352
جھلستی دھوپ میں مجھ کو جلا کے مارے گا
وہ میرا اپنا ہے چھاؤں میں لا کے مارے گا
وہ چاہتا تو مری خاک ہی اڑا دیتا
یہ کوزہ گر کی عنایت بنا کے مارے گا
اسے خبر ہے لڑائی میں ہار سکتا ہے
سو اپنا آپ وہ مجھ میں سما کے مارے گا
اس ایک خوف سے میں جنگ میں شہید ہوا
عدو کمینہ ہے طعنے خدا کے مارے گا
میں اس کے جال میں آؤں گا دیکھنا قیصرؔ
وہ مجھ کو دھوکے سے گھر میں بلا کے مارے گا
زبیر قیصر
