479
خموش رہ کر پکارتی ہے
وہ آنکھ کتنی شرارتی ہے
ہے چاندنی سا مزاج اس کا
سمندروں کو ابھارتی ہے
میں بادلوں میں گھرا جزیرہ
وہ مجھ میں ساون گزارتی ہے
کہ جیسے میں اس کو چاہتا ہوں
کچھ ایسے خود کو سنوارتی ہے
خفا ہو مجھ سے تو اپنے اندر
وہ بارشوں کو اتارتی ہے
حسن عباسی
