھے گئے
کاغذی لوگ کاغذی تصویر
میں نے کھولی تھی باغ کی کھڑکی
اور ٹیبل سے گر پڑی تصویر
دونوں دھندلے دکھائی دیتے ہیں
پاس کے لوگ دور کی تصویر
دور ہوتی رہی کہیں بارش
رات بھر بھیگتی رہی تصویر
رکھ گیا تھا کوئی سرہانے مرے
آپ کی چَین آپ کی تصویر
رہ گئے ہیں کسی کے بٹوے میں
آخری شعر آخری تصویر
تجدید قیصر
