549
اپنے حالات سے ڈر جاتا ہوں
اب میں برسات سے ڈر جاتا ہوں
تلخی ِوصل ہے دیکھی میں نے
سو ملاقات سے ڈر جاتا ہوں
روگ ہجرت کے نظر آئیں تو
اپنے جذبات سے ڈر جاتا ہوں
تم مرا غم نہ سمیٹو گے کبھی
ایسے خدشات سے ڈر جاتا ہوں
آئنے تجھ سے خفا کب ہوں میں
بس سوالات سے ڈر جاتا ہوں
عاصم ممتاز
